مضامین ومقالات

ہریانہ کی بربادی جاٹ کو ہندو سمجھنے کی بھول

حفیظ نعمانی
یہ تو ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جاٹ آزادی سے پہلے ہندو نہں تھا وہ صرف جاٹ تھا۔ ہمارا نانہال حاجی پور میں ہے یہ سنبھل کے مغرب میں 20 کلومیٹر دور مسلمانوں کا ایک بڑا گائوں ہے۔ اور اس کے چاروں طرف صرف جاٹوں کے بڑے اور چھوٹے گائوں ہیں۔ ہم اپنی والدہ کی حیات تک تو سال میں دو بار ورنہ اس سے زیادہ بار بھی جاتے تھے لیکن ان کے انتقال کے بعد آناجانا تو رہا لیکن اس طرح نہیں۔ خوب یاد ہے کہ ہمارے نانا چودھری عبدالحکیم کی ہر جاٹ چودھری عزت کرتا تھا۔ اور ماموں عبدالصمد کے حکیم بن کر آجانے کے بعد اور باقاعدہ مطب کرنے کے بعد تو یہ تعلق بہت بڑھ گیا تھا کیونکہ پورے علاقہ میں نہ کوئی ڈاکٹر تھا نہ حکیم۔
ہمارے نانا زمیں دار تو نہیں تھے لیکن زمینیں سب سے زیادہ ان کے پاس تھیںاور مکان کی شان و شوکت اور رکھ رکھائو زمین داروں سے بھی زیادہ تھا۔ اور سب انہیں چودھری صاحب ہی کے نام سے پکارتے تھے۔ پڑوس کے گائوں کی شادیوں میں انتہائی عزت سے بلائے جاتے تھے۔ اور اس وقت کے بڑوں کے رواج کے مطابق گھی کاپیپا یا گیہوں یا کسی اور اناج کا بورا لے جاتے تھے۔ ہماری والدہ ان کی چہیتی اکلوتی بیٹی تھیں۔ ان کی شادی میں کیا ہوا تھا؟ یہ تو کبھی معلوم نہں کیا۔ لیکن نانا کی ایک پوتی اور اپنی ماموں زاد بہن کی شادی میں ہم شریک تھے۔ اب یاد نہیں کہ پڑوس کے گائوں سے جو جاٹ چودھری آئے ان میں سے ہر کوئی اتنا گھی لیکر آیا تھا جو پورے خاندان میں تقسیم بھی ہوا اور والدہ کے ساتھ بریلی بھی آیا۔
پوری عمر میں نہں سنا کہ جاٹوں نے حاجی پور کو مسلمانوں کا گائوں سمجھ کر کبھی ترچھی نظر سے دیکھا ہو۔ ہر بقرعید کے موقع پر گائے کی قربانی ہوتی تھی۔ اور گائے کی کھالیں سنبھل کے مدرسے والے آکر لیجاتے تھے۔ لیکن راستے کے کسی گائوں میں کسی نے یہ معلوم نہیں کیا کہ یہ کھالیں کہاں سے لائے اور کہاں جا رہی ہیں؟ انتہا یہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی جب ووٹ کی ضرورت کے لئے ہندو قیادت نے جاٹوں کو ہندو بنایا تب بھی وہ ووٹ دینے کے لئے تو ہندو بن گئے اس سے زیادہ نہیں۔ ماموں حکیم عبدالصمد صاحب کے جب حج کے لئے جانے کی خبر عام ہوئی تو یہ بھی بتایا گیا کہ وہ کار سے جو یاجائیں گے وہاں سے مراد آباد۔ تو جاٹوں کے چودھری آئے اور انہوں نے کہاکہ حکیم جی جوئے تک جلوس پیدل جائے گا۔ اور ہر گاوں میں رکتے ہوئے جانا ہوگا۔ اور ماموں صاحب کو ان کی محبت کے آگے جھکنا پڑا۔ اور حاجی پور سے جوئے تک ہر گائوں میں نوٹوں کے ہار ڈالے گئے اور ہر ساتھی کو مٹھائی کھلائی گئی۔
ان جاٹوں کو بی جے پی نے اپنے ووٹوں کے لئے اتنا زہر یلا بنا دیا کہ مظفر نگر کے زخموں سے آج تک خون رس رہا ہے۔ اور ان کے مارے ہوئے مسلمان ابھی تک سیدھے نہیں ہوئے ہیں۔
