Baseerat Online News Portal

مفتی ساجد کھجناوری: ایک ہمہ جہت شخصیت

عبد اللہ سلمان ریاض
Mob: 9341378921, E-mail: [email protected]
————————–٭٭٭—————————
جس شخصیت پر مجھے روشنی ڈالنے کے لئے کہا گیا ہے ان کی شخصیت اور کارناموں کی فہرست بہت طویل ہے۔آپ بیک وقت مفتی، عالم و فاضل ، صحافی و ادیب اور معلم و مدرس ہیں۔آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوہیں اور ہر پہلو میں آپ یگانہء روزگار ہیں۔آپ کے قلم کا جادو سرچڑھ کر بول رہاہے۔میں دعا گوہوں کہ آپ کاستارہ یوں ہی چمکتا دمکتا رہے اس کی روشنی کبھی مدہم نہ ہو۔
حضرت مفتی صاحب سے ہماری ملاقات سب سے پہلے ہم سب کے کرم فرماں محب العلماء ومحبوب العلماء حضرت مولانا حکیم ڈاکٹر محمد فاروق اعظم حبان قاسمی صاحب کے توسط سے ہوئی اور پھر ملاقاتوں کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا،جو الحمد للہ آج بھی برقرار ہے۔
مفتی ساجدکھجناوری کی تعلیم دارالعلوم دیوبند سے ہوئی۔ افتاءکی سند آپ نے مظاہر علوم سہارنپور سے حاصل کیا۔اس کے بعدآپ درس و تدریس کے سلسلے میں جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ سے وابستہ ہوگئے۔ آپ نے درس نظامی کی ابتدائی کتابوں سے اپنے تدریس کا آغاز کیا اور اب مشکوٰۃ تک کی تعلیم دے رہے ہیں۔آپ کا درس طلباء کرام میں بہت مقبول ہے۔طلباء کی نفسیات سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت میں آپ اہم کردار اداکررہے ہیں۔فقہ وحدیث اور ادب ِعربی آپ کے خاص موضوعات ہیں۔اس کے علاوہ آپ ماہ نامہ’’ صدائے حق‘‘ گنگوہ کے مدیر ہیں۔ آپ کی ادارت میں یہ رسالہ سن 2010سے بڑی خیر و خوبی کے ساتھ پابندی سے شائع ہورہا ہے۔یہ رسالہ پوری اردودنیامیں اپنے صحافت اور ملت میں تعمیری، سماجی، ملی، سیاسی اور دینی اعتبار سے اپنا ممتاز مقام رکھتا ہے ۔ اس عظیم رسالے کی ترقی ، ترویج اور دلوں پر دستک دینے کا سہرا مفتی صاحب کے سر ہے۔ آپ کی ادارت میں یہ رسالہ برابر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ رسالے سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ ملک کی مختلف عظیم شخصیات پر اپنے رشحات قلم کے ذریعے برابر روشنی ڈالتے رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ اردو صحافت کی دنیامیں ایک نامور اور معزز شخصیت کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ مجلہ’’ متاع کارواں‘‘ اتراکھنڈ کے بھی اعزازی مدیر ہیں۔اس رسالے کے آپ کئی خصوصی شمارے نکال چکے ہیں۔ جن میںقرآن نمبر ،پیام انسانیت نمبر،مشاہیر علما نمبر،مولاناجمیل احمدسکروڈوی نمبراور سیرت النبی نمبر وغیرہ مقبول ِ خاص و عام ہوئے۔ اسی کے ساتھ ساتھ آپ کے علمی وفکری اور اصلاحی مضامین ملک وبیرون ملک کے درجن بھر رسائل ومجلات میں مختلف موضوعات پرشائع ہوتے رہتے ہیں۔ سوشیل میڈیا اور بہت سی ویب سائٹ پر خصوصاً دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر آپ کے کئی مضامین مل جاتے ہیں۔
آپ کی دو کتابیں’’بزم رفتگاں ‘‘(شخصیات کا مجموعہ جس پر اترپردیش اردواکیڈمی ایوارڈ بھی دے چکی ہے )اور نقوش دوام (معروف عالم دین مولاناقاری شریف احمدگنگوہی کے نقوش حیات پر مشتمل ہے) بہت مقبول ہوئی ہیں۔’’بزمِ رفتگاں ‘‘اپنی نوعیت کی بہت عمدہ کتاب ہے۔ اس میں آپ نے گزشتہ دہائیوں کے دوران وفات پانے والے اصحابِ فضل و کمال اور نامی گرامی شخصیتوں کے تذکرے و تعارف اور افادی پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر تحریر کیا ہے۔اس کتاب میں کل چالیس شخصیات پر اکتالیس مضامین ہیں۔حضرت مولانا سید انظر شاہ مسعودی کشمیریؒ پر دومضمون ہے جس کی وجہ سے ایک مضمون کا اضافہ ہوگیا ہے۔’’حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری کا نثری بیانیہ ‘‘ یہ مضمون فنی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس میں مولانا کے قلم کا بانکپن اور ادبی اسلوب قابل دید ہے۔اگر وقت کی کمی مانع نہ ہوتی تو اس مضمون کا فنی تجزیہ ضرور کرتا ہے۔جس طرح حضرت شاہ صاحب کے لالہء وگل میں الفاظ و مضامین کی نشست و برخاست ،اسلوب و بیان میں شیفتگی و شگفتگی پائی جاتی ہے اسی طرح حضرت مفتی ساجد صاحب نے بھی ان کی کتاب کے تجزیہ و تبصرہ میں اپنااچھوتا و نادر اسلوب اختیار کیا ہے۔
