Baseerat Online News Portal

زرعی سائنس مرکز جالے کے آڈیٹوریم میں سائنسی مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ

 

رفیع ساگر /بی این ایس

جالے۔ سائنسی صلاحکار کمیٹی کی میٹنگ راجندر پر ساد مرکزی زرعی یونیورسٹی پوسا کے ڈائریکٹر (اسپریڈ ایجو کیشن ) ڈاکٹر ایم ایس کنڈو کی صدارت میں ہوئی۔

زرعی سائنس مرکز جالے کے آڈیٹوریم میں منعقد اس میٹنگ میں ضلعی زرعی افسر رادھا رمن ،ڈی ڈی ایم نابارڈ کی کماری آکانچھا، آتما پروجیکٹ کے ڈائریکٹر پی این جھا اور جیویکا کے بی پی ایم امیت کمار سمیت مشاورتی کمیٹی کے دیگر ممبران بھی شریک ہوئے ۔اس موقع پر گذشتہ میٹنگ کی پیش رفت رپورٹ ایگریکلچر سائنس سیٹر کے صدر ڈاکٹر دیویانشو شیکھر نے دسمبر 2020 سے فروری 2021 کی مدت کے زرعی سائنس مرکز کی سر گرمیوں اور حصولیابیوں سے کمیٹی کو واقف کرایا۔ انہو ں نے بتایا کہ اس مدت میں تقریباً 1500 ایکڑ میں مختلف فصلوں کی بازیافت دربھنگہ ضلع کے 8 بلاک میں کسانوں کی تعاون سے کیا گیا ہے ۔ وہیں کوویڈ 19 کی روشنی میں 560 مہاجر ین کو روزگار پر مبنی تربیت دی گئی ۔ تقریبا 1000 کسانوں نے مرکز سے دھان اور سبزیوں کا جدید بیج فراہم کیا ہے۔ مختلف مدت کی ٹریننگ کے ذریعہ تقریباً 4000 کسانوں اور نو جوانوں کو ٹریننگ دی گئی ہے۔ 11 ہزار کسانوں نے مختلف تشہیری پرو گراموں میں حصہ لیا جنہیں تکنیکی جانکاری دینے کی کوشش کی گئی ۔ زرعی سائنس مرکز کے ذریعہ ضلع زرعی محکمہ آتما، نابارڈ اور جیویکا کے تعاون سے مختلف ترقیاتی پرو گرام چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سبھی کے تعاون کے لئے اپنے مرکز کے ملازمین کے ساتھ ساتھ اداروں کے عہدیداران اور اپنی یونیور سٹی کے سینئر افسران کا بھی اظہار تشکر کیا۔

میٹنگ میں ترقی پسندزرعی ڈاکٹر راگھویندر پرساد نے مارکیٹنگ اور اسٹوریج میں کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لئے زرعی سائنس مرکز کو فوڈ پروسیسنگ کی سمت میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ابھینو کسان رکن رجت ٹھاکر نے مرکز کے ذریعہ کسانوں کو اعلیٰ درجے کے آلات دستیاب کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ راج کشور مشرا نے اعلیٰ درجے کی بیجوں کی دستیابی کو یقینی بنانے پرزور دیا۔ ضلع زرعی افسر رادھیکا رمن نے زرعی سائنس مرکز کو نینو فرٹی لائزر کے اثرات پر غور کرنے کی صلاح دی جس سے کسانوں کے ذریعہ تشہیر و تنشیر کیا جا سکے۔ پرو جیکٹ ڈائریکٹر آتما نے کسانوں کو گروپ میں تکنیکی سائنس منتقلی پر زور دیا۔وہیں ڈی ڈی ایم نابارڈ آکانچھا کماری نے پان پیداوار کی تربیت اور پروسیسنگ کے لئے پرو جیکٹ مختص کرنے کو کہا۔ یونیور سٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر (اسپریڈ ایجو کیشن) انوپما کماری نے مرکز کے ذریعہ کئے جا رہے کاموں کو مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ میٹنگ کی صدارت کر رہے ڈائریکٹر (اسپریڈ ایجو کیشن) نے ضلع میں کاشتکاروں کو گلوبل وارمنگ کے سبب در پیش چیلنجوں کو کم کر نے کی سمت میں زرعی سائنس مرکز کے ذریعہ کئے جا رہے مختلف فصل تکنیک تشخیص کے اقتصادی تخمینہ اور اسے کسانوں کے ذریعہ تشہیر و تنشیر کر نے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسے ریسرچ پیپر کی شکل میں شائع کرنے کی ضرورت بتایا۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 1 سال میں مرکزی زرعی یونیور سٹی پوسا کے ذریعہ مرکز کو مختلف جدید آلات ،چہار دیواری تعمیر سمیت 5 نئے ملازم دستیاب کرائے گئے ہیں۔ زرعی سائنس مرکز کے بیشتر عہدے پُر کر دیئے گئے ہیں جس سے کہ زرعی سائنس مرکز کے کاموں میں تیزی آئے گی ۔ ساتھ ہی ضلع کے زیادہ سے زیادہ کسان مستفید ہو پائیں گے۔ پرو گرا م کی نظامت مرکز کے سائنسداں ڈاکٹر آر پی پر ساد نے کی ، وہیں اظہار تشکر ڈاکٹر اے پی راکیش نے پیش کیا ۔میٹنگ میں مرکز کے سبھی ملازمین و سائنسداں موجود تھے

You might also like