Baseerat Online News Portal

بیٹیوں کی خودکشی کا ذمہ دار کون ؟؟؟

احساس نایاب

( ایڈیٹر گوشہء خواتین بصیرت آن لائن، شیموگہ, کرناٹک )

کوئی کہہ رہا ہے والدین کی پرورش میں کمی تھی , کوئی کہتا ہے سسرال میں جہز کے لئے ظلم کیا جارہا تھا , کوئی کہہ رہا ہے عائشہ ڈپریشن کا شکار تھی , کوئی کہہ رہا ہے ہماری دینی تنظیموں و جماعتوں کی ناکامی ہے تو کوئی عائشہ کے شوہر کو منہ بھر بھر کے گالیاں بددعائیں دے رہا ہے اسی طرح ہزار منہ ہزار باتیں ۔۔۔
یوں تو سوشیل میڈیا پہ سارے مفکران و دانشوران موجود ہیں جو کسی نہ کسی کو غلط کہہ کر ذمہ دار ثابت کرنے کی دوڑ میں لگے ہیں اور
ان الزامات کے بیچ کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ آخر اس مسئلہ کا حل کیا ہے جبکہ جہز نامی وبا نے 97 فیصد گھروں میں ڈیڑا جمایا ہوا ہے آج جہیز کو لے کر بڑے بڑے فتوے دینے والوں کے خود اپنے گھر بھی اس فتنہ سے آزاد نہیں ہیں یہ اور بات ہے کہ جہز لینے اور دینے دونوں کے طریقے ماحول کے مطابق مختلف ضرور ہیں؛ لیکن چاروں جانب جو ہورہا ہے وہ جہیز کا کاروبار ہی ہے، نکاح کم سودے بازی زیادہ ہے، جو کوئی بےشرمی و بے غیرتی سے مانگ کے لیتا ہے تو کئی جاہل زور زبردستی چھین کے حاصل کرنا چاہتے ہیں، کوئی میٹھی چھری بن کے لڑکی کے والدین کا گلا کاٹتا ہے، تو کوئی سنت کہہ کر بڑی ہی چالاکی سے تحفہ کی سورت میں وصولتا ہے، تو کہیں اکثریت ایسے بکروں کی ہے جو خود ہنسی خوشی چھری کے آگے کٹنے کے لئے بیتاب کھڑے ہیں، ایسے میں ہر دن لڑکوں کی منڈیاں بھی سجیں گی اور بولیاں بھی لگیں گی؛ کیونکہ اس لالچ کے حمام میں سبھی کے سبھی ننگے ہیں ۔۔۔۔۔۔
یہاں پہ کئیوں کا دعوی یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ لڑکی کے گھر ایک گلاس پانی تک نہیں پئینگے اور اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے لڑکے والے نکاح کا کھانا کھانے کے بجائے نکاح میں شامل مہمانوں کو ولیمے کا کھانا کھلاتے ہیں؛ لیکن اعلانیہ طور پہ ، اُس وقت کیا کسی نے لڑکے کے باپ اور لڑکی کے باپ کے چہروں پہ غور کیا ہے ؟؟؟
شاید کسی نے نہیں کیا ہوگا ۔۔۔
جہاں بیٹے کے باپ کی گردن 90 ڈگری پہ اکڑی ہوتی ہے وہیں بیٹی کے باپ کی گردن گھٹنوں پہ لٹکی ہوتی ہے اور لڑکے والوں کی مہربانی رحم وکرم کی وجہ سے بیٹی کا باپ ایک ایک پل میں سو سو موت مررہا ہوتا ہے ،
یہ اور بات ہے کہ نکاح کا کھانا نہ کھانے والے دولہے کے گھر بھی نکاح سے دو دن قبل ہی چور راستے یعنی پچھواڑے سے لمبی چوڑی لسٹ کے مطابق سارا جہز پہنچ چکا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
دراصل ایک مجبور باپ اپنی عزت نفس کو بچانے کے خاطر سود پہ قرضہ لے کر خود بھی برباد ہوتا ہے اور انجانے میں بیٹی کی زندگی آباد کرنے کے بجائے عذاب بنارہا ہوتا ہے ۔۔۔۔
اس لئے ہماری نظر میں جہیز لینے والوں سے دینے والوں تک اور ان رسومات کا حصہ بننے والوں سے لے کر ہلدی مہندی نکاح و ولیمہ کی دعوتیں ڈکارنے والوں تک، سادگی سے ہونے والے نکاح میں بھی اپنی شان کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں تک سارے کے سارے صرف ایک عائشہ کے نہیں؛ بلکہ لاکھوں عائشاؤں کے گنہگار ہیں قاتل ہیں ۔۔۔ ساتھ ہی ہمارے اہل علم حضرات، علمائے دین بھی برابر کے شریک ہیں؛ کیونکہ جو مفتیان کرام جہز کے خلاف فتوی دیتے نہیں تھکتے، منبر پہ بیٹھے جن علماء کا حلق جہیز ایک لعنت ہے پہ لمبے چوڑے بیان دیتے نہیں سوکھتا، جو تنظیمیں اصلاحی پروگرام کے نام پہ اسٹیجس سجاتے ہوئے خود کو مفکران ملت رہنمائے قوم کہہ کے اتراتی ہیں دراصل یہی سارے مفکر نکاح کی دعوتوں کی پہلی صف میں بڑی ہی فرصت سے بیٹھے بوٹیاں کھینچتے ہوئے، تو کچھ ہڈیوں کا مصالحہ بناتے ہوئے نظر آئیں گے اور ریاکار مالداروں کی شادیوں میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوں گے، گلے مل مل کر مبارکباد دیتے نظر آئیں گے؛ جبکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جو ہورہا ہے وہ ریاکاری ہے غلط ہے جو معاشرہ میں کسی فتنہ سے کم نہیں اور جو پیسہ فضول اڑایا جارہا وہ حلال ہے یا حرام یہ ساری تمیز بھُلاکر ایسی شاندار تقاریب میں شریک ہونا آج کل افضل مانا جاتا ہے اور بڑے ہی شان سے تصاویر کھینچ کر سوشیل میڈیا پہ وائرل کی جاتی ہیں جسے دیکھ کر غریب و مڈل کلاس کے بچے بچیوں کے دلوں میں خواہشات جنم لیتی ہیں ۔۔۔
یہاں پہ اگر فلاحی تنظیمیں اور اہل علم حضرات چاہیں تو وہ ان تقاریب کا سوشل بائیکاٹ کرسکتے ہیں، نکاح خواں نکاح پڑھانے سے منع کرسکتے ہیں؛ لیکن نہیں وہ ان مالداروں کو ناراض نہیں کرسکتے آخر انہیں چوکھٹوں سے عقیدت کے نذرانے اور چندوں کا دھندا جو جڑا ہے ۔۔۔ تبھی ماضی میں سائیکل پہ گھوم کر چندا مانگنے والے بھی آج کار اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ گھوم کر دیش ویدیش سے انٹرنیشنل لیول پہ چندہ کا کاروبار کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

خیر یوں تو آج ایک عائشہ کے درد سے سبھی تڑپ اٹھے ہیں؛ لیکن کبھی کسی نے اُن گمنام عائشاؤں کے حال زبوں پہ توجہ دی ہے ؟ افسوس جتایا ہے ؟ جبکہ ہر دن اپنے آس پڑوس ناجانے کتنی ہی عائشاؤں کو یہ آنکھیں بےرحمی سے پٹتے ہوئے دیکھتی ہیں ، کتنے کان اُن کی کربناک چیخ و پکار آہ و زاریاں سنتے ہیں؛ لیکن روکنے کے بجائے کسی اور گھر کا معاملہ کہہ کر نظر انداز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ میں جہیز نامی ناسور دن بہ دن پنپ رہا ہے؛ کیونکہ یہاں تماشبین تو کئی مل جائیں گے؛ لیکن روکنے والا کوئی نہیں ۔۔۔۔
جو بیٹی والے اپنی بیٹی کے درد پہ روتے ہیں وہی دوسرے کی بیٹی کو بیاہ کر لاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی کسی کی بیٹی ہے ، جو بھائی اپنی بہن کے لئے تڑپ جاتا ہے وہی دوسرے کی بہن پہ ظلم ڈھاتا ہے ، وہ لڑکی جو زندگی بھر سسرال کے ظلم جھیل چکی ہے جب وہ خود بہو لاتی ہے تو اپنے اوپر ہوئے مظالم بھُلاکر ہنٹر والی ساس بن جاتی ہے، ایسے میں حالات کون بدلے گا ؟ معصوم عائشاؤں کو خودکشی سے کون روکے گا ؟ کیا ہر بار ہر عائشہ کو خود کو سچا صحیح مظلوم ثابت کرنے کے لئے مرنا ہی پڑے گا ؟
افسوس یہاں ہر انسان بےحس ذہنی مفلوج بن چکا ہے شاید اسی لئے خودکشی سے پہلے عائشہ نے یہ جملہ کہا تھا کہ اللہ کبھی انسانوں کی شکل نہ دکھائے ۔۔۔
ان حالات میں نہ کوئی تنظیم کارآمد نظر آرہی ہے نہ ہی کسی جماعت سے کوئی اُمید ہے
بلکہ حالات کی نزاکت کو سمجھ کر آج ہر انسان کو چاہئیے کہ وہ خود سے خود کو بدلے اپنی سوچ اپنے عمل کو بہتر بنائے اپنے آس پڑوس ، دوست احباب ، گلی محلہ علاقے کی سطح پہ کام کرے اور اس کی شروعات خود سے کرے، جہیز صرف لینا ہی نہیں؛ بلکہ دینا بھی گناہ سمجھیں، نکاح کو آسان کریں ، اپنے ہر عمل میں سادگی اپنائیں، اللہ پہ توکل کریں، اسی پر بھروسا رکھیں، جو جس کا ہے وہ اُسی کو مل کر رہے گا کوئی کسی کے نصیب کا نہیں چھین سکتا، برائے مہربانی کسی کو مال و دولت کے ذریعہ زبردستی حاصل کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں ۔۔۔۔؛ ورنہ زندگیاں جہنم بن جائیں گی؛ کیونکہ رشتے محبت سے بنتے ہیں گاڑی بنگلہ یا سونے چاندی سے ہرگز نہیں ۔۔۔
ویسے بھی کسی ایک شخص کے چلے جانے سے زندگی ختم نہیں کی جاتی، دنیا بہت وسیع ہے اور یہاں ہر شخص انفرادی طور پہ نایاب ہے تو کیوں خود کو ضائع کرنا ۔۔ ؟ اپنے لئے نہ سہی اپنوں کے لئے جینا سیکھیں ۔۔۔

