Baseerat Online News Portal

جن پہ نازاں ہند تھا اور فخر کرتا تھا بہار

 

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
خادم تدریس
جامعہ نعمانیہ، ویکوٹہ، آندھرا پردیش

سرزمین ہند اولیاء اللہ کی سرزمین ہے، اس کے ہر خطے میں اہل اللہ نے عشق و معرفت کی دوکان سجا کر لوگوں کے قلوب کو مزکی و مصفی کیا، اس کے چپہ چپہ پر خانقاہیں قائم ہوئیں، مرور زمانہ کے بعد آج بھی بہت سارے علاقوں میں اس کے آثار باقی ہیں، تو بہت ساری خانقاہیں آباد بھی ہیں، اسی میں ایک خانقاہ صوبہ “بہار” میں بھی ہے جسے دنیا “خانقاہ رحمانی، مونگیر” کے نام سے جانتی ہے۔
عقل و شعور کے بعد ملک کے جتنے بھی خانقاہوں کے نام سے واقف ہوا بعض کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا ان تمام میں “خانقاہ رحمانی، مونگیر” کو نمایاں پایا۔
باشندگانِ صوبہ بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ کو جتنا لگاؤ خانقاہ رحمانی مونگیر سے پایا اتنا ملک کے کسی بھی صوبہ میں کسی بھی خانقاہ سے لوگوں کو اس قدر لگاؤ دیکھا اور نہ پایا۔
اہل بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر کو کبھی بھی ادب و احترام میں نام نہیں لیتے ہیں بلکہ “حضرت صاحب” ہی کہا کرتے ہیں۔
آج بھی ان صوبوں کے بڑے، چھوٹے،بوڑھے، جوان، مرد و زن ہر ایک کی زبان پر یہی لفظ آتا ہے *مونگیر والے حضرت صاحب* تشریف لائے ہیں، یا لانے والے ہیں۔
مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ اپنے والد محترم کے بعد تقریباً تیس سال تک اسی تاریخی “خانقاہ رحمانی مونگیر” کے سجادہ نشین رہے، جن کے بارے میں ہم بلاشبہ یہ کہہ سکتے ہیں:
*جن پہ نازاں ہند تھا اور فخر کرتا تھا بہار*
آہ! دو دن قبل(20/شعبان المعظم، 1442/ھ مطابق 3/مارچ،2021/ء)حضرت مولانا رحمانی رح “دار رحمان” تشریف لے گئے، اللہ تعالی ان کی قبر کو جنت کا حصہ بنائے، اور باشندگان بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ کو حضرت رح کا نعم البدل عطا فرمائے (آمین)
حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ اپنے والد و دادا کے سچے جانشین تھے، مبداء فیاض نے بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا، جس طرح وہ خطیب تھے ویسے ہی وہ قلم و قرطاس کے دھنی اور شہسوار بھی تھے، حق گوئی ان کا شیوہ اور شعار تھا، اہل بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ ان پر اپنی جانیں نچھاور کرنا فخر سمجھتی تھیں۔
ان کی ایک آواز پر ان تینوں صوبوں کے لوگ یکجا ہوجاتے تھے، وہ ان تینوں صوبوں کے سابع امیر شریعت بھی تھے۔
کاتب السطور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس(بمقام لکھنؤ) کو بھی دیکھا ہے، اس کے بعد ہی صوبہ بہار کے مشہور ضلع “سہرسہ” میں ایک اجلاس ہوا تھا،جس کی صدارت حضرت امیر شریعت سابع رح نے فرمایا تھا اس میں راقم بھی حاضر ہوا تھا، اس دن میں نے سر کے آنکھوں سے حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب رح کی محبوبیت کو دیکھا تھا اور موازنہ کیا تھا، کہ کیا آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس، یااس اجلاس میں شرکاء کی کثرت ہے؟ آخیر میں، راقم سے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔
حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رح کے بارے میں ہمارے برادر کبیر قاری محمد نعیم الدین صاحب (صدر ادارہ تسلیم ورضا، سمری،دربھنگہ،بہار)نے کبھی کہا تھا کہ ایک مرتبہ “ممبئی صابو صدیق مسافر خانہ” میں حضرت مولانا رحمانی رح نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ:
*ہم تمام عمر دراز علماء کرام سے درخواست کرتے ہیں کہ اب آپ کی عمر ہوچکی ہے، ہمارے پاس بڑے بڑے ہونہار نوجوان فضلاء موجود ہیں اب ان کو آگے بڑھایا جائے۔*
حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رح خود اس پر سب سے پہلے عمل کرکے اس دنیا سے تشریف لے گئے، انہوں نے اپنے انتقال سے صرف پانچ دن قبل ایک نوجوان ذی استعداد عالم دین *حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب دامت برکاتہم* (استاذ حدیث:دارالعلوم وقف دیوبند) کو اپنا نائب امیر شریعت نامزد کرکے اس دار فانی سے دار بقاء کوچ کر گئے۔
اللہ تعالی:حضرت مولانا رحمانی صاحب رح کی مغفرت فرمائے (آمین)

You might also like