سیرت وشخصیاتشخصیاتمضامین ومقالات

جناب عبد الستار یوسف شیخ _____ یہ چراغ بھی بجھ گیا

رضوان احمد ندوی
ابھی جناب محمد عبدالرحیم قریشی اسسٹنٹ جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کی وفات کا صدمہ تازہ ہی تھا کہ اچانک ایک اور اندوہناک خبر دل کو تڑپا گئی ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر سکریٹری ، شہر ممبئی کی ہر دلعزیز اور شگفتہ شخصیت الحاج جناب عبد الستار یوسف شیخ صاحب کچھ عرصہ علالت کے بعد ۱۷؍ فروری ۲۰۱۶ء کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہو کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
دل کوسکون روح کو آرام آگیا موت آگئی کہ یار کا پیغام آگیا
بلا شبہ شیخ صاحب ایک بڑے نیک دل ، مخلص او درد مند انسان تھے، مسلم مسائل کو بڑی قوت کے ساتھ اٹھاتے اور اس کے حل لئے آخری حد تک جد وجہد کرتے رہتے، نہ ستائش کی تمنا رکھتے، نہ صلہ کی پرواہ ، بس دیوانگی کے ساتھ ملی مسائل کے تصفیہ میں اپنے کو گھلاتے اور بگھلاتے رہتے ، اکابر امت کی صحبت اور مشائخ کی تربیت نے انہیں پختہ کار بنا دیا تھا ،ا نہوں نے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ، حضرت مولانا محمد میاں، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب، مفتی عتیق الرحمن عثمانی ، امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی ، مولانا حبیب الرحمن اعظمی ، قاضی اطہر مبارک پوری ، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ، حضرت مولانا شاہ ابرا رالحق جیسے نفوس قدسیہ کے جمال جہاں آرا کا نظارہ کیا تھا ، اور بیشتر کے فیوض وبرکات سے بہرور بھی ہوئے تھے، افسوس کہ ادھر چند سال سے یہ بساط اتنی تیزی کے ساتھ لپٹ رہی ہے کہ جدھر نظر آٹھائیے، سنا ٹا نظر آتا ہے۔
جناب الحاج عبد الستار یوسف شیخ ریاست کرناٹک کے ضلع کاروا کی ایک غیر معروف بستی مرزاں کے باشندہ تھے، وہیں ۱۹۲۲ء میں پیدا ہوئے ، ان کے والد کا نام شیخ یوسف تھا ، آپ کا گھرانا بہت زیادہ متمول اور خوشحال نہیں تھا اس لئے آپ ۴۸،۱۹۴۷ء؁ میں رزق حلال کی تلاش میں ممبئی آگئے ، یہاں چند سالوں تک مختلف طرح کے نشیب وفراز سے گذرے، بے شمار تکلیفیں جھیلیں، پھر اللہ نے کشادگی فراخی عطا کی ، LICمیں ملازمت مل گئی، مصارف زندگی بڑھ گئے تو سمندری ریت کی خرید وفروخت شروع کی اللہ نے انہیں اس میں بھی بڑی برکت عطا کی ، زندگی میں خوشحالی فارغ البالی آگئی ، تھانہ (ممبئی) میں رہائشی فلیٹ خریدا اور یہیں کے ہو کر رہ گئے، جب انہوں نے مسلم ویلفیر سوسائٹی کی داغ بیل ڈالی تو حلقہ اثر بڑھا ، ذاتی محنت ولگن سے اردو اورانگریزی زبان بھی سیکھی، اور بہت جلد شہر ممبئی میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے، باجود یکہ انکی عمر قمری حساب سے ۹۶ سال سے متجاوز ہو چکی تھی لیکن کبر سنی کی حالت میں بھی ان کی ہمت اور جسمانی محنت کا حوصلہ جوانوںکے لئے لائق صدر شک تھا، وہ اپنی ہمت کی بنا پر بسا اوقات جوانوں کو بھی شرمندہ کر دیتے تھے۔
