Baseerat Online News Portal

وسیم رضوی کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند:مولانا انیس الرحمن قاسمی

پھلواری شریف12اپریل(پریس ریلیز)
عدالت عظمیٰ سے بدنام زمانہ وسیم رضوی کی قرآن کریم کی چھبیس آیتوں کے خلاف داخل مفاد عامہ کی عرضی رد کئے جانے پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے قومی نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی چیرمین ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن نے کہاکہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ خوش آئند اورامن وشانتی پیدا کرنے والا ہے،انہوں نے عدالتی فیصلے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ وسیم رضوی کی فتنہ انگیز اورشرارت پسندی سے پُرمفاد عامہ کی عرضی پر سپریم کورٹ کا تبصریہ قابل قدر اورقابل غور ہے۔کیوں کہ عدالت عالیہ نے اس عرضی کو احمقانہ،شرپسندانہ قراردیتے ہوئے مسترد کردیا اورعرضی گزار وسیم رضوی پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔یہ فیصلہ اس حیثیت سے بھی اہم ہے کہ اب کوئی ملک کی پُرامن فضا کو بگاڑنے والی ایسی حرکتوں سے پہلے ضرور سوچے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ عدالت کے اس فیصلہ کے بعد ان چینلوں کو بھی معافی مانگنی چاہیے جو ایسے واہیات اورشرپسندانہ عرضی کے بعد اسلام اورقرآن کریم کے خلاف زہر پھیلانے کی کوشش کررہے تھے اوروسیم رضوی جیسے ملک دشمن کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔مولانا قاسمی نے مزید کہاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ بناکر نازل فرمایاہے۔یہ اللہ کی آخری کتاب ہے۔اب نہ کوئی کتاب آئے گی اورنہ کوئی نبی آئے گا۔اس کتاب سے پوری انسانیت کی کامیابی وکامرانی وابستہ کردی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایاہے؛اس لیے ہمارا ایمان ہے کہ اس کتاب ہدایت کا ایک نکتہ اورایک حرف بھی بدلا نہیں جاسکتا۔یہ محفوظ کتاب ہے اورقیامت تک محفوظ رہے گی۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ وہ ماہ مبارک جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے،اپنی تمام تر رحمتوں اوربرکتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے۔اس ماہ مبارک رمضان المبارک کو قرآن کریم سے خاص نسبت ہے۔اس ماہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے جانثار صحابہ قرآن کریم کی تلاوت اوراس پر غور وفکر کا اہتمام بہت زیادہ فرمایاکرتے تھے۔ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کو اپنے دامن دل سے باندھ لے اوراس پر غور وفکر اورتدبر کے ساتھ اس کی دعوت کو عام کرے۔

You might also like