Baseerat Online News Portal

ریل بجٹ:بنیادی سہولیات نظرانداز

خبردرخبر: محمدشارب ضیاء رحمانی
وزیر ریل سریش پربھو نے اپنا دوسرا ریل بجٹ پیش کیا۔بجٹ کی جہاں ایک خاص بات یہ رہی کہ کرایہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے ،وہیں عام روایت کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں کیلئے نئی ٹرینوں کابھی اعلان نہیں کیاگیاہے ۔سرکارنے کرایہ نہ بڑھانے پراپنے وزیرکی خوب پیٹھ تھپتھپائی ہے۔حالانکہ اس پر کوئی زیادہ خوش ہونے کی ضروروت نہیں ہے۔ گذشتہ ایک برس کے اندرمختلف بہانے سے مسافروں کی جیب ڈھیلی کی جاتی رہی ہے،پلیٹ فارم ٹکٹ کی قیمت پانچ روپئے سے بڑھاکردس روپئے کردی گئی ،اورکم ازکم کرایہ جوپانچ روپئے تھااسے بھی دس روپئے کردیاگیا،تتکال چارج میں بھی اضافہ ہوا۔آن لائن بکنگ چارج 22سے بڑھاکر45روپئے کردیاگیاہے۔کینسلیشن چارجز30سے 60روپئے کردیئے گئے ہیں،چھوٹے بچوں کافل برتھ لینے کیلئے اب پورے پیسے دینے ہوں گے۔ اتنے تحفوں کی برسات توایک سال میں کرہی دی گئی توکرایہ میں اضافہ نہ کرنے پرخوش فہمی میں مبتلاہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ سرکارنے کرایہ نہ بڑھاکرکون سااحسان کردیاہے۔
سہولیات کے نام پرمستقل جیبیں ڈھیلی کی جارہی ہیں ۔ کرایہ میں مسلسل اضافہ ا س وقت قابل برداشت ہوتاجب کہ عوامی سہولیات پرتوجہ دی جاتی۔ریلوے نے موبائل ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرکے اسٹیٹس سے اپ ڈیٹ رہنے کامشورہ دیاہے۔،صرف موبائل اپلی کیشن ڈاؤن لوڈکرکے مسافر،منزل تک نہیں پہونچ سکتے، کیااسے موبائل کے سہارے زندگی چل سکتی ہے اورڈیجیٹل انڈیاکامطلب کیایہی ہے؟۔وزیرمحترم نے چارسواسٹیشنوں کووائی فائی دینے کابھی اعلان کیاہے۔ اسٹیشنوں پرمسافررات گذارنے نہیں جاتے،ٹرین پکڑنے جاتے ہیں،وہاں وائی فائی کی ضرورت ہی کیاپڑگئی ہے ۔آپ مسافروں کودس دس گھنٹے اسٹیشنوں پربیٹھاکررکھیں ،پندرہ گھٹنے کی مسافت کوپچیس گھنٹے تک پہونچادیں اورپوری ٹرین کوبھی وائی فائی سے لیس کردیں تویہ کون ساوکاس ہے ۔دوبرس سے ریلوے سروس بری طرح متاثرہے،مثلاََپہلے اگرآپ کودن بھرکے کام کیلئے دہلی سے پٹنہ جاناہوتاتوشام کی ٹرین سے جاکردن میں اپنے کام سے فارغ ہوکرپھرشام کی ٹرین سے دہلی واپسی ممکن تھی۔ایسے میں نوکری پیشہ،طلبہ یاامتحان دہندگان بآسانی اپنی آفس،کلاس اوردوسری مصروفیات سے ایک دن کی چھٹی پریہ سفرکرپاتے تھے،مودی سرکارمیں اب یہ ناممکن ہوگیاہے۔پوراریلوے نظام چوپٹ ہوگیاہے، پندرہ گھنٹے کی مسافت ،پچیس گھنٹے میں طے ہورہی ہے،شام چاربجے کی گاڑیاں صبح چاربجے کھل رہی ہیں۔یعنی ایک دن کی چھٹی کی بجائے اب کم ازکم چاردن کانقصان کیجئے۔اس کے علاوہ روزٹرینیں کافی تعدادمیں کینسل ہورہی ہیں اورآوازآتی ہے’اسوودھاکیلئے کھیدہے‘۔گاڑیوں کے لیٹ اورکینسل ہونے کی وجہ سے اسٹیشنوں پربیٹھنے تک کی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ بجٹ کے پیش ہونے کے بعدلکھنوکے مسافروں نے بڑی اچھی با ت کہی ہے۔میڈیاسے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ وزیرریل نے اسٹیشنوں پروائی فائی دینے کاوعدہ کیاہے،یہ کھلونے دے کے بہلادینے کے مترادف ہے کہ رات بھرٹرین کے انتظارمیں وائی فائی میں الجھے رہئے،اورٹرین کی سروس سے بے پرواہ ہوجایئے۔ ہمیں وائی فائی نہیں چاہئے،وقت کی بچت چاہئے۔دوسرے شہروں میں بھی مسافرکافی ناراض مسافروں نے کہاہے کہ صرف احمدآبادسے ممبئی تک بلٹ ٹرین چلانے سے ملک کے مسافروں کی بنیادی سہولیات کاحل نہیں نکل جائے گا۔جب ریلوے اتنے بحران میں ہے توپھراس پراجیکٹ کی ضرورت ہی کیوں پڑگئی ۔ کتنی آبادی ،موپائل اپلیکشن سے اپ ڈیٹ ہوسکتی ہے ؟۔وقت پرٹرین ہی چلادیں تویہی بڑی بات ہوگی۔زندگی کی رفتاررک گئی ہے ،ہمارامطالبہ ہے کہ ہمار ے وقت کوبچاکراس کی رفتارکوہی مودی حکومت پٹری پرلے آئے‘‘۔وزیرریل نے اعتراف کیاہے کہ’’ سوشل میڈیاکے ذریعہ روزانہ ریلوے کوایک لاکھ سے زیادہ شکایتیں ملتی ہیں‘‘۔یہ بدحالی کی ہی توتصویرہے یہ اوربات ہے کہ ان شکایتوں کی تلافی کتنی ہوپاتی ہے۔
وزیرریل نے ایک اعلان یہ بھی کیاہے کہ اسٹیشنوں پر سامان اٹھانے والے قلی ،اب سہایک کہلائیں گے۔ریلوے ملازمین کی یونیفارم میں تبدیلی ہو گی۔ان کے ڈریس بھی بدلے جائیں گے ۔دوبرس میں یہ سرکارصرف نام بدلنے کاہی کام کررہی ہے،پلاننگ کمیشن نیتی آیوگ ہوا،کالیجئم سسٹم کوعدالتی تقرری کمیشن بنانے کی کوشش ہوئی۔بنیادی سوال یہ ہے کہ قلی کے نام بدلنے میں ان کاکیاوکاس ہوجائے گا،ان کے طرززندگی کوبدلنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ملازمین کے یونیفارم بدلنے کی بات توہوئی لیکن ریلوے ملازمین کے بچوں کیلئے کوئی نیااعلان نہیں کیاگیا ۔ کیانام اورڈریس بدلنے سے ان کے مسائل حل ہوجائیں گے،ویسے بھی ہماری سرکارکایقین سوٹ اوربوٹ پرزیادہ ہے۔
اس بجٹ میں دوتین اہم اعلانات بھی ہیں۔نئے ریل بجٹ میں سینئر شہریوں کا کوٹہ 50فیصد بڑھا دیا گیا ہے،80کلو میٹر کی رفتار سے مسافر چلانے کا ہدف رکھاگیاہے ،نیز برتھ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے نئے اسمارٹ کوچز ہوں گے جن سے 65000کی اضافی نشستیں مل سکیں گی۔ظاہرہے ٹرینوں میں برتھ ایک اہم مسئلہ ہے،لیکن کنفرم ٹکٹ کویقینی بنانے کیلئے 2020تک کاہدف رکھاگیاہے،جوغیرمنطقی ہے ،2019میں لوک سبھاالیکشن ہے ،ارادے صاف ہیں کہ یہ بنیادی سہولیات اگلے الیکشن تک نہیں ملنے والی ہیں حالانکہ یہ ضروریات تواولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہئیں۔ٹکٹ بکنگ کیلئے چارماہ کافاصلہ بھی بہت زیادہ ہوتاہے۔اسے کم کرنے کی ضرورت تھی،اتنے پہلے سے سفرکاپلان عام طورپرلوگ کم بناپاتے ہیں،پھربھی لوگ احتیاطاََٹکٹ بک کرالیتے تھے لیکن اب کینسلیشن چارجزبھی بڑھادیئے گئے ہیں جس سے مشکلات میں اوراضافہ ہوگیاہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ بجٹ میں آمدنی کے ذرائع نہیں بیان کئے گئے ہیں ۔ظاہرہے کہ ساتویں پے کمیشن کے نفاذکے بعدریلوے پرمزیدبوجھ پڑے گا۔اس وقت اتنی سرمایہ کاری کہاں سے ریلوے کرے گا،اس پرتوجہ نہیں دی گئی ہے ۔اپوزیشن نے ریلوے کو غیرملکی کمپنیوں کے ہاتھ گروی رکھ دینے کی سازش بتایاہے۔سابق وزیر ریل پون بنسل نے کہاہے کہ اس بجٹ سے تولگتاہے کہ اب توبجٹ بھی پیش نہیں کیاجائے گا۔سرکاراعدادوشمارمیں الجھاکررکھناچاہتی ہے ۔لالویادونے بھی سخت تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ میں نے اپنی وزارت کے زمانہ میں 7000کروڑکافائدہ دیاتھا،اورسرکارسے اسے امدادبھی نہیں لینی پڑی تھی ،اب اس کادیوالیہ بول گیاہے ۔یہی ایک لائف لائن تھی ،بی جے پی نے اسے بھی بربادکردیا۔جاپان کوریلوے سپردکرنے کی سازش ہے،۔کانگریس نے تنقیدکرتے ہوئے سوال یہ بھی کیاہے کہ گذشتہ بجٹ میں جواعلانات کئے گئے ان پرکیاعمل ہوا،5لاکھ کروڑروپئے کاپروجیکٹ اٹکاہواہے۔گذشتہ بجٹ میں100فیصدایف ڈی آئی کی بات کی گئی تھی،وہ بھی جملہ ثابت ہوئی۔ریلوے کی آمدنی گھٹ رہی ہے ،اس کیلئے سرکارنے قدم کیوں نہیں اٹھائے۔خلاصہ یہ کہ بجٹ کوئی ایسانہیں ہے کہ جس میں کوئی نئی بات ہوبلکہ پرانی بات بھی نہیں ہے۔ گذشتہ دوسال کی ریلوے کی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے اورگذشتہ بجٹ کے اعلانات کے پیش نظرکہاجاسکتاہے کہ یہ بھی پندرہ لاکھ اکاؤنٹ میں آنے والے جملے سے کوئی الگ نہیں ہے۔
*مضمون نگاربصیرت میڈیاگروپ کے فیچرایڈیٹرہیں۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like