مضامین ومقالات

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا

از:۔مدثر احمد،کرناٹک،شیموگہ:9986437327
ملک میںموجودہ صورتحال نہایت سنگین ہیں،ان سنگین حالات میں مسلمانوں کی نمائندگی کی جانب جب نظریں دوڑائی جاتی ہیں تو یقینا ایک بہت بڑا خلاء دکھائی دے رہا ہے۔نہ سیاسی قیادت مسلمانوں کے روبرو ہے نہ ہی سرکاری محکموں میں ان کا پُر سان حال ہے20؍کروڑ کی مسلم آبادی میں صرف چار فیصد مسلمان سرکاری محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان میں ایک فیصد مسلمان ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں،بقیہ تین فیصد مسلمان درمیانی و نچلے طبقے کے اہلکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور بعض کے محکمے ایسے ہیں جس سے عام مسلمانوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔فی الوقت ہندوستان میںہندوئوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعلیمی شرح26؍ فیصد ہے جبکہ ہندوئوں کی تعلیمی سطح لگ بھگ28؍ فیصد ہے۔28؍ فیصد ہندوتعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سرکاری عہدوں پر ان کی پکڑ75؍ فیصد ہے۔یہ شرح دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس قدر مسلمان سرکاری نوکریوں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔آج مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری عہدوں پر فائز ہونے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر سیول سرویس میں ان کی قیادت بے حد ضروری ہے۔سیول سرویس امتحانات کو ہمارے نوجوان لوہے چنے سمجھتے ہیں اور امتحان دینے سے قبل ہی یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ سیول سرویس میں نوکری حاصل کرنا ناممکن بات ہے۔یہ خیال بالکل غلط ہے دراصل اگر ہمارے نوجوان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو خالص سیول سرویس کیلئے ریزرو کرلیں تو یہ کام ناممکن نہیں ہے۔ایک طرف مسلم نوجوانوں کو اس کیلئے تیار کرنے کی ضرورت ہے تو دوسری جانب ہمارے فلاحی و سماجی اداروں کو اس جانب قدم اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ہندوستان کے وقف بورڈ کی سالانہ آمدنی12؍ ہزار کروڑ روپئے ہے۔لیکن فی الوقت12؍ ہزار کروڑ روپئے کے بجائے صرف163؍ کروڑ روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ان163؍ کروڑ روپیوں میں سے اگر تین کروڑ روپئے بھی پبلک سرویس امتحانات کیلئے مختص کیا جاتا ہے تو اس سے کم ازکم ہندوستان بھر میںتیس تربیتی مراکز قائم کئے جاسکتے ہیں۔وقف بورڈ کی بات چھوڑئیے،ہمارے پاس مقامی سطح پر بھی کئی ایسی فلاحی وسماجی تنظیمیں ہیں جومقامی سطح پر تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے کمر بستہ ہیں۔لیکن یہ تنظیمیں محدود ٹارگیٹ کو لئے ہوئے کام کررہے ہیں،ان کا نشانہ صرف پرائمری اسکول سے لیکر بارہویں جماعت کے طلباء ہیں جنہیں وہ وظیفہ،بستے،کتابیں،کپڑے تقسیم کرتے ہیں۔جبکہ یہ کام اتنا ضروری بھی نہیں ہے کہ ان کی مالی عنایت سے ہی پورا ہوسکے۔اس کے بجائے اگر یہ تنظیمیں ہر علاقے میں تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو منتخب کریںاور ان کیلئے سرکاری نوکریوں کیلئے دئیے جانے والے مسابقتی (Competitive) امتحانات کیلئے تربیتی مراکز قائم کریں،اگر ہر سال پچاس نوجوانوں کو تربیت دی جائے اور ان میں سے پانچ نوجوان بھی کامیاب ہوجائیں اور سرکاری نوکریوں پر لگ جائیں تو پچاس گھروں کی کفالت کے برابر ہوگااور یہ لوگ نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں بلکہ آنے والے دنوں میں مسلمانوں کیلئے نمائندگی بھی کرسکتے ہیں،جب فلاحی و سماجی تنظیموں کے امدادی پیسوں سے یہ لوگ تربیت حاصل کرینگے ،ان اداروں کی بدولت سے نوکری حاصل کرینگے تو ان میں خدمت خلق کا جذبہ ضرور پیداہوگا،یاکم ازکم وہ اس بات کو محسوس کرینگے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے مسلم قوم کے ہی مخیرین ہیں۔آج اس بات کو صرف پڑھنے اور پڑھانے کی حدتک محدود رکھنے کی ضرورت نہیںبلکہ اسے عملی طو رپر انجام دینے کی ضرورت ہے۔ہمارے یہاں فی الوقت موجود آئی اے ایس،آئی پی ایس اور کے اے ایس،آئی ایف ایس افسروں کو اس کام کو انجام دینے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے او ران کے مشوروںو نمائندگی سے بہترین تربیتی مراکز قائم کئے جاسکتے ہیں۔علامہ اقبال نے ایسے نوجوانوں و اداروں کے تعلق سے شاید یہ کہا تھا کہ
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker