Baseerat Online News Portal

ملعون وسیم رضوی ذلیل، قرآن پاک کے خلاف رٹ خارج، سپریم کورٹ کی سخت سرزنش، مرتد پر پچاس ہزار کا جرمانہ، عدالت عظمیٰ کے اقدام کا ملی حلقوں میں خیر مقدم

نئی دہلی۔۱۲؍ اپریل:  سپریم کورٹ نے پیر کو گستاخ، ملعون مردود، رسوائے زمانہ وسیم رضوی کی طرف سے دائر گستاخانہ عرضی جس میں (نعوذباللہ)قرآن مجید کی ۲۶؍آیات کو ہٹانے کی درخواست خارج کردی ہے۔جسٹس روہنگٹن فالی نریمن کی سربراہی والی بنچ نے اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کی درخواست خارج کردی اور گستاخ پر پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ جسٹس نریمن نے کہا ’’یہ مکمل طور پرغیر سنجیدہ رٹ پٹیشن ہے‘‘۔کیس کی سماعت کے دوران جسٹس نریمن نے پوچھا کہ کیا درخواست گزار اس درخواست کے بارے میں سنجیدہ ہے؟‘‘ انہوں نے کہا’’کیا آپ درخواست کی سماعت پر اصرار کررہے ہیں؟ کیا آپ واقعی سنجیدہ ہیں؟ ‘‘قر آن مجید کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے والا وسیم رضوی مرتد کی طرف سے پیش سینئر ایڈووکیٹ آر کے رائے زادہ نے جواب دیا کہ وہ مدرسہ تعلیم کے ضوابط کے لئے اپنی درخواست محدود کررہے ہیں۔ اس کے بعد اس نے اپنے مؤکل کا موقف پیش کیا ، جس سے بنچ مطمئن نظر نہیں آیا اور اس نے پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے خواست خارج کردی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کارگزار جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی پریس نوٹ کے مطابق ’’آج سپریم کورٹ کی سہ رکنی بینچ کے سامنے قرآن مجید کی آیات کے سلسلہ میں وسیم رضوی کی درخواست پر مختصر بحث ہوئی، بینچ نے متفقہ طور پر اس درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا، اور اُس پر پچاس ہزار روپئے کا جرمانہ بھی لگایا، بورڈ کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ جناب یوسف حاتم مچھالہ صاحب، جناب ایم آر شمشاد صاحب ایڈوکیٹ اور جناب محمد طاہر ایم حکیم صاحب ایڈوکیٹ نے پیروی کی؛ لیکن بورڈ کی طرف سے بحث کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، عدالت نے وسیم رضوی کا بیان سن کر ہی درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے پچاس ہزار روپئے جرمانہ کے ساتھ مقدمہ خارج کر دیا‘‘۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر دارالعلوم دیوبند نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نہایت امید افزاء ہے ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ اسلامی تعلیم کی دانشگاہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو امیدوں کے مطابق بتایا ۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک بہتر اور اچھا فیصلہ ہے ۔انہوںنے کہا کہ وہ اس فیصلہ کو اطمینان بخش اور امید افزاء سمجھتے ہیں ۔ مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ سے اپنے مقام اور اپنی حیثیت کا بھی اظہار کر دیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمارا پہلے سے ہی یہ ماننا ہے کہ قرآن پاک ایک آسمانی کتاب ہے جس میں کسی بھی طرح کی ترمیم ،بدلائو اورزبر زیر یا پیش تک کو حذف کئے جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔مولانا موصوف نے کہا کہ اس طرح کی عرضی دائر کرنا بھی قابل جرم ہے اور ایسے جرم کے لئے سزاہونی چاہئے لیکن سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ دیا ہے وہ ایک اچھا پیغام ہے ۔ سپریم کورٹ نے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے انصاف پر مبنی فیصلہ سنایا ہے ۔مولانا مفتی ابولقاسم نعمانی نے کہا کہ وہ اور دارالعلوم دیوبند اس فیصلہ کا استقبال کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی عدالت عظمیٰ اسی طرح کے انصاف پر مبنی فیصلے سناتی رہے گی ۔ جس سے اس ملک کا اتحاد و یکجہتی مزید مضبوط ہوگا ۔ عدالت عظمیٰ سے بدنام زمانہ وسیم رضوی کی قرآن کریم کی چھبیس آیتوں کے خلاف داخل مفاد عامہ کی عرضی رد کئے جانے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے قومی نائب صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی چیئرمین ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن نے کہاکہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ خوش آئند اورامن وشانتی پیدا کرنے والا ہے،انہوں نے عدالتی فیصلے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ وسیم رضوی کی فتنہ انگیز اورشرارت پسندی سے پُرمفاد عامہ کی عرضی پر سپریم کورٹ کا تبصریہ قابل قدر اورقابل غور ہے۔کیوں کہ عدالت عالیہ نے اس عرضی کو احمقانہ،شرپسندانہ قراردیتے ہوئے مسترد کردیا اورعرضی گزار وسیم رضوی پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔یہ فیصلہ اس حیثیت سے بھی اہم ہے کہ اب کوئی ملک کی پُرامن فضا کو بگاڑنے والی ایسی حرکتوں سے پہلے ضرور سوچے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ عدالت کے اس فیصلہ کے بعد ان چینلوں کو بھی معافی مانگنی چاہیے جو ایسے واہیات اورشرپسندانہ عرضی کے بعد اسلام اورقرآن کریم کے خلاف زہر پھیلانے کی کوشش کررہے تھے اوروسیم رضوی جیسے ملک دشمن کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔مولانا قاسمی نے مزید کہاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ بناکر نازل فرمایاہے۔یہ اللہ کی آخری کتاب ہے۔اب نہ کوئی کتاب آئے گی اورنہ کوئی نبی آئے گا۔اس کتاب سے پوری انسانیت کی کامیابی وکامرانی وابستہ کردی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایاہے؛اس لیے ہمارا ایمان ہے کہ اس کتاب ہدایت کا ایک نقطہ اورایک حرف بھی بدلا نہیں جاسکتا۔یہ محفوظ کتاب ہے اورقیامت تک محفوظ رہے گی۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ وہ ماہ مبارک جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے،اپنی تمام تر رحمتوں اوربرکتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے۔اس ماہ مبارک رمضان المبارک کو قرآن کریم سے خاص نسبت ہے۔اس ماہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے جانثار صحابہ قرآن کریم کی تلاوت اوراس پر غور وفکر کا اہتمام بہت زیادہ فرمایاکرتے تھے۔ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کو اپنے دامن دل سے باندھ لے اوراس پر غور وفکر اورتدبر کے ساتھ اس کی دعوت کو عام کرے۔خیال رہے ملعون رضوی کی عرضی میں کہا گیاتھا کہ ان آیات میں انسانیت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا گیاہے اور یہ مذہب کے نام پر نفرت ،قتل، خون خرابہ پھیلانے والا ہے، اس کے ساتھ ہی یہ آیات دہشت گردی کو فروغ دینے والا ہے۔ مرتد رضوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ قرآنی آیات مدارس میں بچوں کو پڑھائی جارہی ہیں ، جو ان کی بنیاد پرستی کا باعث ہیں ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ (نعوذباللہ) قرآن کی ان 26 آیات میں تشدد کی تعلیم دی گئی ہے ، ایسی تربیت جو دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے اسے روکا جانا چاہئے۔

You might also like