آپ کی علمی و قلمی صلاحیت کا معترف صرف ادیب و صحافی ہی نہیں ہیں بلکہ ان کا معترف اور ان کی تحریروں سے حظ اٹھانے والوں میں بڑے بڑے اساطین ،علماء کرام و اہل دانش و بینش بھی ہیں۔یہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اس کا پورا پورا حق ادا کردیتے ہیں ۔ شخصیات کی سوانح نگاری پر تو انہیں خاص ملکہ حاصل ہے۔ بقول مولانا ندیم الواجدی : ’’مولانا ساجد کھجناوری نے ہر طرح کے مضامین لکھے ہیں لیکن مرحوم شخصیات پران کی تحریروں میں جو بانکپن اور وارفتگی پائی جاتی ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔‘‘
ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے مشہور ناقد و ادیب حقانی القاسمی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’مفتی ساجد کی کتاب ’’بزم رفتگاں‘‘ میں خیالات کی کہکشاں ہے جس میں خوشبو جیسے لوگوں کی زندگی کے شب و روز اور ان کی شبنمی کردار سے روبرو ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یہ اس جہان روحانیت کی سر کراتی ہے جہاں سے فکر کو نئی حرارت، احساس کو اشارت اور اظہار کو نئی عبارت ملتی ہے۔‘‘
دینی ، اسلامی ، فکری، حالاتِ حاضرہ ، سیاست اور اصلاحی موضوعات پر ان کی تحریریں غایت درجہ متوازن اور بہت ہی جامع ہوتی ہیں۔ان کے قلم میں بلا کی روانی ہے ،یہ اپنی طرز نگارش میں بالکل منفرد اور انتہائی جاذب طرح وادا کے مالک ہیں۔وہ موضوعات کے لحاظ سے اسلوب اختیار کرنے کے بجائے موضوعات کو اپنے انوکھے اسلوب کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔وہ علم وتحقیق،درس وتدریس اور ادب وانشاء کی بہترین صلاحیتوں سے مالامال ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نرم خو اور معتدل مزاج ہیں۔
آدمی پرکھنے کی یہ بھی اک نشانی ہے…گفتگو بتاتی ہے کون خاندانی ہے
ان کی تہہ دار شخصیت کا عکس ان کی تحریروں میں صاف دکھائی دیتا ہے۔علمی لحاظ سے وہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ تفسیر وحدیث ،فقہ وبلاغت، عربی زبان و ادب سبھی موضوعات پر ان کو قابل رشک دست رس حاصل ہے۔اردو اور عربی دونوں زبانوں پر وہ یکساں عبور رکھتے ہیں۔ان کے جملوں کی ساخت ، زبان کی سلاست، لہجے کی دلکشی اور الفاظ کی رعنائی میں غضب کی تاثیر موجود ہے۔ان کے اسلوب میں گویا کوثر وتسنیم کا ذائقہ در آتا ہے۔ ان کا قلم جس موضوع کو چھو جاتا ہے اس کے جمال کی دوشیزگی نکھر آتی۔ وہ بڑے علم دوست اور وسیع المطالعہ آدمی ہیں۔ ان کی کتابیں خصوصاً بزمِ رفتگاں اہل علم کے درمیان کافی مقبول ہوئی اور اس کتاب کا چرچا پڑوسی ممالک میں بھی خوب رہا۔مولانا کی شخصیت اور فن پر جب میں نے لکھنا شروع کیا تو مجھے مولاناابن الحسن عباسی مرحوم بہت یاد آرہے تھے اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ مفتی ساجد کی شخصیت اور مولانا ابن الحسن عباسی کی شخصیت میں مجھے کئی چیزیںمشترک نظر آئیں جس کا میں اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکا۔وہ گرچہ ایک مدرس تھے لیکن یقینا وہ قلم و قرطاس کے بے تاج بادشاہ تھے اور ہمارے مفتی صاحب بھی ایسے ہی ایک مدرس کے ساتھ ساتھ زندہ دل صحافی ومعتبر قلم کار ہیں ان کی تحریروں کے اسیر بڑے بڑے لوگ ہیں۔حقانی القاسمی ، مولانا ندیم الواجدی ، مولانا نسیم اختر شاہ قیصراورحبیب الامت ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی رحمۃ اللہ علیہ جیسے اصحاب قلم ان کے اشہابِ قلم کے معترف ہیں۔
مفتی ساجدنے بہت ہی کم وقت میں اپنے قلم کا لوہا منوالیا ہے۔یہاں تک پہونچنے کے لئے بہت جدو جہد اور مزاولت کی ضرورت پڑتی ہے تک کہیں جاکر ادبی دنیا میں شناخت بنتی ہے۔ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کا ایک معتبر و اہم شعبہ، شعبہء تصنیف و تالیف و ریسرچ اکیڈمی جسے شیخ الہند اکیڈمی کے نام سے جاناجاتا ہے۔اس شعبے نے آپ کی خدمات حاصل کرنی چاہی لیکن آپ نے درس و تدریس کو ترجیح دیتے ہوئے اکیڈمک ورک سے معذرت کرلی۔
مفتی صاحب علمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں آپ کی خدمات مثالی اور قابل تقلید ہے،زبان و قلم پر آپ کو یکساں طور عبور حاصل ہے،علمی وادبی شخصیات پرمختلف ریاستوں میں ہونے والے سیمیناروں میں آپ کی شرکت سیمینار کی کامیابی کی ضمانت ہے۔آپ کے مقالے اور مضامین قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔
آخیر میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب سے اسی طرح کام لیتا رہے اور زندگی میں برکت عطافرمائے اور آپ کا قلم اور آپ کی صحت دونوں جوان رہیں اور خوب پھولیں پھلیں ۔ ورق تمام ہوا گفتگو ابھی باقی ہے !!

You might also like