Baseerat Online News Portal

آئیے معاشرہ کی اصلاح کاعہد کریں۔۔۔!!!

قول سدید:مفتی احمد نادر القاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
بات صرف جہیز کی نہیں ۔شادی بیاہ کے موقعہ پر ہونے والی تمام خرافات۔غیر ضروری فوٹواورویڈیوگرافی۔۔ڈھول تماشے۔مردوزن کےاختلاط۔بےپردگی ۔غیراسلامی رسوم و رواج ۔فتنہ وفساد اورفضول خرچیوں کے خاتمہ خیر کے غلبہ کی ہونی چاہٸے۔۔حالات سے متاثر ہوکر صرف جہیز کی مخالفت کی جاۓ تو یہ ادھوری بات ہوگی۔اورمیں تویہاں تک کہتاہوں۔کہ اس طرح کی خرافات کو خود ہمارے برادران وطن بھی غلط سمجھتے ہیں ۔اور وہ بھی اس کی چکی میں پس رہے ہیں ۔اوراس کی اذیت سے دکھی ہیں ۔اس لٸے اس جنگ میں ان کوبھی ساتھ لیناچاہٸے۔اورپوری طاقت کے ساتھ ۔اس کے خاتمہ کی حکمت عملی بنانی چاہٸے ۔صرف وقتی ہو ہنگامے سے کوٸی فاٸدہ نہیں ہوگا ۔جب اس کا اثر ختم ہوگا ۔سماج پھر اسی ڈگر پہ آجاۓ گا ۔ضرورت اس کی ہے کہ ۔باپ کی جاٸداد میں بیٹیوں کو میراث دینے کو یقینی بنایاجاۓ ۔اور جہیز وتلک کی رسم جو بھارت میں میراث سے بچنے کے لٸے رواج دیاگیاہے اس کا خاتمہ ہو ۔اور ہرسماج سے ہو۔تب ہندوستانی سماج کی اصلاح ہوگی ۔اگر ہم یہ نہیں کریں گے تو نہ جانے کتنی سماج کی بیٹیاں بغیر ہاتھوں میں مہندی لگے زندگیاں کاٹ دیں گی ۔ جہیزاورتلک کی خاطررشتوں کے انتظار میں اپنی عمرکے قیمتی کھودیں گی ۔اورکھورہی ہیں ۔کتنے غریب اور کمزورباپ ارمانوں کے بوجھ تلے دب کر دفن ہوجاٸیں گے ۔اورپھر آنے والا سماج اس کے وبال سے نہیں بچ سکے گا۔آج کاسماج جس درد اذیت کو جھیل رہاہے۔ یہ اس مادی دنیاکی ستم ظریفی کا وبال ہے جسے آج کے انسان نے سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔اس کو دلیں ۔۔گھرکی ماٸیں اور بہنیں بھی اپنے مزاج کو بدلیں ۔اوراس فکر اور رجحان کی اصلاح کریں ۔کہ اگر ہم نے بیٹی کوجہیز نہ دیاتو سماج کیا کہے گا ۔رشتہ دارکیاکہیں گے اوربیٹے کی تعلیم اورکماٸی اورمادی برتری کے نشہ میں تلک ۔جہیزاورلڑکی والوں سے مطالبات کانشہ اتاریں ۔رشتوں کے انتخاب میں ۔بجاۓ دولت اورمادی برتری کے تعلیم ۔دیانت دینداری اور خاندانی شرافت کوترجیح دیں۔ان شا ٕ اللہ ان اقدامات سےمعاشرہ صحیح خطوط پر استوارہوگا۔۔اوریہ ہماری دینی اورشہری ذمہ داری ہے۔۔اسلٸے۔آٸے ۔صاف ستھرے اورانصاف پر مبنی سماج کی تشکیل کا عہد کریں ۔اور اپنے ملک کوترقی اورمقصد کی طرف لے جانے کےلٸے قدم سے قدم ملاکر آگے بڑھیں ۔ہرانسان اصلاح کامحتاج ہے۔اورہم بھی ہیں ۔

You might also like