Baseerat Online News Portal

608 زمرے کے استاد مولانا خالد اشرف کی ناگہانی موت پر اساتذہ صدمے میں  17 ماہ سے التوا تنخواہ کی ادائیگی بروقت نہیں ہوئی تو کئی مدرس کی جان جاسکتی ہے: آفتاب عالم

 

رفیع ساگر /بی این ایس

جالے۔ 609 زمرے کے مدرسہ تعلیم نسواں بیلا کھاپ پرواہا بلاک پریہار کے استاد مولانا خالداشرف کی فاقہ کشی کی وجہ کر ہوئی موت پر مدارس کے اساتذہ کافی مایوس ہیں۔ بوکھڑا بلاک کے بدھنگرا گاوں کے سماجی کارکن و مدرسہ مصباح العلوم بدھنگرا کے سکریٹری آفتاب عالم سماجی کارکن نے مولانا کی موت پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن اساتذہ کو 17 مہینے سے تنخواہ نہیں مل رہی ہے اس کی گھریلو حالت کیا ہوگئی ہوگی۔مولانا کی موت بھی تنخواہ نہیں ملنے سے ڈپریشن میں ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ موصوف مدرسہ تعلیم نسواں میں عالم کے عہدہ پر بحال تھے۔ پورے اہل وعیال کی ذمہ داری مولانا ہی پر منحصر تھی۔ دوسرا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا ۔مولانا مرحوم بہت نیک دل اور ملنسار تھے۔مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین عبد القیوم انصاری کی جانب سے سیتامڑہی کے 609 زمرے کے مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ پر روک لگی ہوئی ہے۔مرحوم مولانا خالداشرف اپنے پیچھے بیوی 2 لڑکی اور ایک لڑکا ایک بیوہ ماں اور دو بہن کو چھوڑ کر اللہ کو پیارے ہوگئے۔بیوی ماں اور بچہ کا رو رو کر برا حال بنا ہوا ہے۔ 17 مہینہ سے نتخواہ نہیں ملنے کی وجہ سے مرحوم بہت ذہنی طور پر پریشان تھے اور گھر کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے در در کی ٹھوکر کھا رہے تھے یہاں تک کہ علاج ومعالجہ کے لئے بھی دوسروں سے فریاد کرتے رہے اور یہی حال 609 زمرے کے تمام اساتذہ کا ہے جو فاقہ کشی کی زندگی گزار رہے ہیں اس ناگہانی موت سے تمام اساتذہ غم زدہ اور خوف زدہ ہیں اس مصیبت کی گھڑی میں مرحوم کے اہل وعیال کے ساتھ ہیں۔مسٹر آفتاب عالم نے کہا کہ اگر چیئرمین اسی طرح کا دوہرا سلوک کرتے رہیں تو نہ جانے کتنے اساتذہ اپنی زندگی سے نا امید ہوجائنگے ۔انہوں نے چیئرمین مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے مانگ کی ہے کہ جلد از جلد 609 زمرہ کے تمام اساتذہ کے تنخواہ کی ادائیگی کے لئےضلع افسر کو حکم جاری کریں۔

 

 

 

You might also like