Baseerat Online News Portal

قابلیت ڈگری کی محتاج نہیں ہے۔۔۔

زنیرہ اشفاق

گجرات

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ڈگریاں شخصیت سے میل نہیں کھاتی، کبھی تو شخصیت اتنی اعلی باکردار ہوتی ہے کہ ڈگریوں کو بھی چھوٹا کر دیتی ہے اور کبھی شخصیت کا کھوکھلا پن انکی مہنگی ڈگریوں کو بھی گرا دیتا ہے۔ مطلب اصل چیز قابلیت ہے اور یہی وہ جوہر ہے جس کے پاس اگر ڈگری نہ بھی ہو تو بھی وہ ہر دل عزیز بن جاتا ہے، اور ڈگریوں کی بھرمار کے باوجود اگر قابلیت موجود نہ ہو یا یوں کہیں کہ ڈگریوں کے زعم، اکڑ، تکبر کی وجہ سے قابلیت اور انسانیت فنا ہوگئی ہو تو پھر ایسی ڈگریاں محض کاغذ کا ٹکڑا بن جاتی ہے۔

سب سے پہلے ایک انسان کا اچھا ہونا ضروری ہے، اگر تعلیم اسے اچھا نہیں بناتی انسانیت کا درد اس دل میں نہیں جگاتی، ہمدردی ،رحم دلی اور خیر خواہی نہیں سکھاتی تو پھر ایسی ڈگریاں بھی بے سود ہیں بقول محترم قاسم علی شاہ صاحب “اس کے گرد ہی میلہ لگتا ہے جو فیض رساں ہو”۔

جو ڈگری آپ کے پاس بہت محنت ٹریننگ کے بعد آئی اس کا حق ہے کہ اس سے متعلق شعبے میں انسانوں کے ساتھ تو کم از کم آپ مخلص ہوں، مگر اکثر اوقات ہمارا واسطہ ایسی شخصیات سے پڑتا رہتا ہے اور یقینا آپ کا بھی مشاہدہ ہوگا جنہیں مل کر بلکہ دیکھ کر بھی ہمیں ان کے انداز اور برتاؤ کی بنا پر شک ہو جاتا ہے اور ہم سوچتے ہیں کہ شاید ہم غلط ہیں یا پھر انکی ڈگریاں، عہدہ منصب جس پر یہ بیٹھے ہیں سب دھوکہ ہے۔ عموماً گورنمنٹ کے اداروں میں تو ایسی شخصیات کی ٹیم ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس اپنے عہدے کی گارنٹی موجود ہوتی ہے لہذا انہیں کسی طرح کا نہ ڈر ہوتا ہے نہ کوئی لحاظ کہ لوگوں سے کیسا برتاؤ کرنا چاہیے اور کس قسم کے انداز سے انسانی شخصیات اور عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔

تعلیم یافتہ انسان کے نظریات اور روںٔیے تو اعلیٰ ہونے چاہیے مگر وہ ہی اکثر چھوٹے رہ جاتے ہیں، تب ہی معاشرے میں تعلیم یافتوں کی فوج تو ہے مگر قابلیت کا گراف کم نظر آتا ہے۔ لہذا معاشرے کی ترقی کا دارومدار جو ہر فرد پر ہے مگر بس چند قابل لوگوں پر آجاتا ہے تب ہی ترقی کی رفتار بھی سست پڑجاتی ہے، تعلیم انسان کو باشعور بناتی اور قابلیت کے اعلیٰ درجوں پر بیٹھا دیتی ہے مگر افسوس ہمارے معاشرے میں سارے نہیں تو اکثر تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی قابلیت سے محروم ہیں۔ لہذا ہمارا ملک ان فائدوں سے قاصر ہے جو کہ اسے، تعلیم سے ہونا چاہیے۔

علم صلاحیت اور قابلیت پیدا کرتا ہے اس کے بعد بھی اگر انسانی ذہین، سوچ اور نظریات، افکار میں وسعت اور کشادگی پیدا نہ ہو تو پھر تعلیم کیسی، تعلیم کا مقصد انسان کو خود شناس کرکے خدا کو پہچاننے اور پھر اس کی مخلوق کے لئے آسانیاں پیدا کرکے اپنا تعلق اپنے خالق سے استوار کرنا ہے، جو آگاہی کے بعد بھی اگر اس کی مخلوق سے آنکھیں پھیر لے، وہ خود شناسی سے بھی بہت دور بلکہ علم و شعور سے ہی بے فیض رہتا ہے۔

قابلیت کا پیمانہ ضروری نہیں کہ تعلیم سے ہی ناپا جائے بشرطیکہ تعلیم انسان کو شعور دے کر اسے ہمدرد بنائے ،معاشرے، ملک و قوم اور ہر انسان کے لئے خود کو فائدے مند بنائے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص اتنا تعلیم یافتہ نہ ہو مگر وہ قابل ہو۔ اپنی ذات کو بہتر بنانے کا اسے شعور حاصل ہو، جو کہ تعلیم کا بنیادی مقصد ہے، اپنی عادات ،روںٔیے، نظریات پر کام کرکے خود کو روز بروز بہتر کرنے کی تگ و دو میں آگے سے آگے نکل جائے، بجاۓ ایسا شخص جو خود پر اعلیٰ تعلیم کی ڈگری کی پٹی باندھ کر اپنے ہر کام اور خود کو بہت خوب اور بے عیب و نقص سمجھنے لگے، اصلاحِ خودی کی سعی پھر معاشرے کی اصلاح کی جانب کوشش ایک تعلیم یافتہ قابل انسان کی پہچان ہے کہ اس سے جو ہوسکے اپنے حصے کا دیا وہ ضرور جلائے، جو فیض اس تک پہنچا اسے دوسروں تک بھی پہنچائے، نہ کہ غرور اور خود غرضی کے نشے میں غرق ہو کر اپنے سے کم لوگوں کو بھی حقیر سمجھنے لگے۔

اپنے اندازِ فکر، گفتگو میں نکھار، اخلاق، روںٔیے، تہذیب و آداب پر کام قابلیت کے لیے بہت ضروری ہے یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر انسان اشرف کہلانے کا بھی مستحق نہیں کیونکہ جس میں اخلاق، نرم دلی، ہمدردی اور رحمدلی نہیں وہ چاہے جتنی ڈگریوں کا مالک ہے مگر وہ قابل نہیں ہے۔
لہذا موضوع کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس ڈگری نہیں بھی ہے تو بھی آپ خود کو نکھار کر قابل بنائیں، اور اگر آپ تعلیم یافتہ ہی‍ں آپ کے پاس ڈگری ہے اور اس میں کوئی قید نہیں بھلے ہزاروں حاصل کریں مگر پھر ضروری ہے کہ اس کی لاج رکھیں نرم بنیں، ہمدرد بنیں اور اپنی قابلیت سے ان لوگوں کو بھی قابل بنائیں جو کہ محروم ہیں، اپنا ظر، اپنی برداشت بڑھائیں کہ آپ تو جانتے ہیں تو جو لاعلم ہیں ان سے برتر ہیں، تو اسکا اظہار مہذبانہ برتاؤ سے کریں، انہیں اپنے رویوں اور ادب و تہذیب سے تعلیم کی اہمیت اور طرز زندگی سیکھائیں۔ اپنی ذات کو بہتر سے بہترین کرکے اپنی شخصیت کو اتنا بااثر بنائیں کہ آپ کی قابلیت آپکی ڈگریوں سے سو گنا بڑھ جائے۔

You might also like