Baseerat Online News Portal

سری لنکا کو اقوام متحدہ میں ہندوستان سے تعاون کی توقع

 

کولمبو22مارچ(بی این ایس )

سری لنکا کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ایک اہم قرارداد کا سامنا کرنا پڑے گا جس کو صدر راج پکشے کے لیے ٹیسٹ سمجھاجارہا ہے۔ انہیں ایک ایسے وقت میں اس تجویز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب یہ الزامات عائد کیے جارہے ہیں کہ ایل ٹی ٹی ای سے 2009 میں مسلح تصادم کے خاتمے کے بعد متاثرہ افراد کے ساتھ انصاف کی فراہمی اور مفاہمت کو یقینی بنانے کے لیے ان کی حکومت کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔سری لنکا کو اقوام متحدہ کی یونٹ میں لگاتار تین بار اس تجویز پر شکست کاسامناکرنا پڑا ہے ، اس دوران گوتمبیا کے بڑے بھائی اور موجودہ وزیر اعظم مہندا راجاپکشے 2012 اور 2014 کے درمیان ملک کے صدر تھے۔عہدیداروں نے بتایاہے کہ سری لنکا میں انسانی حقوق اور مفاہمت کی احتساب کو فروغ دینے کے مسودے کو پیر کے اجلاس میں درج کیا گیا ہے۔وزیر خارجہ دنیش گنوردینے نے ہفتے کے آخر میں صحافیوں کوبتایاہے کہ پوری تجویز خاص طور پر برطانیہ کی طرف سے سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ دریں اثنا سری لنکا کو چین ، روس اور پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک سے یقین دہانی موصول ہوئی ہے۔گنوردنے نے کہاہے کہ ہم اپنے اوپر لگائے گئے جھوٹے الزامات کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور بہت سے دوست ممالک نے اس میں ہمارے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس بار بھی ہندوستان ہمارا ساتھ دے گا۔تاہم کولمبوعہدیداروں کو لگتا ہے کہ بھارت ووٹنگ میں حصہ نہیں لے گا۔

You might also like