ہم ایک بار پھر دہرا رہے ہیں سسرال کے ساتھ بیٹیوں کی موت کے ذمہ دار خود بیٹی والے بھی ہیں ،
جب پتہ ہے سامنے والا انسان لالچی ہے وہ آپ سے آپ کی بیٹی نہیں؛ بلکہ بیٹی کے باپ کا مال یعنی جہیز مانگ رہا ہے تو ایسے گھر میں ایسے لالچی لڑکے کے ساتھ اپنی لخت جگر کا نکاح آخر کیوں کروایا جاتا ہے ؟
کیا ماں باپ کے لئے بیٹیاں بوجھ ہیں جو انہیں کسی بھی قیمت کسی بھی صورت بوجھ کی طرح اپنے سر سے اتار پھینک دیں ؟
اکثر رشتوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لڑکی والے سامنے سے جہز دینے کی لالچ دلاتے ہیں لڑکا اگر انجنئیر ، ڈاکٹر ہوا تو چاروں جانب سے بولیاں لگائی جاتی ہیں ،
کم بخت ارمانوں آرزوؤں اور اسٹیٹس کے نام پہ حرام پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے معذرت کے ساتھ ہمارے الفاظ سخت ضرور ہیں؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے؛ کیونکہ جو کمائی محنت کی ہو اُسے اس طرح فضول بہانا ناممکن ہے؛ بلکہ جو دو نمبر، رشوت حلال حرام کا فرق مٹا کر کئیوں کا حق مار کر کمایا جاتا ہے اُسی پیسے کو بہا سکتے ہیں۔
اور افسوس ان ریاکار مالداروں کی دیکھا دیکھی مڈل کلاس خاندان بھی قرضہ کرکے اپنی چادر سے زیادہ پیر پسارنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں آئے دن کوئی عائشہ قربان ہوجاتی ہے ۔۔۔

جن والدین اور بھائیوں کو اپنی بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کے نام سے پیٹ میں مروڑتا اٹھتا ہے اُن کا شادیوں میں یوں بےجا خرچ کرنا محبت نہیں ڈھکوسلہ ہے ۔
اور افسوس کہ لڑکی والوں نے جہیز دے کر عادت بگاڑ دی ہے اگر ایک بار بیٹی والوں نے جہیز نہ دینے کا پختہ ارادہ کرلیا تو یقین جانیں کوئی اُن سے زور زبردستی نہیں کرسکتا؛ کیونکہ اس لعنت کی نہ اسلامی آئین اجازت دیتا ہے نہ ہی بھارتی آئین؛ بلکہ جہیز لینا دینا دونوں جرم ہیں باوجود یہ جرم ہم لوگ دھڑلے سے کئے جاتے ہیں پھر جب کچھ بُرا ہوتا ہے تو روتے پیٹتے پولس کچہری کے چکر کاٹنے لگ جاتے ہیں ۔۔۔۔ عجیب رائتہ پھیلایا ہوا ہے خود اپنے ہی پیروں پہ کلہاڑی مارنا یہ کہاں کی سمجھداری ہے ؟
یاد رہے جب ایک بار کُتے کے آگے ہڈیاں ڈالیں گے تو وہ بار بار آپ کی دہلیز پہ آکر اُس وقت تک بھونکے گا جب تک دوبارہ اُس کو ہڈی نہ ڈالی جائے ۔۔۔؛
اس لئے خدارا کتوں کو اپنا داماد نہ بنائیں؛ بلکہ اپنی شہزادیوں کے لئے شیر کو چنیں جس کی فطرت میں جھوٹا کھانا نہیں ہے ۔۔۔

اور پوری سچائی جانے بغیر جذبات میں بہہ کر کسی کو جج کرنا بند کریں، نہ ہر لڑکا بُرا ہوتا ہے نہ ہی ہر لڑکی صحیح ہوتی ہے؛
بلکہ اکثر کئی جگہوں پہ ایسے بھی واقعات منظرعام پہ آئے ہیں جہاں خود شوہر بیوی کے ظلم کا شکار ہیں , فرق بس اتنا ہے کہ عورت رو کر اپنی تکلیف پریشانی بیان کرسکتی ہے، شکایتیں کرسکتی ہے؛ لیکن لڑکے کی انا اُس کی خود داری، مردانگی اُسے اس بات کی اجازت نہیں دیتی
اگر کبھی دل برداشتہ ہوکر اُس نے غلطی سے بھی تذکرہ کردیا تو سماج میں اُس کا مذاق اڑایا جاتا ہے  بزدل بیوی کا غلام، نامرد جیسے نہ جانے کیسے کیسے القاب سے نوازا جاتا ہے؛ کیونکہ ہمارے سماج میں ہمیشہ سے مرد کو ظالم اور عورت کو مظلوم بناکر پیش کیا گیا ہے ۔۔۔
جو کسی بھی صحت مند معاشرہ کے لئے خطرناک ہے ۔۔۔
جس معاشرے میں عدل و انصاف نہیں ہوتا، فیصلے ایک طرفہ کئے جائیں وہاں جرائم بڑھتے ہیں بھلے وہ ازدواجی زندگیوں میں ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔
عائشہ کی خودکشی کا غم بیشک ہمیں بھی ہے ویڈیو دیکھنے کے بعد مسلسل راتوں کو ہم بھی سو نہیں پائے
عائشہ نے جو کیا وہ سراسر غلط کیا خودکشی اللہ کو ناپسندیدہ ہے؛ لیکن کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ جنت یا دوزخ کا فیصلہ کرے،
اُس لڑکی کا حال اُس کی کیفیت کیا تھی وہ کس درد کس کرب سے گزر رہی تھی وہ صرف اللہ سبحان تعالی جانتے ہیں اور وہی معاف کرنے والے رحیم و کریم ہیں جو آنکھ سے بہنے والے ایک ندامت کے آنسو کے بدلے بندوں کے بڑے سے بڑے گناہ معاف فرمادیتے ہیں وہ اپنی اس نادان بندی کو کیسے سزا دیں گے؟ اس لئے عائشہ کے لئے جنت یا جہنم کی فکر کرنے کے بجائے خود کی جنت ، جہنم کی فکر کریں تو بہتر ہے ۔۔۔۔

یہاں ہمیں اس بات کا خدشہ ہے کہ دل برداشتہ ہوکر عائشہ نے جو غلط قدم اٹھایا وہ کہیں مستقل ٹرینڈ نہ بن جائے اور اس طرح سے چند لالچی مفاد پرست جان بوجھ کر کسی کو پھنسانے ، لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے اس کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال نہ کرنے لگ جائیں؛ کیونکہ لالچ صرف لڑکوں کی فطرت نہیں ہوتی؛ بلکہ چند لڑکیاں بھی فطرتا لالچی ہوتی ہیں جس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں بہرحال اللہ سبھی کو ہدایت دیں اور اس طرح کے ہر شیطانی شر و فتنوں سے انسانیت کی حفاظت فرمائیں آمین ۔
آخر میں ایک بار پھر خدارا اپنی بیٹیوں کو بوجھ سمجھنا بند کریں، اپنی سوچ بدلیں ، اسلامی آئین کو جانیں نکاح آسان کریں ، ایک سے زائد نکاح کو عام کریں، طلاق شدہ و بیواؤں کے نکاح کروائیں، ساتھ ہی جہیز لینے اور دینے والوں کا سوشل بائیکاٹ کریں اور یہ عہد کریں کہ زندگی میں نہ کبھی جہیز لیں گے نہ ہی دیں گے، نہ ایسی تقاریب کی دعوتیں قبول کریں گے خاص کر ہر مسلک کے علمائے دین مسلک مسلک کی لڑائی کو پیچھے چھوڑ کر اس طرف توجہ فرمائیں قوم پہ مہربانی ہوگی ……!

You might also like