Baseerat Online News Portal

برقعے پر پابندی قومی سلامتی کے لیے لگائی: سری لنکا

آن لائن نیوزڈیسک
سری لنکا کی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر وضاحت کی گئی ہے کہ قومی سلامتی اور بنا پر مسلم خواتین کے برقعے یا نقاب سے روکا گیا ہے۔
اس فیصلے پر حکومت کو احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مسلمانوں کی جانب سے اس اقدام کو ان کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا جا رہا ہے۔
پیر کو کابینہ کے اجلاس کے بعد حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم قومی سلامتی کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس پابندی کو قانونی شکل دینے اور عائد کرنے سے قبل کابینہ میں اس پر مزید بات ہو گی۔‘
سری لنکا میں اپریل 2019 میں ہونے والے خود کش دھماکوں، جن میں 279 افراد مارے گئے تھے، کے بعد سے حکومت کی جانب سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عوامی سلامتی کے وزیر سراتھ ویراسکیرا نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے ’قومی سلامتی‘ کی بنیاد پر مسلمان خواتین کے مکمل طور پر چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک دستاویز پر دستخط کیے ہیں، جسے کابینہ سے منظور کروایا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’برقع ہمارے ہاں مسلمان خواتین اور لڑکیاں پہنتی تھیں۔ یہ اس مذہبی انتہا پسندی کی علامت ہے جو حال ہی میں سامنے آئی۔ ہم یقیناً اس پر پابندی عائد کریں گے۔‘
اگرچہ سری لنکا میں برقع پہننے والی خواتین کم ہیں تاہم پھر بھی مسلمانوں نے حکومتی اقدام پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
21 سالہ طالبہ عائشہ کہتی ہیں کہ ’نقاب کے بغیر باہر نکلنا ایسا ہی ہے جیسا کپڑوں کے بغیر چلنا، تاہم میں فیس ماسک سے چہرہ ڈھانپوں گی۔‘

You might also like