مضامین ومقالات

گفتگوکرنے کے اسلامی آداب

مولانااسرارالحق قاسمی
زبان سے نکلے ہوئے الفاظ انسان کی فطرت اور اس کی فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔آدمی جوکچھ بولتاہے اس سے پتہ چلتاہے کہ وہ کیاسوچتاہے اور دنیا،معاشرہ اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے تعلق سے اس کی فکر کیاہے۔اس لیے زبان کی بہت غیر معمولی اہمیت ہے اوراتنی ہی اہمیت اس کے استعمال کی بھی ہے۔زبان کے برمحل اور اچھے استعمال سے انسان تعریف و توصیف کا حق دار بنتاہے جبکہ اس کے بے جااستعمال سے اس کو مختلف موقعوںپرذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتاہے،زبان کے درست استعمال سے انسان بلندیوں پر بھی پہنچتاہے جبکہ اس کے بے جااستعمال سے وہ پستیوں میں چلا جاتا ہے، ہماری زبان سے نکلنے والاایک لفظ یہ بھی ہوسکتاہے کہ مخاطب کی نگاہ میں ہمیں معززومحترم بنادے اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ ہم سامنے والے کے نزدیک کمتروکہتر ہوجائیں۔اس لیے اسلام میں زبان کے صحیح استعمال کے ضمن میں باہمی گفتگوکے آداب بتلائے گئے ہیں اور یہ ہدایت و تاکید کی گئی ہے کہ ہم جب آپس میں بات کریں توکس طرح کریں،والدین سے کیسے بات کرناہے،اپنے بڑوں سے کس طرح بات کرناہے ، اپنے چھوٹوںکوکیسے مخاطب کرناہے اوراپنے خدام اور ملازمین کے ساتھ کس طرح بات چیت کرنی ہے؛اسلام میں سب کی وضاحت کی گئی ہے۔
دنیابھر کی تمام مخلوقات میں یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے سوچنے سمجھنے کی بھی صلاحیت عطافرمائی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی فکر ،سوچ اور خیال کوظاہرکرنے کے لیے زبان اور بولنے کی صلاحیت سے بھی نوازاہے،یہ اللہ تعالیٰ کی ایک غیر معمولی نعمت ہے اور اس کی قدروقیمت ان لوگوں سے پوچھناچاہیے،جوگونگے ہیں اور بات کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں،وہ دنیاکودیکھتے ہیں،سمجھتے بھی ہیں اور اپنے اردگردکے واقعات و حادثات پر اظہار ِ خیال بھی کرنا چاہتے ہیں،مگر وہ بول نہیں سکتے ،ایسے لوگ زبان اور گویائی کی صلاحیت و قوت کی اہمیت کے بارے میں ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ بتاسکتے ہیں،جوصاحبِ زبان ہیں مگر انھیں اس عظیم نعمت کا احساس وادراک نہیں اور اس کا جاوبے جا استعمال کرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالی نے اپنی محترم کتاب قرآن کریم میں انسان کواس نعمت کی یاددلاتے ہوئے فرمایاہے’’رحمن ہی نے انسان کوپیدا کیااور اسی نے انسان کو بولنا سکھایا‘‘(الرحمن:۱-۳)زبان ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے سے انسان اپنے رب اور خالق سے بھی رابطہ قائم کرتااور اس کا قرب حاصل کرتاہے اور اس کے ذریعے اپنے آس پاس اور دورتک کے انسانوںسے بھی مخاطب ہوتااور ان سے تعلقات بناتااوربڑھاتاہے۔زبان کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ فرائض و واجباتِ شرعیہ کا اہتمام کیاجائے،جن چیزوںسے اللہ نے روکاہے ان سے بچاجائے اور اس کے ساتھ ساتھ کثرت سے اللہ کا ذکر کیاجائے ،قرآن کریم کی پابندی سے تلاوت کی جائے۔اللہ کے نبیﷺکے بارے میں ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ’’رسول اللہﷺہروقت اللہ کاذکر کیاکرتے تھے‘‘۔انسانوںسے اپنے تعلقات کو خوشگوار اور بہتر بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ہمیشہ اپنی زبان سے اچھی اور مفید بات کی جائے،اللہ کے نبیﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ’’پاکیزہ اوراچھی بات بھی صدقہ ہے اور باعثِ اجرہے‘‘۔لہذاانسان کو چاہیے کہ اپنی زبان سے ہمیشہ سچ بولے،دروغ گوئی،سخت روئی،غیرمہذب اور فحش باتوں سے احتراز کرے۔نرم گفتگواور خندہ روئی سے پیش آنے سے انسان کے دل نرم ہوتے ہیں اور لوگوں پر اس کے اچھے اور خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں،اس کے برخلاف اگر سخت کلامی،ترش گوئی اور فحش زبان استعمال کی جائے تواس کے نتیجے میں دلوںمیں نفرت و عداوت کے جذبات بھڑکتے اور لوگ آپ سے بدکنے لگتے ہیں۔اسی وجہ سے اللہ کے نبیﷺنے ایسے شخص کوبشارت دی ہے جواپنی گفتگواور معاملات میں نرمی اور شائستگی اختیار کرتاہے،آپﷺنے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتاہے جوخریدتے وقت نرمی اختیار کرے اور جوفروخت کرتے وقت نرمی اختیار کرے اور جواپناحق طلب کرنے میں بھی نرمی اختیار کرے‘‘۔ظاہر ہے کہ معاشرتی زندگی کے بیشتر معاملات زبان ہی سے طے پاتے ہیں اس لیے ایک اچھے مسلمان کی یہ صفت ہونی چاہیے کہ وہ عام بات چیت میں بھی اور باہمی معاملات میں بھی نرم گوئی اورتہذیب و ادب کا مظاہرہ کرے،اس کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ معاملات بھی اچھے طریقے سے نمٹیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ دلوںمیں محبت و الفت اور ایک دوسرے کے تئیں نرم دلی اور خیرخواہی کا جذبہ بھی باقی و برقرار رہے گا۔
ایک مسلمان اگر باہمی معاملات اور گفتگوکرنے کے اسلامی آداب کوجان لے(جن کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے)اور پھر ان پر عمل بھی کرتارہے تو اپنی عملی زندگی میں وہ نہایت ہی نرم گواور مہذب ہوگااوروہ اپنی زبان سے ہمیشہ پاکیزہ کلام ہی نکالے گا۔وہ ہمیشہ یہ کوشش کرے گا کہ اس کی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکلنے پائے جواس کے مخاطب کوتکلیف پہنچائے اور باہمی تعلقات میں دراڑپڑنے کاسبب بن جائے۔اسی وجہ سے ہماری شریعتِ مطہرہ نے ہر مسلمان کویہ حکم دیاہے کہ وہ جب اپنے بھائی سے ملے توگفتگوکاآغازایک پاکیزہ اور بابرکت کلام سے کرے اور سب سے پہلے’السلام علیکم‘کہے اور دوسرے کویہ حکم دیاگیاکہ وہ اس کا جواب’وعلیکم السلام‘کے ذریعے دے،ظاہرہے کہ اگر اس طرح دوآدمی اپنی بات چیت کا آغاز کریں گے،توگویادونوں ایک دوسرے کے لیے امن و سلامتی اور عافیت بھری زندگی کی دعاکررہے ہیں،اس سے اجتماعی سطح پربھی اچھے اور خوشگوار اثرات عام ہوںگے،امن و سلامتی
کی فضاکوپھلنے پھولنے کا موقع ملے گا اور جب کسی گفتگویا معاملے کی شروعات ایسے عمدہ الفاظ و کلمات سے کی جائے گی توپھراس مجلس میں جوبھی معاملہ طے پائے گا،وہ بہتر ہوگااور دونوں کے لیے نفع بخش ہوگا۔
اسی طرح جب اپنے سے کسی بڑے مثلاً والدین،بڑے بھائی یا گاؤںمحلے اور پاس پڑوس یاکسی بھی بڑے شخص سے گفتگوکی جائے تواس بارے میں اسلامی ادب یہ ہے کہ گفتگومیں تعظیم و ادب کا عنصر غالب رہنا چاہیے،بے ادبی یا بدتمیزی سے سختی سے گریزکرنا چاہیے تاکہ ہمارے مخاطب جوہم سے بڑے ہیں ،خواہ کسی بھی اعتبار سے ہوں،ان کے دل میں ہمارے تئیں شفقت و رحمت اور نرمی و ہمدردی کا جذبہ ابھرے اور وہ ہماری بات کو غور سے سنیں ۔اسی طرح جب ہم اپنے کسی چھوٹے سے بات کررہے ہوںتواس وقت اسلامی ادب یہ ہے کہ شفقت و نرم دلی والالہجہ اختیار کیاجائے،اس کا فائدہ یہ ہے کہ ہمارے مخاطب کے دل میں،جوہم سے چھوٹاہے،عظمت اور احترام کا جذبہ ابھرے گا اور وہ ہماری تعظیم کرے گا،ہماری باتوں کو توجہ سے سنے گا اور ہمارے مشورے پر عمل کرے گا؛کیوںکہ اسے لگے گاکہ ہمارے بڑے نے جوبات کہی ہے یاجومشورہ دیاہے وہ ہماری مصلحت و منفعت ہی کی خاطردیاگیاہے،اس سلسلے میں نبیِ اکرمﷺنے ایک مضبوط اصول بتادیاہے اور اس میں مذکورہ ادب کی خلاف ورزی کرنے والے کے لیے وعید بھی ہے،آپﷺنے صاف طورپر فرمایا’’جواپنے بڑوں کا احترام نہ کرے اور اپنے سے چھوٹوںپر شفقت نہ کرے،وہ شخص ہم میں سے نہیں‘‘۔اس حدیثِ پاک سے ہمیں یہ تعلیم حاصل ہوتی ہے کہ بڑوں کا اکرام اور چھوٹوں پر شفقت محض اخلاقی فریضہ ہی نہیں ہے؛بلکہ وہ ایک دینی و شرعی ذمے داری بھی ہے،جس کا ہر مسلمان کو احساس ہونا چاہیے اور اس کی خلاف ورزی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
اسی طرح جب آپ کا واسطہ کسی جاہل،بداخلاق اور بدگوشخص سے پڑجائے،تواس وقت اسلامی اخلاق کا تقاضایہ ہے کہ غصے کوپیتے ہوئے اور اپنے جذبات پرقابورکھتے ہوئے اس شخص سے نرمی کے ساتھ بات چیت کی جائے اور اس کوڈانٹنے ڈپٹنے سے بچاجائے کیاجائے،اس کے دوفائدے ہیں،ایک تویہ کہ ایسا کرنے سے آپ کی زبان بدگوئی،تندی و ترشی اوراس کے برے نتائج سے محفوظ رہے گی اور دوسرافائدہ یہ کہ ممکن ہے آپ کی بات چیت کی نرمی کی وجہ سے سامنے والے کادل بھی نرم پڑجائے اور وہ متاثرہوکر اپنی زبان کولگام دینے کی عادت ڈال لے۔الغرض ایک مسلمان اپنی کسی قسم کی بھی گفتگومیںتندی و ترشی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا،کیوںکہ اسلام اسے ہر موقع پرزبان پرکنٹرول کرنے اوراس کے صحیح استعمال کی تعلیم دیتااور اس کی تاکید کرتاہے۔زبان کو قابومیں رکھنے اوراس کے صحیح استعمال کے فوائد بے شمارہیں ،بہت سے تووہ ہیں،جوانسان کوفی الفورحاصل ہوجاتے ہیں،جبکہ بہت سے فائدے اس کے لیے صدقہ اور ذخیرۂ آخرت بن جاتے ہیں۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان کے صحیح استعمال اور اس عظیم نعمت کی قدرکرنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین)
(مضمون نگار مشہور عالم دین اور ممبر آف پارلیمنٹ ہیں)
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker