Baseerat Online News Portal

بھید

  1. ناصرہ نواز (سرگودھا)

 

زندگی چاہے جتنی بھی حسین ہو، کچھ نہ کچھ خلش تو باقی رہ ہی جاتی ہے۔ ہرنعمت کے ہوتے ہوئے بھی کوئی تو ایسی محرومی ہوتی ہی ہے جس کا خیال آتے ہی دل کی دھڑکن جیسے چند لمحوں کے لئے رک سی جاتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دنیا میں پرفیکشن تلاشتے ہیں لیکن وہ تو اللہ نے بعد کی زندگی کے لئے رکھ چھوڑی۔ یہاں تو سب کچھ عارضی ہے۔ یاد رکھنے کی بات لیکن یہ ہے کہ اگر یہاں کی خوشیاں عارضی ہیں تو یہاں کے غم بھی مستقل نہیں۔ گلاس پورا بھرا ہوا نہیں تو مکمل خالی بھی نہیں۔ اپنے دکھوں کے ساتھ جینا، اپنی محرومیوں کے باوجود مسکرانا۔۔۔ یہی زندگی ہے۔ یہ شاید اتنا آسان کام نہ سہی، بہت مشکل بھی نہیں ہے۔

 

آئیں آپکو بتاؤں کیسے؟

 

 

 

 

سورۃ البقرۃ کی بہت پیاری سی آیت کا مفہوم کچھ یوں ہے:

 

“یہ ممکن ہے کہ جسے تم شر سمجھتے ہو وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور جسے تم دوست رکھتے ہو وہ شر ہو خدا سب کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو۔”

 

 

 

 

اس کو پڑھنے کے بعد سے اگر کسی بھی چیز پر دل خفا ہو تو سوچیں کیا پتہ اسی میں میرے لئے بھلائی ہو، بس مجھے سمجھ نہ آ رہی ہو۔۔۔

 

 

 

 

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سی حدیث کا مفہوم ہے جس سے دل کو انتہائی سکون ملتا ہے:

 

“مؤمن کا معاملہ تعجب خیز ہے! کہ صرف مؤمن کا ہر معاملہ خیر سے بھر پور ہوتا ہے، اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، جو اس کیلئے بہتری کا باعث ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کیلئے خیر کا باعث ہے۔”

 

یہ بات ایسی دل کے اندر راسخ ہوئی کہ اب کچھ مل جائے یا ملنے سے رہ جائے، دونوں صورتوں میں دل مطمئن ہی ہوتا ہے۔

 

 

 

 

ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ کبھی “لَو” یعنی کاش/اگر نہ کہیں کیونکہ ایسا کہنا شیطان (کے وسوسوں) کا دروازہ کھولتا ہے، بلکہ یوں کہیں کہ یہی اللہ کی مرضی تھی۔ یہ بات بھی جب دل کے اندر جذب ہو جائے تو خود بخود سکون آ جاتا ہے۔ جو کچھ بھی ہو جائے، انسان کا کامل یقین اسی بات پر ہوتا ہے کہ اللہ نے چاہا، اس لئے ایسا ہوا۔۔۔

 

اس کے بعد کوئی اگر مگر اور کاش دل میں خلش پیدا نہیں کرتے۔کاش! وہ جوان نہ مرتا اس کی جگہ فلاں بزرگ اُسی کے خاندان کا مر جاتا۔۔

 

کاش! میں اُس وقت یوں نہ کرتا، اگر وہ فلاں وقت ایسا کر لیتا تو۔۔۔ یہ خیال اپنے ذہن میں بھی نہ لائیں، اور زبان سے نکالنے کی تو خیر قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔

 

 

 

 

ایک بار کہیں پڑھا تھا:

 

Accept what you cannot change; change what you cannot accept.

 

یہ بھی بڑا لائف چینجنگ ثابت ہوا۔جو چیز تبدیل کرنا ممکن ہو سکے، اُسے تبدیل کیا جائے اور جو ممکن نہ ہو اُسے اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرنے کی کوشش کی جائے۔

 

 

 

 

اوپر دی گئی سبھی ٹپس پر اگر آپ غور کریں تو ایک مماثلت سبھی میں پائیں گے۔۔!Acceptance

 

 

 

 

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ، جو نہیں ملا اسے بھول جا!

 

 

 

 

اپنی بھرپور کوشش کریں، دعا کریں اور ایسے کریں کہ دل کھول کے رب کے سامنے رکھ دیں، رونا آئےتو رولیں اور اس کے بعد نتائج اللہ پر چھوڑ دیں، اور جو بھی ہو اُس پر راضی رہیں۔یاد رہیں کہ کوئی بھی واقعہ بے مقصد یا بلاوجہ وقوع پذیر نہیں ہوتا۔۔۔

 

 

 

 

“It’s either a memory made or a lesson learnt”

 

 

 

 

اس کے علاوہ یہ ہر وقت اُداس شاعری پڑھنا، اُداس گانے سننا، منفی ذہنیت کے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا انسان کے موڈ پر انتہائی منفی اثرات ڈالتا ہے؛ تو اچھے لوگوں کی صحبت میں رہیں تا کہ کچھ مثبت سیکھ کر اٹھیں،اچھی کتابیں پڑھیں، اچھی باتیں سنیں، اچھی باتیں بولیں۔۔۔

 

 

 

 

ختم کرنے سے پہلے آخری بات۔۔۔

 

آپ دل سے رب کے ہر فیصلے پر راضی ہوں تو بھی کسی وقت دل بوجھل ہو جانا بالکل فطری ہے۔اداس ہو جانا، رو لینا تو ہمارے ایک نارمل انسان ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ہم روبوٹ تھوڑی ہیں؟

 

ہاں یہ ضرور یاد رہے کہ اداس ہو جانے میں خرابی نہیں، اداس رہنا مسئلے کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے دل کی ہر جائز مراد پوری فرمائے، آپ کی ہر الجھن دور کر دے اور اپنے ان شکر گزار بندوں میں شامل کر لے جو اُس کے ہر فیصلے پر راضی ہوں۔ آمین

You might also like