Baseerat Online News Portal

         مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو کارگزار جنرل سکریٹری بنایا جانا نیک فال،    اسلامک مشن اسکول کے ڈائریکٹر مولانا ارشدفیضی کا ردعمل

 

رفیع ساگر /بی این ایس

 

جالے۔    مفکر اسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ کے انتقال کے بعد فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو ہندوستان کے مسلمانوں کی سب سے مضبوط وجوابدہ نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کار گزار جنرل سکریٹری مقرر کئے جانے کا اسلامک مشن اسکول جالے کے ڈائریکٹر اور موقر عالم دین مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی نے نہ صرف خیر مقدم کرتے ہوئے اسے نیک فال قرار دیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے تاثراتی بیان میں امید  جتائی ہے کہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو قدرت نے جس علمی مقام ومرتبے اور فقہی بصیرت سے نوازا ہے اس کے سہارے وہ بورڈ کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ کی طرح پوری قوت کے ساتھ ملکی اور عالمی سطح پر مسلمانوں کی بہتر رہنمائی کا فرض نبھائیں گے اور ان کے ذریعہ بورڈ کے موقف کو مکمل خود اعتمادی کے ساتھ ملک کے سامنے رکھنے کا کام انجام دیا جائے گاکیونکہ مولانا کی نگاہیں صرف دینی مسائل کی باریکیوں کو ہی نہیں بلکہ دستور ہند کی پیچید گیوں کو بھی سمجھتی اور ان کے حل کا ہنر جانتی ہیں۔مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ملک کے مسلمانوں کا وہ نمائندہ ادارہ ہے جس نے اپنے قیام سے لے کر آج تک کے ہر دور میں ملک کے مسلمانوں کی مناسب راہنمائی اور ملک کے بدلتے ماحول میں اسلامی اصولوں کے تحفظ کو یقینی بنائے رکھنے کا فرض بڑی ذمہ داری وجوابدہی سے نبھایا ہے اس کا اپنا ایک ٹھوس لائحہ عمل ہے جس کی بنیاد پر ہندوستاں کا مسلمان اس ادارہ سے جذباتی وابستگی کو نہ صرف اپنے لئے فخر کا باعث سمجھتا ہے بلکہ اس کے ہر مشورے کو خوش دلی سے قبول کرنا  یہاں کے مسلمانوں کی پہلی ترجیح ہوتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک جب بھی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں حکومتی دخل اندازی کی کوئی کوشش ہوئی تو اسی ادارہ کے ارکان نے ہمیشہ اس کا دیوانہ وار مقابلہ کر کے حکومت کو اپنا موقف بدلنے کے لئے مجبور کیاہے جسے ہم اس ادارہ کی تاریخ کا شاندار باب تصور کرتے ہیں ،اس تںظیم کا سب سے بڑا امتیاز یہ رہا ہے کہ 1972 سے آج تک ملک کے اندر مسلمانوں کے دینی وعائلی مسائل کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کا پوری جرآت وہمت اور حوصلہ مندی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور اس حوالے سے اس نے تاریخ کے ہر دور میں کسی بھی طرح کی مصلحت یا مصالحت کو اپنے عزم و مقصد کے سامنے حائل ہونے دئے بغیر  ہر نازک موڑ پر باوقار ہستیوں کی قیادت وسرپرستی میں وہ نمایاں کارنامے انجام دئے ہیں جن کے ذکر کے بغیر تاریخ کا کوئی بھی باب مکمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے جن حالات کو سامنے رکھتے ہوئے صدر محترم نے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے کاندھے پر بورڈ کی بڑی ذمہ داری ڈالی ہے اس میں ہم امید کر تے ہیں کہ ان کی نامزدگی مسلمانان ہند کے خوش آئند مستقبل کی علامت ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک جس منظرنامے کا شکار ہے اور جس طرح مسلمانوں میں انتشار کی کیفیت پیدا کر کے ایک خاص نظرئے کو پورے ملک کے سر تھوپنے کی کوشش ہو رہی ہے اس میں مولانا رحمانی جیسے صاحب بصیرت پر اعتماد کا اظہار بورڈ کے صدر مولانا رابع صاحب دامت بر کاتہم کی دور اندیشی اور ان کی سنجیدہ فکر کا احساس دلاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت بر کاتہم کی رحلت کے بعد اس باوقار عہدہ کے لئے ان کی نامزدگی بورڈ کے کردار کو موثر بنانے میں اہم رول ادا کرے گی انہوں نے کہا کہ میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی فکری بلندی کو بورڈ کے شاندار تعمیری مستقبل کی ضمانت سمجھتا ہوں اور خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جبکہ ملت کی قابل اعتماد ترجمانی اور بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے  کسی دور اندیش شخص کی سخت ضرورت تھی مجھے یقین ہے کہ ان کے انتخاب سے ہندوستانی مسلمانوں کو خود اعتمادی کے ساتھ زندگی کے سفر میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا،ہم خدام ان کی صحت وعافیت کی تمنا لئے دعا گو ہیں کہ اللہ ان کی قیادت میں بورڈ کے بڑھتے قدم کو توانائی عطا کرے ۔

You might also like