جب کبھی ملت اسلامیہ کے مسائل میں کسی اجتماعی کام کی ضرورت پیش آئی تو شیخ صاحب اپنی تمام تر مصروفیات کو قربان کر کے تن من دھن کی بازی لگا دیتے ، جب ۱۹۷۲ء میں ممبئی میں مسلم پرسنل لا کنونشن منعقد کرنیکا فیصلہ ہوا تو جناب محمد یوسف پٹیل صاحب اور جناب ڈاکٹر یوسف نجم الدین صاحب کی سر کردگی میںا یک مجلس استقبالیہ تشکیل پائی اور جناب عبد الستار یوسف شیخ صاحب اس کے جنرل سکریٹری بنائے گئے، اور ان بزرگوں کی قیادت میںجو اجلاس ہو ا، وہ بورڈ کا یاد گار کنونشن رہا اور تاریخ ساز بھی ، اسی اجلاس کے بعد سے شیخ صاحب کی دینی و سماجی تحریکات سے ملک متعارف ہو ا، آپ بورڈ کے تاسیسی رکن اور سکریٹری تھے اور تا حیات اس منصب پر فائز رہے اور تحفظ شریعت تحریک کو قوت بخشتے رہے، معمار بورڈ کی تاریخ مرتب کرنے والا کوئی بھی منصف مزاج مورخ بورڈ کے لئے آپ کے دینی وملی کارناموں کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ میں عرصہ بیس سالوںسے انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ برابر بورڈ کی میٹنگوں میں شرکت فرماتے رہے ہیں اور سادگی کے ساتھ کچھ نہ کچھ اظہار خیال بھی کرتے رہے، انہیںا پنی رائے پر قطعی اصرار نہیں ہوتا تھا ، دل میںجو بات آئی بغیر ایچ پیچ کے مجمع کے سامنے رکھ دیا ، وہ اکثر اصلاح معاشرہ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے خاندانی شادیوں کی سادگی کا تذکرہ کرتے اور لوگوں کے جذبہ کو بھی اس طرح کی شادیوں پر ابھارتے ، گرچہ اللہ نے ان کو زبان کے بھاری پن کی آزمائش میں ڈالا تھا مگر جب گفتگو کر تے سیل رواں کی مانند زبان چلتی رہتی ان کے دل وزبان میں لطافت تھی، اپنی گفتگو سے لوگوں کو متاثر کر دیتے تھے۔
نرم دم گفتگو گرم دم جستجو ۔ رزم ہو یا بزم ہو پاک دل وپاکباز
شیخ صاحب مجھ سے بہت محبت وشفقت سے پیش آتے کبھی کبھی ہمیں تحریک آزادی کے قصے اور واقعات بھی سنایا کرتے تھے، طبیعت کو گد گداتے اور پختہ کار بننے کی تلقین فرماتے ، بورڈ کے ۱۳؍ ویں اجلاس ممبئی ۹۹ میں طویل معیت وصحبت کی سعادت نصیب ہوئی ، پھر ۲۲؍ ویں اجلاس بورڈ ۲۰۱۲ء کے موقعہ پر بھی ان کی رفاقت رہی تو اندازہ ہوا کہ ان کا ملک کے سیاسی رہنماؤں سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔
اکابر بورڈ کی بھی بڑی قدر کرتے تھے، صدر بورڈ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ، سابق جنرل سکریٹری بورڈ حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب ، جناب محمد عبد الرحیم قریشی صاحب، امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب کارگذار جنرل سکریٹری بورڈ سے بڑی حد تک ذہنی وفکری ہم آہنگی بلکہ بے تکلفی تھی ، اور یہی وجہ تھی کہ بورڈ کا دائرہ کار بھی وسیع ہوا ۔
ہمارا مشاہدہ ہے کہ شیخ صاحب ایک بے ضرر انسان تھے اور کہنا چاہئے کہ ان کے اندر کسی کو نقصان پہونچانے کی قطعی صلاحیت ہی نہ تھی، قدرت نے انہیں وجیہہ بنایا تھا ، گورے چٹے، صاف وسفید گھنی داڑھی دیدہ زیب لباس اور اسلامی وضع قطع سے اکابر امت کی یاد گار تھے، ہمیں قوی امید ہے کہ رب کائنات اپنے وعدے ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین کے مطابق انہیں اپنی بیش بہا رحمتوں اور نعمتوں سے ضرور نوازے گا۔ اور اعلیٰ علیین میںجگہ عطا فرمائے گا ۔ ؎
آسماں تیری لحد پر شبنم افشائی کرے
*معاون ایڈیٹر ہفتہ وار نقیب امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ ۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker