Baseerat Online News Portal

کورونا گائیڈ لائن جوتی کی نوک پر! ہری دوار کمبھ میلہ میں ۲۰ لاکھ لوگوں کا اشنان، تبلیغی جماعت کے خلاف تحریک چلانے والی میڈیا اور نام نہاد دانشوروں اور مرکزی وریاستی حکومتوں کی خاموشی پر ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی، انیس الرحمان قاسمی، مفتی قاسم دہلو ی کا شدید رد عمل

 

ہری دوار؍ممبئی۔ ۱۲؍اپریل:(نمائندہ خصوصی) اتراکھنڈ کے ہری دوار میں جاری مہاکمبھ میں پیر کے روز دوسرے شاہی اشنان کے موقع پر تقریباً ۲۰‘لاکھ عقیدت مندوں نے ہر کی پوریی سمیت مختلف گھاٹوں پر غسل کیا۔ آج سوموتی اماوسیا کا اشنان ہونے کے سبب ایک دن قبل عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد ہری دوار پہنچی تھی۔دریں اثنا اکھاڑا کے بہت سارے سنت کورونا سے متاثر ہونے کی وجہ سے آج کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ اکھاڑا پریشد کے صدر مہندر نریندر گِری سمیت نرنیہ اکھاڑا کے متعدد سنت کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس سنجے گنجیال نے بتایا کہ پورے میلہ علاقے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ہری دوار کمبھ میلہ علاقہ کو ۲۳؍سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں ۱۰زون اور نو سپر زون بنائے گئے ہیں اور ان سیکٹروں میں سینئر پولیس اور انتظامی افسران کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ ہری دوار آنے کے لئے ’روٹ پلان‘ پہلے ہی جاری کر دیا گیا تھا، جس کے تحت ہریانہ اور اتر پردیش کے راستوں سے ہری دوار میں داخل ہونے والے عقیدت مندوں کے لئے گوری شنکر اور دکشدیپ سمیت دھیر والی پارکنگ میں گاڑیاں کھڑی کی گئیں، جبکہ گڑھوال اور دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لئے شمالی ہری دوار میں پارکنگ بنائی گئی ہے۔واضح رہے کہ یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر اس میں چند ہزار بھی کورونا کے مریض پائے گئے تو پورے ملک میں کورونا وبا کی دوسری لہر اتنی شدت اختیار کرسکتی ہے کہ اسے روکنا ناممکن ہوگا۔ اتنی بڑی بھیڑ کمبھ میلے میں موجود ہے؛ لیکن ملک کی متعصب میڈیا جو سال گزشتہ تبلیغی جماعت مرکز میں چند سو افراد کے اجتماع کو اتنی شدت سے اُٹھایا تھا کہ لوگوں نے یہ تسلیم کرلیا تھا کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ میں تبلیغی جماعت کا اہم رول ہے؛ جبکہ عدالتوں نے اس بات کی نفی کردی اور گرفتار کیے گئے ملکی وغیر ملکی جماعت کے اراکین کو رہا کرتے ہوئے کلین چٹ دے دی، پھر بھی تعصب کی عینک اتارنے پر میڈیا راضی نہیں ہے ، گزشتہ روز امیر شریعت مولانا ولی رحمانی ؒکے جنازے میں موجود بھیڑ  بھی کورونا وائرس کے بڑھتے معاملوں کے مدنظر رپورٹنگ کررہی تھی اور تشویش کا اظہار کررہی تھی ، اب وہی دوغلی میڈیا کمبھ میلے کی ۲۰ لاکھ کے بھیڑ کو نظر انداز کررہی ہے ۔ اس تعلق سے نمائندہ ممبئی اردو نیوز نے ملک کی چند اہم ملی و سماجی شخصیتوں سے ان کے تاثرات جانناچاہا جس پر ملی وسماجی رہنماؤں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ مشہور عالم دین فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (بانی المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد) نے اس ضمن میں بتایا کہ ’’حکومت نے دو پیمانے رکھے ہیں، ایک پیمانہ اکثریتی طبقہ کےلیے اور ایک مسلمانوں کےلیے ہے یہ افسوسناک بات ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیا جس کا کام سچائی کو غیر جانبداری کے ساتھ لوگوں تک پہنچانا ہے؛ لیکن اگر سچائی حکومت کے خلاف پڑتی ہے، تو میڈیا اسے چھپاتی ہے اور جو چیز مسلمانوں کے خلاف ہوتی ہے تو اسے مبالغے کے ساتھ پیش کرتی ہے یہ رویہ ملک کی جمہوریت کے لیے بہت ہی نقصاندہ ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے کہاکہ حکومت مسلمانوں کی دلسوزی کا کام کرتی ہے، اس پر کوئی تعجب نہیں ہے، وہ اپنوں کی خوشنودی کے لیے سب کچھ کرتی ہے، یوپی میں مسجدوں میں پانچ نمازیوں کو نماز پڑھنے کےلیے کہاجارہا ہے اور وہیں کمبھ میلے میں لاکھوں افراد جمع ہیں ، ہمیں حکومت کے رویہ پر کوئی تعجب نہیں۔ انہوں نے میڈیا کے تعلق سے کہاکہ جب وسیم رضوی نے قرآن مقدس کے خلاف گستاخانہ عرضی دائر کی تو یہی میڈیا اسے کئی دنوں تک چلاتی رہی اورآج اس کی پٹیشن خارج کردی تو چنندہ کو چھوڑ کر کسی میڈیا نے اسے کوریج نہیں دی۔ میڈیا کا رویہ بھی مسلمانوں کے تئیں متعصبانہ ہے۔ نائب امیر شریعت بہار واڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا شمشاد رحمانی نے کہاکہ ’’ یہ حکومت کی دو رخی پالیسی ہے، حکومت نے ابھی نماز وغیرہ کےلیے مساجد میں پابندی لگا دی ہے کہ بھیڑ نہ ہو، ادھر دوسری طرف کمبھ میں لاکھوں کا مجمع جمع ہورہا ہے، ظاہر ہے اس سے حکومت کے رخ کا اندازہ ہوتا ہے، ایسے وقت میں حکومت کو تمام عوام کے ساتھ چلناچاہئے، اور سبھی کے لیے یکساں اصول مرتب کیاجاناچاہئے، حکومت کی طرف سے اس طرح کی حرکت اچھی چیز نہیں ہے۔ یہ حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرے کے ساتھ آئی ہے؛ لہذا اس کی رعایت سیکولر ملک میں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہورہے ہیں، ریلیوں کے اندر بنگال ، آسام، تمل ناڈو وغیرہ میں بھیڑ ہورہی ہے اس پر کوئی ہنگامہ نہیں؛ لیکن مرکز میں سال گزشتہ چند سو افراد جمع ہوئے تو اس پر واویلا مچایاگیا اور ریلیوں کی بھیڑ، کمبھ کے میلوں پر کوئی بیان اور میڈیا کی کوریج نہیں، اس معاملے میں میڈیا بالکل خاموش ہے، میڈیا کا بھی معاملہ بھی دورخا ہے، کسے اجاگر کرناہے، کسے چھپانا ہے، یہ بالکل ہی حکومت کے ذہن کو پڑھ اور سمجھ کر کرتی ہے۔ حج کمیٹی آف بہار کے سابق چیئرمین مولانا انیس الرحمان قاسمی نے کہاکہ کورونا کے متعلق حکومت نے جو اعلان کیا تھا، اس کی پابندی سبھی کو کرنی چاہئے تھی؛ لیکن کمبھ کے میلے میں جو اتنی بڑی تعداد میں بھیڑ جمع ہے، جہاں نہ سوشل ڈسٹینسنگ ہے نہ ہی ماسک وغیرہ کا انتظام ہے یہ ان کے لیے خطرناک ہے، اس کا مطلب ہے کہ یوپی سرکار نے پہلے سے انہیں صحیح جانکاری نہیں دی، اگر حکومت نے مناسب جانکاری اور اصول وضوابط طے کی ہوتی تو یقینا اتنی بڑی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ انہوں نے پوچھے جانے پر کہ میڈیا نے سال گزشتہ تبلیغی جماعت کو مورد الزام ٹھہرایا تھا؛ لیکن ابھی کمبھ میلے پر خاموش ہے تو جواب دیا کہ ’’میڈیا کا اس میلے کو نہ دکھانا اس بات کی دلیل ہے کہ میڈیا کورونا کے پھیلانے اور روکنے میں جو تعاون کرناچاہئے نہیں کر رہی ہے ، میڈیا چپ چاپ ہے یہ اپنے فریضے کو ادانہیں کررہی؛ جبکہ سال بھرپہلے تبلیغی جماعت کے مرکز جہاں صرف چند سو افراد جمع تھے اسے لے کر بات کا بتنگڑ بنایا اور یہ تعصب پر مبنی تھا۔ کورونا پھیلانے کا ان پر جو الزام لگایا گیا وہ جھوٹا الزام تھا۔آج کمبھ کا میلا لگا ہوا ہے، پورے ملک سے عوام وہاں پہنچے ہوئے ہیں؛ لیکن میڈیا اسے نظر انداز کررہی ہے؛ حالانکہ ابھی کورونا کی دوسری لہر پوری رفتار پکڑ چکی ہے، اتنی بڑی بھیڑ سے تو یقینی طور پر کورونا پھیلے گا، یہ خطرناک بات ہے اس پرریاستی اور مرکزی حکومت کو نوٹس لینی چاہئے۔ جمعیۃ علما ہند ارشد مدنی سے منسلک دہلی کے ایک بڑے عالم دین *مفتی قاسم قاسمی نے کہاکہ سال گزشتہ میڈیا نے جو تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا وہ بے روزگاری، بھکمری اور حکومت کے دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے کےلیے کیا  تھا اور سب سے بڑی بات کورونا پھیلنے کا الزام فروری میں احمد آباد میں لاکھوں افراد پر منعقدہ ریلی نمستے ٹرمپ سے ذہن ہٹانے کےلیے کیاگیا تھا جو کہ سراسر عصبیت پر مبنی تھا۔ آج لاکھوں کی تعداد میں الہ آباد میں لوگ گنگا اشنان کررہے ہیں، اس سے کوئی کورونا نہیں پھیل رہا ہے؛ جبکہ اتنی بڑی بھیڑ اگر مسلمانوں کی طرف سے اس دوران ہوتی تو میڈیا آسمان سر پر اٹھالیتا اور حکومت کارروائی کرتی ۔ انہوں نے بتایاکہ میڈیا اور حکومت سبھی مسلمانوں کے تئیں متعصب ہیں، نہیں تو کیا وجہ ہے کہ کمبھ کا میلہ پوری آن بان شان سے جاری ہے، نہ اس پر کوئی رپورٹ ہے، نہ ہی کارروائی ہورہی ہے۔ مفتی نافع عارفی کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار نے کہا کہ تبلیغی جماعت پر جو الزام لگایا گیا کورونا پھیلانے کا وہ الزام عدالتوں میں ٹک نہیں سکا اور تمام عدالتوں نے تبلیغی جماعت سے وابستہ ملکی وغیر ملکی تمام افراد کو بری کردیا، آج دہلی ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ آیا ہے کہ تبلیغی مرکز کو کھول دیاجائے، عدالتوں میں یہ بات ثابت ہوچکی کہ کورونا کو پھیلانے میں تبلیغی جماعت کا کہیں کوئی قصور نہیں تھا، میڈیا نے صرف مسلمانوں کو بدنام کرنے اور انہیں ٹارگیٹ کرنے کےلیے گھنائونی سازش رچی تھی؛ لیکن افسوس کہ یہی میڈیا آج کمبھ کے میلے پر بالکل خاموش ہے اور حکومت بھی کمبھ کے میلے کے انعقاد میں معاون ہے؛ جبکہ وہاں لاکھوں لوگ بیک وقت گنگا میں ڈبکیاں لگا رہے ہیں یہ حکومت اور میڈیا کی دوغلی پالیسی ہے جو اس ملک کے لیے خطرناک ہے۔

You might also like