Baseerat Online News Portal

امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نقوش وتاثرات

 

تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

(بھوپال، ایم پی)

رابطہ: 9826268925

 

عالم اسلام کی عظیم شخصیت مفکر اسلام امیر شریعت جنرل سکریٹری (آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی ہمہ جہت شخصیت پر، ان کے کمالات و اوصاف پر، ان کے علوم و معارف پر ان کی خصوصیات و امتیازات پر، اور ان کی حیات وخدمات پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا، موجودہ اور آنے والی نسلوں کو ایسی باکمال شخصیتوں سے واقف ہونابے حد ضروری ہے۔ وہ اپنے تمام کمالات اور خصوصیات کے ساتھ خاندان نبوت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا سلسلہ نسب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتا ہے ان کے آباءکرام میں حضرت شاہ بہاءالحق مخدوم حبیب اللہ ملتانی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے نامور فرزند حضرت ابوبکر چرم پوش جیسے کبار اولیاء اللہ اور آسمان رشد و ہدایت کے چمکتے ہوئے ستارے نظر آتے ہیں۔ حضرت ابوبکر چرم پوش رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ: ”میری نسل کبھی ولایت سے خالی نہ رہے گی۔“

حضرت امیر شریعت کا وقت موعود آ چکا تھا ”ان اجل اللہ لا یؤخر لو کنتم تعلمون“ (نوح: 4) یقیناً جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آپہنچے گا تو اس کو ٹالا نہیں جاسکتا، کاش تمہاری سمجھ میں آجائے۔

ہرایک جاندار کو ایک دن موت کامزہ چکھنا ہے۔ جو اس فانی دنیا میں آیا ہے اسے یہاں سے اپنی متعینہ مدت پوری کرکے ایک دن جاناضرور ہے۔ چنانچہ ہم سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر ایک حبیب اپنےحبیب سے ملنےچلا گیا؛ لیکن اس قحط الرجال کے دور میں جس طرح علماء ربانیین یکے بعد دیگرے دنیاسے رخصت ہو رہے ہیں ایسے نازک وقت میں حضرت امیر شریعت کا سایہ اس طرح اچانک مسلمانوں کے سروں سے اٹھ جانا ایک حادثہ فاجعہ سے کم نہیں۔ اس وقت امت مسلمہ کے لیےآپ کا وجود سعید اور آپ کی مبارک زندگی تپتے ہوئے صحرا میں آب حیات کا کام دیتی تھی۔

حضرت امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی ایک طرف عظیم جلیل القدر عالم دین، دینی مرشد و مربی، سیاسی بصیرت رکھنے والے کار گزار رہبر تھے تو دوسری طرف ملت کے ملی معاملات کی فکر رکھنے والے ایک بے باک اور نڈر قائد تھے۔ اس نازک وقت میں حضرت امیر شریعت کا داغ مفارقت دے جانا ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے‌۔

آپ کی وفات حسرت آیات ایک عہد اور ایک تاریخ کا خاتمہ ہے۔مولانا مرحوم اہل اسلام کی طرف سے ظالموں کے خلاف مضبوط آواز تھے۔ انہوں نے کبھی بھی حالات سے سمجھوتا نہیں کیا انہیں جو حق لگا اس کا ساتھ دیا حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انتہائی بے باکی و جرأت مندی کے ساتھ قوم مسلم کے مسائل پیش کیے اور ان کے حل پر زور دیا۔

مولانا ایک طرف جہاں دینی علوم سے بہرہ ور تھے وہی عصری علوم پر بھی اچھی دسترس رکھتے تھے۔ انہوں نے امت مسلمہ کی داد رسی کو اختیار کر لیا تھا۔ تن من دھن سے پوری زندگی اس کے لیے کوشاں رہے۔ ابھی لاک ڈاؤن کے درمیان روزانہ سیکڑوں غریبوں اور تباہ حال لوگوں کی مدد و اعانت بالکل بے غرض ہو کر کرتے تھے اور اس معاملے میں مذہب و ملت کی تفریق روا نہیں رکھتے تھے۔

حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کی ذات جامعیت و توازن کا ایک نادر مرقع تھی جس کی مثال اس دور میں مشکل سے ملے گی۔ للہیت و ربانیت، عشق و مستی، کمال اتباع سنت، فنائیت فی الرسول تو ان کی گھٹی میں پڑی تھی آپ ہمیشہ باوضو رہا کرتے تھے۔

