Baseerat Online News Portal

مولانا ریاض احمد خان صاحب کی رحلت تحریک اسلامی ، ملت اور ملک کے لیے نقصان عظیم ہے:رـضوان الرحمان خان

ممبئی :۴؍مارچ(پریس ریلیز) کل مو رخہ ۳ ؍ مارچ ۲۰۲۱؁ کو نماز عشاء کے وقت مو لانا ریاض احمد خان صاحب اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ اللہ مر حوم کی مغفرت فرمائے، انہیں اعلیٰ علین میں بلند مقام بخشے، پس ماندگان کو صبر جمیل دے اور تحریک اسلامی ، ملت اور ملک کو ان کا نعم البدل عطا کرے ۔ آمین۔
آج ۴ ؍مارچ کو بعد نماز فجر چار بنگلہ قبرستان ، اندھیری ، ممبئی میں ان کے جسد خاکی کی تدفین عمل میں آئی ۔ گویا ممبئی اور مہاراشٹرا میں تحریک اسلامی کے ایک دور کا اختتام ہوا ۔
مولانا ریاض احمد خان صاحب کی رحلت تحریک اسلامی ، ملت اور ملک کے لیے نقصان عظیم ہے ۔ مو لانا طویل مدت سے بیمار تھے ۔ گزشتہ چند ماہ سے بیماری میں شدت آگئی تھی۔ چند ماہ قبل انہیں کورونا بھی ہو گیا تھا لیکن اس سے وہ شفایاب ہو گئے تھے ۔ مولانا کی عمر تقریباً ۸۵سال تھی ۔
مولانا ریاض جوان العمری سے ہی تحریک اسلامی سے وابستہ ہو گئے تھے ۔آپ کا وطن خادم پور، ضلع اعظم گڑھ یو پی تھا ۔ ممبئی میں بے حد محنت و مشقت کے بعد مو لانا ریاض احمد صاحب نے اپنا کا روبار جمایا تھا ۔
مو لانا ریاض احمد صاحب کو قرآن اور حدیث سے بے حد شغف تھا ۔آپ نے اپنے طور پر عربی زبان میں عبور حاصل کیا ۔ قرآن اور سنت پر آپ کی بہت گہری نظر تھی۔مو لانا بہترین مقرر اور خطیب بھی تھے ۔ مو لانا نے انتہائی اہم مو ضوعات پر کئی کتابیں بھی تصنیف کی تھیں۔
مو لانا ریاض احمد صاحب کی فکر و نظر میں بہت وسعت تھی ۔ انہو ںنے فکر مو دودی کو اپنے دل و دماغ میں بسا لیا تھا ۔ بدلتے حالات میں جماعت کی پالیسیوں کےانطباق اور ان کی تشریح اور تفہیم کا انہیں بہتر ین ملکہ حاصل تھا ۔جماعت کی الیکشن پالیسی کے متعلق مو لانا مو دودی ؒ سے ملاقات کر کےانہوں نے معلومات حاصل کی تھیں جس کے متعلق متوسلین کو سوالات کر نے پر بڑی روشنی ملتی تھی ۔مولانا کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے جماعت اور طلبہ تنظیموں کے سینکڑوں نو جوانوں کی تربیت کی اور انہیں دین اور تحریک سے جو ڑنے میں کامیاب ہوئے ۔
مولانا کی ملت کی سب سے بڑی خدمت کئی تعلیمی اداروں کا قیام ہے ۔ ممبئی میں مختلف ٹرسٹوں کے تحت مو لانا نے ۲ کالج ، ۵ ہائی اسکول اور بچیوں کے لیے ۳ دینی مدارس قائم کیے۔ اس کے علاوہ اپنے وطن اعظم گڑھ میں بھی مدرسہ جامعۃ الفلاح ، مدرسۃ الاصلاح اور شبلی کالج کی انہوں نے سر پرستی کی جہاں سے ہزاروں طلبہ و طالبات نے دینی اور عصری علوم حاصل کیے ۔
بابری مسجد کی شہادت ۹۳۔۱۹۹۲؁ میں ممبئی میں پھوٹ پڑنے والے فسادات کے بعد مو لانا نے ریلیف اور باز آباد کاری کا عظیم الشان کام انجام دیا ۔ اس وقت جماعت پر پابندی لگا دی گئی تھی اور حالات بہت مخدوش تھے ۔ اس لیے مو لانا کی رہنمائی میں مقامی انجمنیں بنا کر محمد علی روڈ ، مدنپورہ ، دھاراوی ، کرلا ، گوونڈی ، اندھیری ، جو گیشوری ، گورے گاؤں ، ملاڈ ،مالونی ، گورے گاؤں ، بو ریولی ، دہیسر وغیرہ علاقوں میں ریلیف اور باز آباد کاری کا زبردست کام کیا گیا جس پر اس زمانے میں تقریباً ۱۲ کروڑ روپے اخراجات آئے تھے ۔ اس وقت منترالیہ میں شری تر پاٹھی سکریٹری کے تعاو ن سے سرکار سے گھروں کی مرمت اور تعمیر نو کے لیےہزاروں کی تعداد میں پترے حاصل کیے گئے تھے ۔
اسی دوران میں مو لانا ریاض احمد خان صاحب ، مو لانا ضیاء الدین بخاری صاحب ، مولانا اسرار احمد قاسمی صاحب،مولانا عبد القدوس کشمیری صاحب اور دیگر عمائدین ملت نے باہمی مشورے سے آل انڈیا علما ء کو نسل قائم کی جس نے ممبئی کے مسلمانوں میں اتحاد اور حوصلے کی روح پھونکی اور سرکار کے سامنے ملی مسائل کو بھر پور انداز میں رکھنے کی ذمہ داری نبھائی ۔ مو لانا ریاض احمد خان صاحب علماء کو نسل کے روح رواں تھے ۔ وہ اس کے نائب صدر رہے۔ علماء کونسل کے ذریعے ممبئی میں مسلکی اختلافات کو ختم کرانے میں مو لانا نے بہت اہم رول ادا کیا ۔ جب کبھی کہیں کو ئی مسلکی تنازعہ سر ابھارتا مو لانا ریاض صاحب کی تحکیم اور فیصلے دونوں فریقین کھلے دل سے اور برضا و رغبت تسلیم کرتے ۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ مو لانا کی قبر کو نو ر سے بھر دے اور نہیں کر وٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ مو لاناکے جانے سے جو خلا واقع ہو گیا ہے اللہ اسے اپنی رحمت خاص سے پر فرمائے ۔ ہم پس ماندگان کو مولانا کی طرح تحریک، ملت اور ملک کے لیے وقت مال اور صلاحیتیں قربان کرنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین

You might also like