Baseerat Online News Portal

الیکشن کمیشن کی ہدایت پر بی ڈی او پر لگے الزامات کی 4 رکنی افسران کی ٹیم نےتحقیقات شروع کی ۔  ارئی بردی پور کے وارڈ ممبر کی نامزدگی میں بے ضابطگی سے جڑا معاملہ

 

رفیع ساگر /بی این ایس

جالے۔۔ ریاستی الیکشن کمیشن کی ہدایت پر 2016 کے پنچایت انتخابات میں سنگھواڑہ بلاک کے ارئی بردی پور کے وارڈ ممبر کی نامزدگی میں بے ضابطگی کی تحقیقات کے لئے نامزد 4 رکنی افسروں کی ٹیم نے منگل کو بی ڈی او کے چیمبر میں ریکارڈوں کی جانچ پڑتال کی۔اس موقع پر عرضی گزار بھی موجود تھے۔ تفتیشی افسران میں ڈی جی پی آر او راجیو رنجن پربھاکر ، ڈی سی ایل آر سعدالحسن خان ، ایس ڈی سی ستیم سہائے اور گورو شنکر نے قریب 2 گھنٹے تک نکات وار ریکارڈوں کی تصدیق کی۔ معلوم ہوکہ برس 2016 کے پنچایت انتخابات میں ارئی بردی پور پنچایت میں وارڈ 2 کی ممبر اندو دیوی کی نامزدگی میں بے ضابطگیوں کے الزامات اسٹیٹ فوڈ کمیشن کے سابق چیئرمین محمد عطا کریم و جے ڈی یو انتہائی پسماندہ سیل کے اسٹیٹ جنرل سکریٹری رامانندن بھگت نے لگایا تھا۔ریاستی الیکشن کمیشن اور پٹنہ ہائی کورٹ میں اس وقت کے بی ڈی او کم انتخابی افسر ڈاکٹر ششی پرکاش کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ الزام میں کہا گیا تھا کہ بی ڈی او نے پنچایتی راج ایکٹ کے برخلاف انتخابات کروائے ہیں۔ شکایت کی روشنی میں ڈی ڈی سی تنئہ سلطانیہ بلاک آفس پہنچے اور 15 دن قبل بی ڈی او پر لگے الزامات کی تحقیقات کی تھی لیکن اس جانچ سے مطمئن نہیں ہونے پر پٹنہ ہائیکورٹ میں رڈ دائر کرنے کے ساتھ الیکشن کمیشن سے دوبارہ توثیق کے لئے درخواست کی تھی۔الزام تھا کہ ارئی بردی پور پنچایت کے وارڈ 2 میں ممبر عہدہ کے امیدوار نہیں ہونے کے باوجود رضوانہ خاتون کو بلامقابلہ ممبر منتخب کس وجہ سے کردیا گیا۔جبکہ وارڈ نمبر 2 میں رضوانہ نے پنچ ممبر کے عہدے کے لئے نامزدگی کے پرچے داخل کئے تھے۔جسے پنچ کے لئے حاصل انتخابی نشان بلاک دفتر کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کیا گیا تھا۔شکایت کنندہ رام نندن بھگت نے 2017 میں پٹنہ ہائی کورٹ میں اس ضمن میں شکایت درج کروائی تھی۔موقع پر بی ڈی او ڈاکٹر ششی پرکاش بھی موجودتھے۔ادھر ڈی سی ایل آر نے انچل آفس میں سی او چودھری بسنت کمار سنگھ کے ساتھ میٹنگ کرکے ضروری ہدایات دیں۔ جانچ ٹیم میں شامل افسروں نے تحقیقاتی رپورٹ ڈی ایم کو پیش کرنے کی بات کہی ۔

You might also like