اسلام کے لئے دلسوزی اور امت کی فکر، علو ہمت، بلند نظری، تازگیِ فکر و جرات، نور بصیرت و فراست ایمانی، حقیقت پسندی و عملیت، زمانہ کی نبض شناسی اور آنے والے خطرات سے آگاہی، وسعت قلب، وسعت نظر، اجتماعی کام کی صلاحیت، مختلف الذوق رفقا کے ساتھ اشتراک عمل و تعاون کے لئے ہمہ وقت آمادگی آپ کے خاص اوصاف تھے؛ لیکن اس حقیر کی نظر میں احقاق حق ابطال باطل، دینی غیرت و حمیت، اصابت رائے، اور فکری بالیدگی آپ کا خاص طرۂ امتیاز تھا۔جہاں کہیں بھی مسئلہ دین و شریعت اور ملت کا آتا، وہاں کوئی مصلحت ان کو حق کہنے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے روک نہیں سکتی تھی، اس میں نہ اپنوں کی پرواہ کرتے اور نہ بیگانوں کی، نہ حاکموں کی نہ محکوموں کی، آپ کی زبان سے سے جو بھی بات نکلتی گو کہ وہ سننے والے کو کڑوی لگتی، لیکن وہ حق کی آواز ہوتی گزشتہ ماہ شاہ نواز حسین آپ کے سامنے جب وہ کہہ رہے تھے سب کا ساتھ سب کا وکاس تو آپ نے برملا فرمایا ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا ستیاناس۔“ اسی طرح اللہ تعالی نے ان کو بالغ نظری سے نوازا تھا، وہ کسی مسئلہ پر دور رس نظر کے ساتھ غور کرتے تھے، اس کے فائدہ و نقصان کو تولتے تھے، پھر اپنی رائے دیتے تھے،جس میں افراط ہوتا نہ تفریط، نہ بےجا جوش ہوتا نہ بزدلی وکم حوصلگی۔ آپ میں بہت سی چیزیں اپنے زمانے سے آگے کی تھیں۔

27 نومبر 2020ء خانقاہ میں حاضری ہوئی تو حضرت نے فرمایا کیا حال ہے بی جے پی حکومت میں مدھیہ پردیش کا؟ میں نے کہا مودی کے اشارے پر کام ہو رہا ہے تو آپ نے تصحیح کرتے ہوئے فرمایا مودی نہیں، بلکہ آر ایس ایس کے اشارے پر کہیے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: پورے ہندوستان میں جو زندہ قسم کے مسلمان ہیں خواہ مولوی ہو یا غیر مولوی سب پر پر نگاہ ہے۔ پھر عارف مسعود صاحب کے بارے میں تذکرہ چلا اس پر آپ نے فرمایا دیش دروہ میں اندر کردینا آج ان کے لئے بڑا آسان کام ہے۔ پورے طور پر ملک کو خوفزدہ کرنے کے بعد سی اے اے اور این آر سی لائیں گے۔ کم سے کم 4 کروڑ مسلمانوں کو غیر ملکی ڈکیلئیر کر دیں گے۔ مسلمان اس کو سمجھ نہیں رہا ہے، اگر ابھی ہی پورا زور لگا دے تو معاملہ ختم ہو جائے گا آگے ہمت نہ ہو گی؛ لیکن ہم کیوں کریں اس چکر میں سب لوگ رہتے ہیں ہم لوگ سبھی ڈٹینشن کیمپ میں رہیں گے۔ دنیا میں رہیں گے نہ مکان ہمارا ہوگا نہ زمین ہماری ہوگی غیرملکی ہیں تو کچھ نہیں ہوگا۔ ایک ہی علاج ہے جہاں مضبوط ہوں ان کی گوشمالی کریں ہر جگہ بڑے بڑے احتجاج کریں۔جہاں جہاں جائیے مسلمانوں سے کہیے کہ حالات کے مقابلے کے لئے ہر طرح سے تیار رہیں بہرحال وقت آئے گا اگر ہم لوگوں کا تیور سخت نہیں ہوا تو 2024 سے پہلے وقت آئے گا۔ اگر ہم لوگوں میں جارحیت نہیں ہوئی تو مار دیے جائیں گے۔ جو کرنے والے لوگ ہیں وہ بزدل اور کمزور ہیں اور کچھ سمجھتے نہیں وہ جانتے نہیں ہیں کہ تحریکیں کس طرح کام کرتی ہیں وہ جانتے نہیں ہیں کہ آر ایس ایس کا کیا ایجنڈا ہے۔

