Baseerat Online News Portal

میرے والد محسن ومربی

مفتی امتیاز احمد قاسمی
دار القضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
میرے والد محترم شیخ رئیس الاعظم مرحوم مورخہ۲۶؍ربیع الثانی ۱۴۳۷ھ مطابق ۶؍ فروری ۲۰۱۶ء روز سنیچر کو بوقت ۷؍بجے شب تقریبا ۵۸؍سال کی عمر میں دار فانی سے دار البقا ء کی طرف کوچ کر گئے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔ مرحوم ضلع مغربی چمپارن کے ایک گاؤں مڑلی پرسونی ،گوری پور کے رہنے والے تھے۔انہوں نے کاشت کاری کو اپنا مشـغلہ بنایا،صوم وصلوۃ کے پابند، نیک طبیعت انسان تھے۔دوسروں کی ضرورت میں ہمیشہ کام آتے تھے،لڑائی جھگڑا سے دور رہتے، اپنے حقوق کو معاف کرنے اور دوسروں کے حقوق کو اداکرنے کی صفت ان کے اندر تھی ،پوری زندگی بہت سادگی کے ساتھ گذاری ۔
والد مرحوم نے میری تعلیم وتربیت میں انتھک جد وجہد کی ،ان کی خواہش تھی کہ میں دینی تعلیم حاصل کروں ،اس کے لئے برابرہمت افزائی اور ہر ممکن تعاون کرتے رہے۔ دار العلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ان کی ترغیب پر افتاء وقضاء کی تربیت کے لئے میں نے امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں داخلہ لیا اور تربیت پائی ۔والد کا بہت بڑا سایہ ہوتا ہے ،اٹھ جانے کے بعد اس کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔زمانہ طالب علمی میں جب میں مدرسہ منبع العلوم خیر آباد ضلع مؤیوپی میں عربی پنجم کا طالب علم تھا،میری معمولی طبیعت خراب ہو گئی ،گھر پر فون کے ذریعہ اطلاع دی، دوسرے دن میرے والد صاحب میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ وہاں حاضر ہوگئے اور علاج کرایا۔دار العلوم دیوبند جانے سے پہلے گاؤں علاقہ کا ماحول دیکھ کر میں نے تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے کا ارادہ کر لیا ،پاسپورٹ بنواکر باہر جانے کی مکمل تیاری کر لی۔ والد مرحوم کی نصیحت پر قربان جاؤں انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ علاقہ کی بات تو دور خود اپنی بستی کے ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد حصول مال کے لئے باہر ملک میں ہیں ؛لیکن اس بستی میں سند یافتہ عالم ایک بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم روزی کی فکر مت کرو ،اللہ تعالی پر بھروسہ کرو اور دینی تعلیم کو ضرور مکمل کرو۔والد کی نصیحت کام آئی پھر میں نے تکمیل تعلیم کے لئے اپنے آپ کو مکمل تیار کر لیا۔تعلیم سے فراغت کے بعد بھی ان کی پوری کوشش رہی کہ میں دینی خدمات انجام دیتا رہوں۔
مرحوم اپنی جوانی کی عمر میں صحت مند اور تندرست تھے ۔کاشت کاری اور گھر کا کام خود سے کیا کرتے تھے ۔ ہم بھائیوں کو ان کاموں سے آزاد رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ مجھ کو خود نہیں معلوم ہے کہ ہماری کھیتی کی زمین کہاں کہاں ہے۔تقریبا بارہ سال قبل ان کو شوگر کی بیماری لاحق ہوئی اور دھیرے دھیرے وہ کمزور ہوتے گئے۔برابر علاج کے سلسلہ میں وہ پٹنہ بھی آیا کرتے تھے۔ مختلف ڈاکٹروں سے ان کا علاج ہوا چھہ ماہ پہلے آئی ،جی ،ایم ،ایس پٹنہ میں پندرہ روز زیر علاج رہے۔ امارت شرعیہ کے ایک وفد نے وہاں پہنچ کر مرحوم کی عیادت بھی کی ،جس کا تذکرہ وہ برابر کیا کرتے تھے۔ مرحوم جب پٹنہ آتے تھے تو امارت شرعیہ کے کاموں اور یہاں کے ماحول سے بہت خوش ہوتے تھے اور علاقہ میں اس کا تذکرہ بھی کرتے تھے۔
