Baseerat Online News Portal

اسلام میں جہیز اور بارات کا تصور نہیں –

 

 

محمد صابر حسین ندوی

[email protected]

7987972043

 

 

 

 

جہیز اور تلک نے سماج کو کھوکھلا کر دیا ہے، معاشرتی ڈھانچہ کو خستہ حال و بدحال کردیا ہے، آپسی محبت کافور اور تشویش عام کردی ہے، نہ جانے کتنی لڑکیاں اس انتظار میں ہیں کہ سماجی بندشیں ٹوٹیں تو دلوں کو جڑنے کا موقع ملے؛ لیکن ہائے ستم!! جہیز تو اپنے مقام پر قبیح ترین عمل ہے ہی، اسے لینے دینے والے ملعون ترین لوگ ہیں، مگر اس میں اور بھی متعدد رسوم شامل ہیں جن کا اسلام سے کوئی سروکار نہیں ہے، وہ سب ہندوانہ تہذیب و ثقافت اور ان کے جوار کا اثر ہے، کسی زمانہ میں راستوں کے پُر خطر ہونے کی بنا پر ایک خاص تعداد لڑکے کے ساتھ دلہن کے گھر جایا کرتی تھی؛ لیکن اب تو یہ بھی کوئی علت نہیں بچی، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے پڑوس میں نکاح ہوجایا کرتا تھا اور آپ کو معلوم نہ ہوتا، آپ علامت کے ذریعے سے سمجھتے تھے، پھر کوئی ناراضگی نہیں بلکہ دعا ہی فرمایا کرتے تھے، آج ہم اپنے آپ کو اگرچہ مسلمان کہتے ہیں؛ لیکن سچ جانئے اسلام رتَّی بھر ہمارے دل میں نہیں، ایمان کی حلاوت و چاشنی تو دور کی بات ہے، نام محمد اور احمد رکھ لینا اور آبائی مسلمان بن جانا ہی کافی سمجھتے ہیں، اگر بعض مسجدوں تک پہنچتے بھی ہوں تب بھی ان کے معاملات حد درجہ گرے ہوئے ہیں، خصوصاً شادی بیاہ میں عزت ووقار اور نام نمود کی باتیں تو خود ہمارا دیندار طبقہ کرتا ہے، شاذ و نادر مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے بنا کسی جہیز (خواہ مطالبہ سے ہو یا بغیر مطالبہ کے) لئے ہی شادی کی ہے، اور بارات کا تو شرعی جواز بھی نکال لیتے ہیں، کہتے ہیں دعوت، مہمان نوازی شریعت کے امتیازات میں سے ہے؛ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دعوت خوش دلی اور طبعی طور پر ہو تو وہ دعوت ہے، کسی کے گھر سماج کے دباؤ، نام و شہرت کے ذیل میں کھانا کھالینا دعوت نہیں ہوسکتی، بتائیں اگر خوش دلی کے ساتھ دعوت کی جاتی ہے تو کیوں کھانے کی فہرست شمار کی جاتی ہے، کوئی کمی رہ جائے تو پگڑی اچھالی جاتی ہے، باتیں بنائی جاتیج ہیں، یہ سب خود کو اور معاشرت کو دھوکے میں ڈالنے اور شریعت کی بے جا تاویل کرنے کی بات ہے، دارالعلوم دیوبند کا بھی ایک فتوی انٹرنیٹ پر موجود ہے کہ “بارات لے جانا غیروں کا طریقہ ہے، اسلام میں بس اتنا کافی ہے کہ لڑکے کے ساتھ چار پانچ آدمیوں کو لے جائیں اور نکاح پڑھا کر دولہن کو لے آئیں، اگر کچھ رشتہ دار بارات میں جانے کے لیے مصر ہیں اور انہیں نہ لے جانے میں رشتہ داری ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو مصلحةً انہیں ساتھ لے جاسکتے ہیں۔(فتوی نمبر:١٤٧٦٧٧) اس موضوع پر ہمارے کرم فرما مولانا ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی دامت برکاتہم نے “جہیز اور بارات _ دو قبیح اور غیر اسلامی رسمیں” کا عنوان لگا کر وقیع تحریر پیش کی ہے، آپ کی یہ تحریر زیادہ سے زیادہ نشر کئے جانے کے قابل ہے، آپ رقم طراز ہیں:

اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ عربی زبان میں جہیز کے لیے کوئی لفظ ہے ہی نہیں ۔ عہدِ نبوی میں جتنی شادیاں ہوئی ہیں ، کسی میں بھی جہیز کا کوئی تذکرہ نہیں آتا ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شادی میں کسی باپ نے اپنی بیٹی کو کچھ نہیں دیا ہوگا۔ ضرور دیا ہوگا ، لیکن وہ جہیز کی حیثیت سے نہ ہوگا ۔ سامان اکٹھے نہیں کیے گئے ہوں گے ، ان کی نمائش نہیں کی گئی ہوگی ، شادی سے پہلے لڑکے والوں کی طرف سے لسٹ نہیں دی گئی ہوگی کہ فلاں فلاں چیز چاہیے اور وہ فلاں کمپنی کی ہونی چاہیے ۔ آج معاشرہ میں جس بڑی مقدار میں اور جس دکھاوے کے ساتھ جہیز کا لین دین ہوتا ہے اس کی دین میں کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی ہر بیوی کا مہر پانچ سو درہم تھا ۔ یہی مہر حضرت فاطمہؓ کا بھی تھا ۔ حالاں کہ حضرت علی ؓ شروع ہی سے آپ ؐکے پروردہ تھے ، آپؐ کے ساتھ رہتے تھے ۔ جب نکاح کا موقع آیا تو آپؐ نے ان سے پوچھا : تمہارے پاس کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا : میری ذاتی ملکیت میں کچھ نہیں ہے ۔ میں تو شروع ہی سے آپ کے ساتھ رہاہوں ، میرے پاس اپنا کچھ نہیں ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس جو زرہ ہے اسے بیچ لاؤ ۔ انھوں نے زرہ بیچی ۔ اس سے جو پیسے وصول ہوئے اس سے آپؐ نے گھر گرہستی کا سامان خرید وایا اور اسی سے مہر ادا کر وایا ۔ آج کل باراتیوں کی لمبی لسٹ بنتی ہے ۔ لڑکے کے چچا اور چچیاں ، خالو اور خالائیں ، پھوپھا اور پھوپیاں ، پڑوسی ، دوست و احباب ، غرض ایک لمبی فہرست تیار ہوتی ہے ۔ اس موقع پر کسی کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا بھول کر اس کا نام چھوٹ جاتا ہے تو وہ ناراض ہوجاتا ہے ۔ پھر لڑکے والے لڑکی والوں سے کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے ، ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو باراتی آئیں ان کی خوب اچھی طرح خاطر داری ہو ۔ غور کریں ، یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ لڑکے والے اپنے مہمانوں کو زبر دستی لڑکی والوں کا مہمان بنا دیتے ہیں ۔ عہد نبوی میں ہونے والی شادیوں میں بارات کا کوئی تصور نہیں تھا ۔حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا شمار مدینہ کے انتہائی مال داروں میں ہوتا تھا ۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتقال کے وقت انھوں نے جو سونا چھوڑا تھا اسے کلہاڑی سے کاٹ کاٹ کر ان کے ورثہ میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ ان کا جب نکاح ہوا تو انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو بھی بلانے کی ضرورت نہیں سمجھی ۔ بعد میں جب آپ ؐ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے ان سے فرمایا : اے عبد الرحمن ! ولیمہ کرو ، چاہے اس میں ایک بکری ہی ذبح کرو ۔ ہم غور کریں ، اللہ کے رسول ﷺ کی ذات کتنی با برکت اور محترم تھی ۔ ایک چھوٹی بستی میں نکاح کی مجلس ہوتی ہے ، لیکن آپؐ کو بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی!

You might also like