مولانامرحوم ہمہ وقت ملک و قوم کی تعمیر و ترقی اور اسلامی تشخص و تحفظ دین کی بقا کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ آپ نے جن مشکل اور چیلنجنگ حالات میں جس جرأت و حوصلے کے ساتھ اور جس سرگرمی کے ساتھ امت کے مختلف مسائل کو حل کرنے کی کوششیں فرمائیں اس کے لیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔آپ کی اچانک رحلت سے میرا بڑا ذاتی نقصان بھی ہوا ہے میں اپنے والد کی وفات کے بعد حضرت کو ہی اپنے والد کی جگہ پر دیکھتا تھا اور حضرت بھی ہمیشہ خُرد نوازی اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے یقیناً وہ میرے لیے ہمیشہ مہمیز کا کام کرے گا خصوصاً میرے بیٹے عبادالرحمن سلمہ کو حضرت نے پورے لاک ڈاؤن کے درمیان اپنے پاس رکھ کر اس کی تعلیم و تربیت کا جو اعلی سے اعلی انتظام و انصرام فرمایا اور خود سے روزانہ بلا ناغہ سبقا سبقا اسے پڑھایا اس عظیم احسان کے تلے میں ہمیشہ دبا رہوں گا اور اور اس پر اللہ کا اور حضرت کا جتنابھی شکر ادا کروں کم ہے۔ حضرت کی دور بیں نگاہوں نے اس بچے میں مستقبل کے حوالے سے جو کچھ دیکھا محسوس کیا تھا اس کا کئی بار حضرت نے اظہار فرمایا اللہ اس بچے کو حضرت کی توقعات اور امیدوں کے مطابق کام کرنے کی توفیق بخشے۔

اس سے پہلے 2 محرم الحرام 1442ھ کو حضرت کی خدمت میں حاضری کا موقع نصیب ہوا تھا اس مرتبہ کچھ باتوں کے بعد میرے بیٹے عباد الرحمن کے متعلق یہ بات تذکرہ میں آئی کہ یہ آئی ایس بننا چاہتا ہے؟ تو حضرت صاحب نے فرمایا: خواب دیکھنا اچھی بات ہے میں بھی بڑے بڑے خواب دیکھا کرتا تھا کے پرائم منسٹر بنوں گا؛ لیکن یاد رکھو! تمہاری زندگی صرف آج ہے یعنی آج کا دن کیونکہ جو گزشتہ دن ہے وہ چلا گیا اندھیرے میں، اور جو آنے والا ہے اس کا کچھ پتہ نہیں،اس لیے ہمیشہ دیکھو کہ آج کا دن تمہارا کیسا گیا کامیاب یا ناکام، اور آج کے دن کو ہمیشہ کامیاب بنانے میں لگے رہو، اور ہر دن کچھ نئی چیز سیکھو۔ اس موقع سے میں نے اپنی تازہ تصنیف ”خوشگوار ازدواجی زندگی“ رہنما ہدایات، اصول و آداب اور حقوق و فرائض حضرت کو پیش کی تو حضرت نے اسے دیکھنے کے بعد بہت پسند فرمایا اور ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا اور کتاب میں کئی جگہ حضرت نے اصلاح بھی فرمائی۔ اس موقع سے ایک واقعہ سنایا جو میں یہاں بتانا مناسب سمجھتا ہوں “کہ میرے دادا پر دادا سے یہ بات چلی آرہی ہےکہ جس صفحہ کو کھولیں گے اسی میں غلطی نکل جاتی ہے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی حال، دادا صاحب کا بھی یہی حال تھا۔ اصلا یہ چیز ہمیں اعلی حضرت فضل حق گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ سے ملی ہے۔ ان کا واقعہ ہے کہ ان کے پاس مظاہر علوم کے ایک بہت بڑے عالم ملنے آئے اور انہوں نے بڑی محنت سے بخاری شریف کی ایک شرح لکھی تھی، کہا کہ حضرت اس کی تصحیح فرما دیجیے حضرت نے کچھ ورق پلٹائے اور فرمایا یہاں تم نے کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا جی حضرت! وا قعی یہاں پر غلطی ہے پھر حضرت نےکچھ اور ورق پلٹائے اور فرمایا یہاں کیا لکھا ہے؟ پھر انہوں نے کہا جی حضرت! واقعی یہاں پر غلطی ہے تو حضرت نے فرمایا بغیر غلطیوں اور خامیوں کا انسان ہو ہی نہیں سکتا۔ اے اللہ کے بندے جاؤ اور خوش رہو۔ اس موقع سے میرے ہمراہ اور لوگ بھی آئے تھے میں نے کہا حضرت! انہیں کچھ نصیحت فرما دیجیے؛ اس پر آپ نے فرمایا: دن بھر کا کام ایک جگہ رکھو صرف صبح شام یہ سوچ لیں کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔

