Baseerat Online News Portal

مسجد الحرام میں دہشت گرد تنظیم کے حق میں نعرے لگانے والا شخص گرفتار حرم شریف عبادت الٰہی کے لیے مخصوص ہے وہاں تشدد پرمبنی نعرے بازی کرنا ناقابل قبول :السدیس

 

مکہ مکرمہ ، ۲؍ اپریل ۔سعودی حکام نے مسجد الحرام سے دہشت گرد تنظیم کے حق میں نعرے لگانے والے مسلح شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص کو مسجدالحرام کی سیکیورٹی فورس نے 30 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔مکہ پولیس کے ترجمان نے سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ مذکورہ شخص کو مسجد کی پہلی منزل پر عصر کی نماز کے بعد چھری لہراتے اور نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا تھا جسے موقع پر موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر گرفتار کرلیا۔دونوں مقدس مساجد کی پریزیڈینسی کے سربراہ شیخ عبدالرحمٰن السودیس نے ‘دی نیشنل کو بتایا کہ نسل پرستی یا انتہا پسندی پر مبنی اظہار رائے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ شخص نے ‘مسجد کا بھی احترام نہیں کیا، اللہ نے مسجد الحرام کو عبادت گاہ بنایا جس میں نماز، طواف اور حج ہوتا ہے۔ادارہ امور حرمین شریفین کے نگران اعلیٰ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے مسجد الحرام میں ہونے والے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرم شریف وہ عظیم مقام ہے جو عبادت الٰہی کے لیے مخصوص ہے وہاں تعصب اور تشدد پرمبنی نعرے بازی کرنا ناقابل قبول عمل ہے۔شیخ السدیس نے مزید کہا رب تعالی نے حرم شریف کو عبادت، طواف و حج کے لیے مخصوص کیا ہے یہاں اس قسم کے امور کی قطعی گنجائش نہیں ۔ حرم شریف میں تعصب اور نسل پرستی و پرتشدد نعرے بازی کرنا اس کے تقدس اور عظیم مقام کے منافی عمل ہے۔اس سے قبل اکتوبر 2020 میں ایک شخص نے اپنی تیز رفتار گاڑی مسجد الحرام کے دروازے سے ٹکرا دی تھی۔مذکورہ شخص نے 2 رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے گاڑی جنوبی داخلی دروازے سے ٹکرادی تھی جس پر گارڈز فوری طور پر اس تک پہنچے بعدازاں حکام نے کہا کہ مذکورہ شخص کی ‘ذہنی حالت ٹھیک نہیں ۔قبل ازیں جون 2017 میں سعودی حکام نے مسجد الحرام پر حملے کے منصوبے ناکام بنایا تھا۔خیال رہے جمعرات کی شب قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے حرم مکی الشریف کے دوسری منزل سے ایک شخص کو حراست میں لیا تھا جوہاتھ میں تیز دھار آلہ لے کر بلند آواز میں تعصب پرمبنی جملے بولتا اور نعرے لگاتاجارہا تھا۔سیکیورٹی اہلکاروں نے ملزم کوحراست میں لے کراسے متعلقہ تھانے پہنچا دیا تھا جہاں اس سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

You might also like