Baseerat Online News Portal

داعش سے مبینہ تعلق کی بنیاد پر گرفتار ضوان کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل

عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے این آئی اے سے جواب طلب کیا، اگلی سماعت 6 /مارچ کو
ممبئی: 28 فروری(پریس ریلیز)
اترپردیش کے شہر کشی نگر سے ممنوع تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) کے لئے کام کرنے اور مسلم نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس کی جانب راغب کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار رضوان احمدکی ضمانت پر رہائی کی درخواست گذشتہ کل خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل کی گئی ہے جسے عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے این آئی اے سے جواب طلب کیا ہے۔
ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے ممبئی سیشن عدالت میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت میں ضمانت عرضداشت داخل کی ہے جس میں تحریر ہے کہ ملزم کو 22جنوری 2016 کو اس کے گھر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کالج جانے کی تیار ی کررہا تھا تب سے ملزم جیل میں ہے اور دوران قید اسے تپ دق اور گلے میں گانٹ آگئی ہے جس کی وجہ سے وہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔
ضمانت عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہیکہ ستمبر 2018 میں ملزم کے خلاف چارج فریم کیا گیا لیکن ابھی تک ٹرائل کا اختتام نہیں ہوا ہے اور جس طرح مقدمہ چل رہا ہے اس کے جلد اختتام پذیر ہونے کے امکانات نہ کے برابر ہیں لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔
ضمانت عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہیکہ استغاثہ کے مطابق مفرور ملزم ایاز محمد ملک شام چلا گیا لیکن استغاثہ عدالت میں ایک بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ عرض گذار رضوان ایاز کو جانتا تھا یا وہ اس کے رابطہ میں تھانیز استغاثہ کے ذریعہ عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں ملزم کے ملاڈ کے نواجوں کو جہاد کی ترغیب دینے اور داعش کو جوائن کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ استغاثہ ملزم کے خلاف ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا ہیکہ ملزم داعش تنظیم کا نائب امام (ہندوستان) تھا بلکہ یہ ایک خیالی اور فرضی عہدہ ہے جس سے ملزم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ حال میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنے ایک فیصلہ میں کہا ہیکہ مقدمہ کی تیز سماعت ملزم کا آئینی حق ہے اور اگر مقدمہ کی تیز سماعت نہیں ہورہی ہے اور مقدمہ فیصل ہونے میں وقت درکار ہے تو ملزم کا حق ہے کہ اسے ضمانت پر رہا کیا جائے۔
واضح رہے کہ استغاثہ کا الزام ہیک ملزم ممبئی کے مالونی علاقے کے چند مسلم نوجوانو ں کو انٹرنیٹ کی مدد سے داعش میں شمولیت کے لئے اکسا رہا تھا نیز اسی کی ایماء پر 2016 میں لاپتہ ہونے والے ایک نوجوان کو ملک سے فرار ہونے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ذہن سازی کرنے کا بھی الزام ہے۔
ملزم رضوان کی ضمانت عرضداشت داخل کرنے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم 2016 سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے اور ٹرائل ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں اسی لیئے ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لیئے کوشش کی جارہی ہے۔

You might also like