خانقاہ رحمانی میں سو سال کے زائد عرصے سے علوم و معارف اور تزکیۂ نفوس کا فیضان جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ تا ابد جاری رہےگا۔ ہندوستان کے مختلف گوشوں سے علوم نبویہ کے پیاسے اور تزکیہ باطن کے طالبان یہاں آتے ہیں اور اپنی علمی و روحانی پیاس بجھاتے ہیں۔جب سے ملک آزاد ہوا آزادی کے بعد سے آج تک ملک کی قیادت کا سہرا خانقاہ رحمانی کو حاصل رہا ہے۔ جب مسلمانوں کی حالات انتہائی نا گفتہ بہ تھے قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری نے ملک میں ندوۃ العلماء قائم فرما کر مختلف مسلک و مشرب کے علماء کو یکجا کر کے باہم اتحاد و اتفاق فرمایا۔ پرانی رنجشیں اور دیرینہ شکر رنجیاں دور فرمائیں۔

حضرت امیر شریعت کی پوری زندگی قابل رشک اور باعث صد افتخار تھی۔ آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع اور آپ کا ملی جذبہ اور کارنامہ بڑا اہم ہے۔ خاص طور پر تحفظ شریعت کے سلسلہ میں آپ کی کاوشیں سرمہ چشم بنانے کے لائق ہیں۔آپ نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کرکے بتا دیا کہ زندگی صرف جینے کا نام نہیں ہے، زندگی تو وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے اور دوسروں کے لئے جیا جائے۔مولانا کی عملی زندگی کو ملت اسلامیہ ہند کی ضرورت کے مختلف تقاضوں کو مدد دینے تقویت پہنچانے میں نمایاں دیکھا جا سکتا ہے، ایک طرف تو شریعت اسلامیہ کو عملی زندگی میں جاری کرنے میں امارت شرعیہ کی سرپرستی وذمہ داری دوسری طرف طریقت و اصلاح باطن میں خانقاہ رحمانی مونگیر کی ذمہ داری، تیسری طرف دینی تعلیم کے پہلو میں میں جامعہ رحمانی مونگیر، رحمانی30، رحمانی فاؤنڈیشن اور ملک میں شریعت اسلامی کی بقا کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سلسلے میں ضروری جد و جہد ان کی عملی حیات کے نمایاں پہلو نظر آتے ہیں۔ہندوستان کی تاریخ میں ہمارے بزرگوں کے بڑے اہم نہایت ہی مبارک کارنامے رہے ہیں، ملک کو سنوارنے اور قوم کی اصلاح و صلاح ان بزرگوں کی زندگیوں کا لازمی حصہ رہا ہے اور انہیں بزرگوں کی روشن و تابناک خدمات کی وجہ سے ہندوستان ہندوستان کہلاتا ہے اور اسی وجہ سے اس سے متاثر ہو کر علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے اس ملک کو گلستان کہا تھا، ہمارے بزرگوں کی خدمات قابل قدر، قابل رشک اور درس عبرت کے لائق ہیں۔

حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی؛ جس میں نہ حلقہ مدارس کی طرح ہرجدید سے نفرت اور ہر قدیم سے محبت ہے ہے اور نہ جدید طبقہ کی طرح مغرب کی ذہنی غلامی میں مبتلا اور اندھی تقلید کا شکار ہے نہ آپ میں جزئیات اور غیر ضروری اشیاء پر بیجا اصرار ہے اور نہ دین کے بنیادی اور ضروری اجزا میں نرمی اور مداہنت۔ وہ ایک طرف زمانے کے شناسا ہیں تو دوسری طرف صرف ایمان و یقین کے حامل وداعی ہیں۔ عقائد و اصول کے معاملے میں فولاد کی مانند سخت ہیں تو دوسری جانب اجتہادی مسائل اور فروعی اختلافات کے شعبے میں ریشم کی طرح نرم ہیں۔حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بڑے بیٹے سید احمد ولی فیصل رحمانی ازہری کو اپنا جانشین مقرر فرما دیا تھا اور اپنے فرزند ارجمند سید حامد ولی فہد رحمانی کو رحمانی٣٠ و رحمانی فاؤنڈیشن کی ذمہ داری سونپنے کے ساتھ اپنے بڑے بھائی کی معاونت کرنے کی بھی وصیت فرمائی تھی۔ انسان اپنے خاندانی نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، خاندان کان کی طرح ہے اگر اس میں ہیرے جواہرات ہوں توکان ہیرے ہی فراہم کرے گا۔

You might also like