Baseerat Online News Portal

خواجہ یونس قتل معاملہ

سرکاری وکیل کی عدم موجودگی کے سبب قتل میں ملوث چار پولس والوں کی ملازمت پر بحالی کے خلاف داخل پٹیشن پر سماعت ٹلی
ممبئی:26 فروری(پریس ریلیز)
خواجہ یونس قتل معاملے میں ملوث چار پولس والوں کی ملازمت پر بحالی کے ممبئی پولس کمشنر کے خصوصی حکم (آرڈر) کو چیلنج کرنے والی خواجہ یونس کی والد ہ کی جانب سے داخل سول رٹ پٹیشن پرآج ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت کو مطلع کیا گیا اس مقدمہ میں حکومت مہاراشٹر کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ ٹھاکرے نجی وجوہات کی وجہ سے آج عدالت میں موجود نہیں ہیں لہذا مقدمہ کی سماعت ملتوی کی جائے۔حالانکہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کی جا نب سے بحث کرنے کے لیئے سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی عدالت میں موجود تھے۔
عدالت کو بتایا تھاکہ خواجہ یونس کے قتل میں ملوث چاروں پولس والوں کی ملازمت پر بحالی پر اعتراض کرنے کا حق خواجہ یونس کی والد ہ آسیہ بیگم کو ہے جس نے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔
آج مقدمہ کی سماعت ممبئی ہائیکورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس کے کے تاتیڑ اور جسٹس ریاض چھاگلا کے روبرو ہوئی، عدالت نے 9 مارچ کی تاریخ اگلی سماعت کے لیئے طئے کی ہے۔
واضح رہے کہ ممبئی گھاٹکوپر بم دھماکہ معاملے میں ماخوذ کیئے گئے پربھنی کے ملزم خواجہ یونس (سافٹ وئیر انجینئر)کی پولس حراست میں ہوئی موت کے ذمہ دار پولس والوں اے سی پی سچن وازے، کانسٹبل راجندر تیواری، راجا رام نکم اور سنیل دیسائی کو سی آئی ڈی کی تحقیقات کے بعد ملازمت سے معطل کردیا گیا تھا لیکن 6 / جون2020 کو ان پولس والوں کو ملازمت پر بحال کردیاگیاجس کے خلاف خواجہ یونس کی والدہ نے جمعیۃ علماء کے توسط سے ممبئی پولس کمشنر پرم ویر سنگھ اور ہوم ڈپارٹمنٹ کو توہین عدالت کانوٹس بھیجا گیا تھا نوٹس کا جواب پولس کمشنر کی جانب سے موصول نہ ہونے پر ممبئی ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی پٹیشن اور سول رٹ پٹیشن داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔
واضح رہے کہ23 دسمبر 2002 کو خواجہ یونس کو 2، دسمبر 2002 کو گھاٹکوپر میں ہونے والے بم دھماکہ کے الزام میں گرفتارکیا تھا جس کے بعد سچن وازے نے دعوی کیا تھا کہ خواجہ یونس پولس تحویل سے اس وقت فرار ہوگیا جب اسے تفتیش کے لیئے اورنگ آبا دلے جایا جارہا تھا حالانکہ سی آئی ڈٖی نے سچن وازے کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے معاملے کی تفتیش کے بعد ان پولس والوں کے خلاف خواجہ یونس کو قتل کرنے کا مقدمہ قائم کیا تھا جو زیر سماعت ہے۔

You might also like