Baseerat Online News Portal

وہ طِفل کیا گِرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

 

حسن رضا مشرف قادری

وہ اشعار جو ” ضرب المثل ” کا درجہ حاصل کر چکے ہیں ، اُن میں سے ایک شعر یہ بھی ہے :

شہ زور اپنے زور میں گِرتا ہے سر کے بل
وہ طِفل کیا گِرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

یہ شعر عظیم بیگ کا ہے جو کہ مرزا رفیع سودا کے شاگرد تھے ـ ” آبِ حیات ” میں محمد حسین آزاد نے عظیم اور انشاء کے معرکوں میں ایک واقعہ درج کیا ہے ……….. آزاد کا بیان ہے کہ : عظیم ایک دن میر ماشاء اللہ خاں کے یہاں آئے اور غزل سُنائی کہ بحرِ رجز میں تھی مگر ناواقفیت سے کچھ شعر بحرِ رمل میں جا پڑھے ـ سید انشاء اللہ بھی موجود تھے ـ تاڑ گئے ـ حد سے زیادہ تعریف کی اور اصرار کیا کہ آپ اسے مشاعرے میں ضرور پڑھیں ـ چناں چہ عظیم نے مشاعرے میں غزل پڑھی اور انشاء اللہ نے وہیں تقطیع کی فرمائش کر دی ـ مرزا بہت شرمندہ ہوئے ـ انشاء اللہ نے ایک خمسہ بھی پڑھا جس کا پہلا بند ہے :

گر تو مشاعرہ میں صبا آج کل چلے
کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے
اتنا بھی اپنی حد سے نہ باہر نکل چلے
پڑھنے جو شب کو یار غزل در غزل چلے

بحرِ رجز میں ڈال کے بحرِ رمل چلے

عظیم بیگ نے گھر جا کر انشاء کے خمسہ کا جواب لکھا جس کا ایک بند درج ذیل ہے :

موزونی و معانی میں تم نے نہ پایا فرق
تبدیل بحر سے ہوئے بحرِ خوشی میں غرق
روشن ہے مثل مہر و مہ از غرب تا بہ شرق
شہ زور اپنے زور میں گِرتا ہے سر کے بل

وہ طِفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

بعض لوگ ” عظیم بیگ ” کے اس شعر کو یوں پڑھتے ہیں :

گرتے ہیں شہ سوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طِفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے ” تحقیق و تنقید ” میں لکھا ہے : میری نظر سے یہ شعر کہیں بھی اس طرح لکھا ہوا نہیں گزرا ـ

حسن رضا مشرف قادری
یکم مارچ ، 2020 ء

You might also like