آج وہی جاٹ ہیں اور وہی بی جے پی ہے کہ پورا ہریانہ آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ ہر شہر میں کرفیو ہے ہر بستی سے آگ کے شعلے نکل رے ہیں ہر سرکاری بس اور کاریں موٹر سائیکل دھواں اگل رہی ہیں ہر سڑک جو دہلی جاتی ہے بند ہے ہر پٹری پر کیمپ لگے ہیں صرف نوجوان اور جوان ہی نہیں ،بزرگ اور عورتیں بھی ایسی ہی لاٹھیاں لئے پٹری پر بیٹھی ہیں جیسی لاٹھیوں میں ترنگا پھیلا کر پٹیالہ ہائوس کے باہر بھاجپائی وکیل اپنی بہادری دکھا رہے تھے۔ اور یہ تو ملک میں پہلی بار ہوا ہے کہ چار ریلوے اسٹیشن پھونک دئے گئے۔ بات صرف اتنی ہے کہ رزرویشن کے نام پر ان سے ووٹ لے لئے اور عادت کے مطابق بھول گئے۔ یا یہ سمجھ لیا کہ یہ بھی دلتوں کی طرح رو دھو کر بیٹھ جائیں گے۔
ہمارا چھ برس سے زیادہ چودھری چرن سنگھ سے گھر جیسا تعلق رہا۔ دیوالی بھی آئی ، ہولی بھی دسہرہ بھی، اور رکشا بندھن بھی۔ وہ اپنے وقت کے سب سے بڑے جاٹ تھے۔ لیکن کسی ایک موقع پر بھی نہیں دیکھا کہ گھر میں تیوہار کا ماحول ہے۔ کوئی آیا مبارک باد دی جواب میں مسکرا دئے اور کام کی بات شروع۔ ہم نے ایک بار بھی کلائی میں دھاگا بندھا ہوا نہیں دیکھا۔ ایک بار بھی نہیں سنا کہ پوجا کر رہے ہیں۔ اور ایک بار بھی ان کی زبان سے کسی مندر کی بات نہیں سنی۔ ہم ایک بار لکھ چکے ہیں کہ جب اجیت سنگھ کا تلک آیا تو سب کو بلایا ہم جیسے مسلمان بھی تھے۔ دوسو کے قریب فرش پر تھے مگر وہ سب سے دور ایک کنارہ پر دروازے سے ٹیک لگائے غیروں کی طرح بیٹھے تھے برابر میں 10سالہ بیٹی منّی بیٹھی تھی۔ مہمانوں کی خاموشی جب ناقابل برداشت ہوگئی تو چودھری صاحب نے کہا کہ سب کیوں بیٹھے ہیں؟ رام نرائن ترپاٹھی نے کہا کہ پنڈت جی کا انتظار ہے۔ چودھری صاحب نے جواب دیا کہ اس سے زیادہ پنڈت تو میں دیکھ رہا ہوں۔ تو یہ سب کیا کم ہیں؟ چودھری صاحب کی بات ختم ہوئی تو ایک اور برہمن نے کہا کہ اجیت بابو کی ٹوپی منگا دیجئے۔ چودھری صاحب اتنے غیر سنجیدہ تھے کہ کہنے لگے کیا ٹوپی ضروری ہے؟ اور جب جواب میں کہ اگیا کہ اچھا ہے۔ تو بولے کہ اچھا منی فیصلہ کرے گی کہ اس کے بھیا ٹوپی پہن کر بیٹھیں یا ننگے سر۔ منّی اتنی بھولی تھی کہاس نے کہا کہ بھیّا کے پاس ٹوپی ہی نہیں ہے۔
اجیت سنگھ ننگے سر بیٹھے رہے سب پنڈتوں نے اشلوک بلند آواز سے پڑھنا شروع کئے اور بمشکل 5منٹ ہوئے ہونگے کہ چودھری صاحب نے روک دیا اور کہا کہ بس کرو میں آریہ سماجی ہوں۔ اور ایک منٹ میں سب خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک صاحب نے سب کے تلک لگا نا شروع کئے تو چودھری صاحب نے کہا میرے مسلمانوں کا خیال رکھئے گا۔ اور جب تلک لگانے وہ میرے پاس آئے تو ہاتھ پر لگا کر آگے بڑھ گئے۔ وہ اندر سے بھی جاٹ تھے اور باہر سے بھی۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر اتنی تعداد میں جاٹ مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو آج انکا ایک صوبہ نہیں ایک الگ ملک ہوتا۔ لیکن یہ کبھی نہیں کہا کہ جاٹوں کو مغل بادشاہوں نے مسلمان بنایا۔ ہمارے اکثر جاٹ دوستوں نے ہمارے ساتھ ہوٹل میں یا ہمارے گھر یا ہمارے بچوں کی شادی میں کھانا کھایا تو بے تکلف گوشت کھایا۔ ایک دوست نے کباب کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ہم نے چپکے سے کہا کہ یہ بڑے کے ہیں۔ اس نے ہنس کر کہا کہ ہم نے گوشت کی شروعات ہی بڑے کے گوشت سے کی ہے۔
آرایس ایس نے جاٹوں کو ہندو بنانے میں سب سے زیادہ میڈیا کا استعمال کیا ہے۔ لکھنؤ یونیورسٹی یونیئن کے لیڈر اور ایم ایل اے سمرپال سنگھ نے بار بار کہا کہ ہمارے گھر میں ماں بہنیں جانتی بھی نہیں تھیں نوراتری کے برت کیا ہوتے ہیں؟ شیوراتری کیا ہوتی ہے؟ کروا چوتھ کیا ہوتاہے؟ یا اور چھٹ پوجا کیا ہوتی ہے؟ لیکن ان سب کے باوجود مردوں میں صرف مسلمانوں سے دوری تو آئی مگر پوجا پاٹ نہیں آیا۔ یہ مودی صاحب یا آر ایس ایس کی سوچ ہے کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کسی زمینی لیڈر کو نہ بناکر ایک اپنے چہیتے پرچارک کو بنا دیا جس کی ذہنیت سوفیصدی سنگھ کی مٹھی میں ہے۔ اور وہ جاٹوں کو رزرویشن دیکر انہیں دلتوں کی طرح مزید طاقتور نہیں بنا سکتا۔ ہر یانہ میں اس سے پہلے بھی رزرویشن کے لئے تحریک چھڑی تھی۔ پٹریوں پر مردوں کے ساتھ عورتیں بھی چولھے چکی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ لیکن نہ سیکڑوں گاڑیاں بند ہوئی تھیں اور نہ ہریانہ اور نہ دہلی کو ہر طرف سے کاٹاتھا۔ اور اس کا تو ذکر بھی نہیں ہوا تھا کہ دہلی کا پانی بند کر دیا جائے۔ اور یاد آتا ہے کہ اس وقت صرف ایک راستہ ریل اور سڑک کا بند کیا تھا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ہر راستہ بند ہے اور وزیر داخلہ سے گفتگو میں صرف اتنی بات ہوئی ہے کہ ایک اعلیٰ اختیاری کمیٹی بنادی جائے۔ جب کہ ضرورت یہ ہے کہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ کو بتدیل کیاجائے اور کسی زمینی لیڈرو کو ریاست سونپ دی جائے۔ اور ہر فیصلہ ووٹ کی خاطر اور ہر اعلان ووٹ کی خاطر کرنے کے بجائے اس علاقہ کے مسائل سے متعلق اور وہاں کے رہنے والوں کی ترقی کے پیش نظر بھی کئے جائیں۔ یہ صحیح ہے کہ حکومت کے لئے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ووٹ صرف ترکیبوں سے نہیں ملتے اس یقین کے بعد بھی ملتے ہیں کہ کون ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔ ملک کے جانے کتنے لیڈر ایسے ہیں جنہیں ان کے حلقوں کے ووٹروں نے کامیاب کرایا۔ اگر مودی صاحب بھی ہر فیصلہ صرف ووٹ کو سامنے رکھ کر کرنے کے بجائے اور آرایس ایس کی فرماں برداری کرنے کے لئے نہ کریں تو انہیں ہر گز بہار کی طرح جان کھپانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مودی صاحب کو یہ سمجھنا چاہئے کہ الیکشن بالکل دوسری چیز ہے اور شاکھائیں بالکل دوسری ۔ اگر ان کے بزرگ موہن بھاگوت یہ سوچے بیٹھے ہیں کہ وہ تین سال میں پورے ملک کو زعفرانی بنا ہوا دیکھ لیں ، تو ان کی بھول ہے۔ اگر انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی جیسی حرکتوں کو جاری رہنے دیا تو خطرہ ہے کہ ہر صوبہ میں ہریانہ جیسا خون خرابہ ہو۔ ہریانہ میں آٹھ انسانوں ، درجنوں بسوں گاڑیوں اور اسٹیشنوں کی موت عقل ٹھکانے لگانے کے کافی ہونا چاہئے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker