Baseerat Online News Portal

“میرا جسم میری مرضی نہیں” رب کی مرضی

سوچتی ہوں آخر ان عورتوں کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ کس قسم کی سرگرمیوں میں سرگرم ہیں، کیا ان کی ذمہ داری یہی ہے؟ کیا ایسے نعروں سے مستحکم خاندان تشکیل دے پائیں گی؟ کیا یہی عورتیں اپنے بچوں کی تربیت اس نہج پر کر سکیں گی جو قرآن و سنت میں بیان ہے۔

حافظہ ایمن عائشہ ( منڈی بہاوالدین)

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

“میرا جسم میری مرضی”
یہ نعرہ ہر طرف سوشل میڈیا، فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ اور سر عام سڑکوں پر بھی زور و شور سے بلند ہوتا سنائی دیا تو دنگ رہ گئی! یہ نعرہ کسی مہذب، تعلیم یافتہ، اسلامک معاشرے سے منسلک عورت کا ہو ہی نہیں سکتا! بلکہ ل ہر گز نہیں! یہ نعرہ کسی خاندانی عورت کا بھی نہیں، کسی پروقار عزت و آبرو کی حفاظت کرنے والی عورت کا بھی نہیں، تو پھر یہ نعرہ کس عورت کا ہے؟
کیا ایسی عورت کا جسے اپنی ناموس کی پرواہ نہیں؟ یا ایسی عورت کا جس کے لیے اسلامی تعلیمات کسی قید کے سوا کچھ نہیں؟؟ یا ایسی عورت جو گھرداری اور اپنی ذمہ داریوں کو بوجھ سمجھتی ہے؟ یا ایسی عورت کا جو اپنے حقوق سے آگاہ نہیں ہے؟
بالکل یہ نعرہ انہیں عورتوں کا ہو سکتا ہے جو حقیقتا عورت کہلانے کے لائق نہیں!
یہ عناصر اپنے حقوق سے غافل ہیں، اپنے مقام سے یقینا بے خبر ہیں،
سوچتی ہوں آخر ان عورتوں کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ کس قسم کی سرگرمیوں میں سرگرم ہیں، کیا ان کی ذمہ داری یہی ہے؟ کیا ایسے نعروں سے مستحکم خاندان تشکیل دے پائیں گی؟ کیا یہی عورتیں اپنے بچوں کی تربیت اس نہج پر کر سکیں گی جو قرآن و سنت میں بیان ہے۔ یا یہ عورت کا مطلب ہی نہیں جانتی!
عورت جسکا مطلب ہی چھپا کے رکھنے کا نام ہے، جسکی عزت و ناموس کی خاطر جان کی بازی سے بھی کوئی گریز نہیں کرتا تھا، وہ عورت جو خدا کی بارگاہ میں جھولی پھیلا لے تو خالی ہاتھ نہیں لوٹائی جاتی، پھر وہ عورت کن مشغلوں میں سرگرم ہے!
جبکہ اسلام تو عورت کو مکمل تحفظ اور حقوق مہیا کرتا ہے۔ عورت کو کسی میدان میں بھی پیچھے نہیں رکھتا۔ ایک غیر مسلم تجزیہ کار قرآن کریم کے مطالعہ کے بعد کہتا ہے کہ اس کتاب کا نام” عورت” ہونا چاہیے تھا۔۔ کیونکہ عورتوں کے اتنے حقوق کوئی دوسرا مذہب نہیں دیتا۔
پھر یہ نعرہ کیوں۔؟ یہ ہنگامہ جو عورت مارچ کے نام سے جگہ جگہ سوالیہ نشان بنا پھر رہا ہے یہ کیوں؟؟؟
حقوقِ نسواں کی پاسداری ہمارا معاشرہ کسی حد تک نہیں بھی کر رہا لیکن احتجاج کا یہ طریقہ کار غلط ہے۔
مہذب عورتیں اس طریقے سے اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑتی۔میرا اختلاف بھی طریقہ کار سے ہے۔
خدارا!! اس یہودی سازش کا حصہ مت بنیں۔! عورت کی حیا، عزت و ناموس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔
عورت کو جو مقام عطا کیاگیا ہے وہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ اگر ہم اسلام کے دئیے ہوئے حقوق کی حفاظت کریں تو یہ معاشرہ کیا کوئی بھی ہمیں ان حقوق سے محروم نہیں کر سکتا۔ یہ نعرہ محض حقوق کی جنگ ہی تو ہے۔
ان حقوق کی جنگ جن کا ان عورتوں کو خود بھی علم نہیں، جو بے خبر ہیں ان حقوق سے جو انہیں باعزت طریقے سے اسلام نے دئیے ہیں۔
یہ عورتیں اس جنگ میں پس رہی ہیں، اگر انہی عورتوں کو اپنے حقوق سے آگاہی ہو تو یوں سرعام اپنی عزت کو پامال نہ کرتی پھریں۔ یوں میڈیا پہ خود کو تماشہ نہ بنائیں۔ لیکن یہ بھول رہی ہیں کہ یہ اس مرد کے خلاف کھڑی ہوئی ہیں جسے خدا نے خود حاکم قرار دیا ہے۔ قرآن میں واضح طور پر ہے:
“الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ۔” سورة النساء، آیت( 34)
ترجمہ: “مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے۔”
پھر ان مردوں کی حاکمیت سے کیسے منہ موڑ سکتے ہیں، وہ مرد جو عورت کا سائبان ہے، اسکا محافظ ہے، اسکا مضبوط قلعہ ہے جس کی اوٹ میں عورت خود کو محفوظ اور مضبوط سمجھتی ہے، جس کے ساتھ رہ کر وہ ہر کام اپنی مرضی سے کرنے کو آزادی گردانتی ہے، جس کے گھر نہ ہونے پر رات بھر سو نہیں پاتی، جس کو خدا کے بعد اپنا محافظ محسوس کرتی ہے۔
میں مانتی ہو ہمارا معاشرہ عورتوں کے حقوق کے لیے اس حد تک سرگرم نہیں ہے جیسے ہونا چاہیے۔ کئی جگہوں پہ عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق بھی نہیں مل پاتے لیکن اس طرح کے فضول نعروں اور مارچوں سے کیا مرد کا مقام کم ہو جائے گا اور عورت کا وقار بڑھ جائے گا؟؟ ہر گز نہیں۔!
یہ نعرہ فقط نفس کی تسکین ہوسکتا ہے۔
یہ مارچ غیر مسلم کی سازش کے سوا کچھ نہیں ہے! یاد رکھیں وہ ہماری عورتوں کو استعمال کر رہے ہیں، انہیں اپنی بیہودہ سازشوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ کم عقل عورتیں اس سازش کا حصہ بخوشی بن رہی ہیں! اپنی عصمتوں کو سر عام پامال کر رہی ہیں۔اور یہی بات امت مسلمہ کے لیے تباہی کا باعث بن رہی ہے۔
یہ قحط؛ قحط النساء ہے، یہ عورت مارچ نہیں عورت کا زوال ہے، عورت کی تباہی ہے!
خدارا اس کے وبال سے پناہ مانگو۔!
اس مارچ کا یہودیوں کو منہ توڑ جواب دو تبھی جا کر ہمارا معاشرہ ایک بہترین معاشرہ اور ہماری سوسائٹی تہذیب یافتہ سوسائٹی کہلائے گی۔

You might also like