سال گذشتہ جب میں حج کو جارہا تھا اس وقت بھی ان کی طبیعت علیل تھی ۔میں نے ڈاکٹر سے ان کا علاج کرایا، اس وقت انہوں نے اللہ تعالی سے دعاء کی تھی کہ اے اللہ اس وقت مجھ کو دنیا سے اٹھانا کہ میرا بیٹا بھی آخری دیدار کر لے،میں نے بھی ان کی صحت کے لئے دعاء کی تھی۔ حج سے واپسی کے بعد ملاقات ہوئی تو کافی خوش تھے۔ برابر ان کے علاج کے لئے میں گھر جایا کرتا تھا۔ آخر وہ وقت آہی گیا کہ جس کا تمام مخلوق کو سامنا کرنا ہے ۔ مورخہ ۶؍فروری ۷؍بجے شب میں جبکہ دیگر لوگوں کے ساتھ آئی ،او ،ایس کے پروگرام کی تیاری میں امارت شرعیہ کے احاطہ میں تھا گھر سے فون آیا کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔دل کو ایک دھکا سا لگا، انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔امارت شرعیہ کے احباب وذمہ داران نے دلاسہ دلایا، صبر کرنے اور اللہ کے ہر فیصلہ پر راضی رہنے کی تلقین کی،رات ہی میں پوری فیملی کے ساتھ گھر کے لئے روانہ ہو گیا۔ گھر پر والدہ اور دیگر رشتہ دارمتاثر تھے ،ان کو صبر دلایا ۔ دوسرے دن بعد نماز ظہر آبائی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔اپنے بھائیوں کے ساتھ میں نے خود غسل دلایا، کپڑے پہنایا ،نماز جنازہ پڑھائی اور دیگر امور انجام دیا۔ آنکھیں اشک بارتھیں ، دل غمگین تھا،چہرہ اداس تھا ،لیکن زبان سے یہ دعاء نکل رہی تھی اور اب بھی نکل رہی ہے کہ اللہ تعالی والد مرحوم کے ساتھ لطف وکرم کا معاملہ کرے ،ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند کرے اورجنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ والدہ باحیات ہیں اللہ تعالی ان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کو صحت تندرستی دے۔حضرت ناظم صاحب امارت شرعیہ اور دیگر بہت سارے حضرات نے اظہار تعزیت کیا ،مرحوم کی مغفر اور ترقی درجات نیز پسماندگان کے صبر جمیل کے لئے دعائیں دیں ۔
ہم لوگ تین بھائی اور ایک بہن ہیں۔ والد مرحوم سب کی شادی سے فارغ ہو گئے تھے؛ حتی کہ میری ایک بھانجی میرے یہاں رہ کر تعلیم حاصل کرتی تھی دو سال پہلے اس کی بھی شادی اپنے اخراجات سے کر دیئے اور خود دنیا سے فارغ ہوکر آخرت کو سدھار گئے ۔اب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی نصیحتین ،دین کی خدمت دل وجان سے کرنے کی ترغیب اور اس سلسلہ میں ان کی فکر مندی ہمیشہ مجھے یاد رہے گی اور مرحوم کے لئے ذخیرہ آخرت ہوگا۔اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور درجات کو بلند کرے آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے۔ایں دعاء از من و از جملہ جہاں آمین باد
خدا کی رحمتیں تیری لحد پہ سایہ فرمائیں ہمیشہ تیری تربت پہ فرشتے پھول برسائیں

You might also like