مضامین ومقالات

اُس میں اُتنا ہے دم۔۔۔ہم میں کتنا ہے دم

مدثر احمد۔ایڈیٹر روزنا مہ آج کا انقلاب،شیموگہ،کرناٹک:9986437327
پچھلے دو مہینوں سے ہندوستان بھر میں احتجاجوں کی ایک لہرامنڈ آئی ہے اور اس لہر کی وجہ سے ہندوستانی حکومتوں پر ایک طرح کا لرزہ طاری ہوگیا ہے۔کہیں طالب العلم کی موت کو لیکر احتجاج ودھرنے جاری ہیں تو طلباء کی گرفتاری کولیکر حکومت کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔کہیںپر ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے گائوں کے گائوں آگ جھلس رہے ہیں،آخر میں حکومتیں ان کے مطالبات کو جائز مطالبات کہتے ہوئے ان کی فرمائشوں کو پورا کرنے کیلئے آمادہ ہورہی ہے۔ان وارداتوں کو انجام دینے والے نہ دہشت گرد ہیں نہ ہی ملک مخالف عناصر۔یہ تمام حب الوطن ہیں اور ان کی وطن پرستی کے تعلق سے کوئی کچھ سوال نہیں اٹھا سکتا،کیونکہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں؟۔اگر مسلمانوںنے اس ملک میں اس تحریک کو بنیاد بنادیا ہوتا تو آج ہندوستان کی پوری حکومتیں اس تحریک کو ختم کرنے کیلئے ایسی سازشیں رچتے جو کسی دہشت گرد تنظیم کیلئے رچی جاتی ہیں۔ملک میں یوں تو کئی ایسی تنظیمیں ہیں جنہوںنے مسلمانوں کے سماجی حقوق کیلئے آواز بلند کی ہے،جماعت اسلامی ہند آزادی کے بعد سے اب تک مسلمانوں کی سیاسی و ملی قیادت کرتی رہی ہے،مگر اندرا گاندھی کے دور میں ایمرجنسی کے وقت پر اس تنظیم پر پابندی عائد کی گئی تھی۔بعد میں پابندیاں ہٹا لی گئی لیکن جو جوش وجذبہ ایمرجنسی قبل دیکھا گیا تھا وہ اب باقی نہیں رہا۔اب تو ان کے پاس حکمت و مصلحت ہی ایسے دو ہتھیار ہیں جس سے وہ اپنی بات پہنچانا چاہتے ہیں۔اس کے بعد قریب پچاس سال بعد مسلمانوں کی ملّی سیاسی ،سماجی قیادت کیلئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی بنیاد پڑی۔اس تنظیم کے اغراض و مقاصد و عزائم کو بھانپتے ہی ہندوستانی حکومتیں اس تنظیم کو دبانے و دبوچنے کیلئے منصوبہ بند طریقے سے بدنام کرنے لگے ہیں۔مسلمانوں کی قیادت کے نام پر جب بھی کسی تنظیم کا قیام ہوا ہے اُس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ مسلمان ان تنظیموں کو اپنے حقوق کیلئے استعمال کرنے کے بجائے ،اپنے سماجی انصاف کو حاصل کرنے کیلئے اُن تنظیموں کا ساتھ دینے کے بجائے مسلک و مکتب کے آئینہ میں دیکھتے رہے ہیں۔کئی ایسی تنظیمیں وجود میں آکر ختم ہوگئی ہیں جسے مسلک ومکتب کی نظریات نے جلا دیا ہے۔ہم نے کبھی یہ نہیںسوچا کہ جب مسلمانوں پر حملے کئے جاتے ہیں تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کس مسلک کے مسلمان ہیں؟۔بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ کلمہ پڑھنے والا ہے،اس کی ختنہ ہوئی ہے اور اس کے چہرے پر نمازی ہونے کا کوئی نشان ہے۔اگر یہ باتیں ثابت ہوجاتی ہیں تواُس مسلمان کا خاتمہ یقینی ہے۔لیکن ہم مسلمان آپس میںانتشارات پھیلانے کے سواء اور کوئی کسی کام کوانجام نہیں دے رہے ہیں۔غور طلب بات ہے کہ ہمارے پاس تنظیمیں بنانے والے تو بہت مل جائینگے لیکن اس میںشامل ہونے والے انہیں سنبھالنے والے نہیں ملیں گے۔کیونکہ ہماری سوچ محدود ہے،ہم ہر کام کو مسلک و مکتب کے نظریات سے انجام دیتے ہیں ،ہمار ے پاس نہ مستقبل کا کوئی منصوبہ ہے نہ ہی ہم اپنے آپ کو غلامی کی زنجیروں کوچمچہ گری کے سائے سے نکالنا چاہتے ہیں۔ ہماری ان تحریروں کو پڑھنے والے تو بہت ہونگے اور اس کی واہ واہی کرنے والے بھی کم نہیں ہیں۔کچھ لوگ ستائش میں فون کرتے ہیں تو کچھ لوگ ان تحریروں کو دوسروں پر پڑھ کر سناتے ہیں۔لیکن ہمارا مقصد ہماری واہ واہی لوٹنا نہیں ہے بلکہ لکھنے والے ان تحریروں سے اس مقصدسے لکھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی تو آگے بڑھے اور قوم کی باگ ڈور سنبھالیں۔ان تحریروں کو پڑھنے والے کچھ لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ آپ اتنا کچھ لکھتے ہیں تو کیوں خود ہی آگے بڑھتے۔صحافی و مضمون نگار تو سماج کا آئینہ ہوتے ہیں اور سماج کو حالات حاضرہ سے با خبر کرتے رہتے ہیں۔ایک آئینہ کا کام سامنے والے کو ترتیب دینا نہیں ہے بلکہ اس کی اصلیت کو دکھانا ہوتا ہے،اور یہی کام ہم کررہے ہیں۔ہم بات کررہے تھے موجودہ حالات پر،آج کل جاٹ ،یادو، ایڑیگاس جیسی قومیں اپنی براداری کیلئے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے پورے ملک میں سرخیوں پر چھائے ہوئے ہیں۔لیکن ہم مسلمان نہ اپنی قوم کیلئے ریزرویشن کیلئے کبھی تحریک چھیڑنے کیلئے آمادہ ہوئے ہیں اور نہ ہی اپنی زبان اردو کے ساتھ ہورہی نا انصافیوں کو روکنے کیلئے ایک جوٹ ہوئے ہیں۔مسلمانوں کے جو سیاسی نیتا ہیں وہ تو کھادی ٹوپی پہن کر اپنے آپ کو مسلم لیڈر بنا لیتے ہیں لیکن انہیں مسلمانوں کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔شیروانی پہننا ان لیڈروں کا شیوا ہے لیکن وہ اردو جیسی شیریں زباں کیلئے کبھی آواز بلند نہیں کرتے۔آخر کیوں ہم اتنے بے دم ہوگئے ہیں جب دوسروں کے پاس حکومتیں ہلانے کادم ہے تو کیا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے سوچئے؟۔کہ آج ملک کے مسلمان کس حد تک پریشانیوں میں مبتلا ہیں،ہم مسلمان نہ سکون سے روزگار حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے پاس ریزرویشن کی اچھی سہولت ہے۔جسٹس سچر نے تو باقاعدہ مرکزی حکومت کو یہ سفارش دے رکھی ہے کہ مسلمانوں کی بدحالی کو درست کرنا مرکزی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ کے باوقار جج کی جانب سے تیار کردہ سفارشات کو نافذ کروانے کیلئے ہم مسلمانوں نے کیوں نہیں آواز اٹھائی۔خیر مرکزی حکومت توفی الوقت یہ کام انجام نہیں کرسکتی کیونکہ اس کا مدعہ ہی مسلمانوں سے ان کے حقوق چھینا ہے۔لیکن جن ریاستوں میں مسلم حمایتی حکومتیں ہیں جہاں پر سیکولرزم کا واویلا مچانے والی حکومتیں ہیں اور جہاں پر مسلمانوں کے نام نہاد قائدین مسلمانوں کے حقوق کیلئے سرکٹانے کیلئے تیار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہاں پر تو مسلمان یہ آواز بلند کرسکتے ہیں ہمیں ہمار احق دو،ہمیں بھیک نہ دو اور ہم مسلمانوں کو سماجی انصاف دیں یا کم ازکم چار حروف پڑھنے کیلئے ریزرویشن دیں۔لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہورہا ہے اور ہم افسوس کئے جارہے ہیں لیکن ہماری ان حالات پر توجہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔بھلے ہم انا ہزارے و کیچریوال کی طرح ہزاروں لوگوں کا ہجوم نہیں جماسکتے لیکن کم ازکم پندرہ بیس افراد پر مشتمل ایک ایک گروہ اپنے علاقوں میں دھرنے پر بیٹھ جائیں تو اس کے کچھ نہ کچھ مثبت نتائج سامنے آئینگے ،یقین نہ تو ٹرائی کرکے دیکھ لیں۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker