Baseerat Online News Portal

وزیراعظم مودی کے دورۂ بنگلہ دیش کے خلاف مظاہرے، ۸جاں بحق کئی زخمی

آن لائن نیوزڈیسک
بنگلہ دیش میں حکام کے مطابق پی ایم نریندر مودی کے ڈھاکہ کے دورے کے موقع پر پرتشدد مظاہروں میں ایک مذہبی گروپ کے۸؍کارکنان ہلاک ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب بنگلہ دیش آزادی کی گولڈن جوبلی منا رہا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد ’حفاظت اسلام‘ کے رکن تھے۔چٹاگانگ میڈیکل کالج کے ایک انسپکٹر علاؤالدین نے بتایا کہ ’ہمیں۸؍ لاشیں موصول ہوئیں، ان کو گولیاں لگی ہوئی تھیں۔ ان میں سے ۶ مدرسے کے طالب علم تھے جبکہ دو دیگر افراد تھے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مزید کئی لوگ کی حالت نازک ہے، تاہم یہ نہیں معلوم کہ کس نے فائرنگ کی، خیال رہے کہ مظاہرین کا الزام ہے پولیس کی طرف سے فائرنگ کی گئی ۔ ہاٹ ہزاری ٹاؤن کے ایک حکومتی نمائندے کا کہنا ہے کہ 15 سو کے قریب حفاظت اسلام کے حامیوں نے وزیراعظم مودی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ایک پولیس ا سٹیشن پر حملہ کیا۔ہاٹ ہزاری بنگلہ دیش کا واحد علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ مدارس واقع ہیں۔ یہاں حفاظت اسلام کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے جو 2010 میں قائم ہوا تھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت ہے۔حفاظت اسلام کے ترجمان میر ادریس نے پولیس پر ان کے پرامن حامیوں پر فائرنگ کھولنے کا الزام لگایا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’پانچ ہزار کے قریب مظاہرین تھے، وہ سب حفاظت کے حامی تھے اور وہ مدرسہ کے طالب علم تھے۔ وہ مودی کے دورے اور ڈھاکہ میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائی پر احتجاج کر رہے تھے۔گذشتہ کئی دنوں سے طالب علم اور دیگر مذہبی جماعتیں وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں۔ مظاہرین وزیراعظم نریندر مودی پر 2002 میں انڈین ریاست گجرات میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کو اکسانے کا الزام لگاتے ہیں۔ مودی اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، گجرات فسادات میں ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

You might also like