Baseerat Online News Portal

مولانا مفتی اعجاز ارشد کے انتقال کے صدمے کو بھلا پانا آسان نہیں ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کے رکن کی رحلت پر مولانا ارشد فیضی کا اظہار تعزیت

 

 

رفیع ساگر /بی این ایس

جالے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور باوقار عالم دین مولانا مفتی اعجاز ارشد قاسمی کی اچانک رحلت میرے لئے ایک ایسے صدمے کی طرح ہے جسے بھلا پانا شاید آسان نہیں ہوگا کیونکہ وہ ایک متحرک وفعال اور ملک وقوم کی سچی ہمدردی رکھنے والے انسان ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایسے شخص تھے جنہوں نے مجھ جیسے نہ جانے کتنے ہی لوگوں کو انگلی پکڑکر لکھنے اور صحافت کے میدان میں آگے بڑھنے کا ہنر سکھایا تھا ۔یہ باتیں اسلامک مشن اسکول جالے کے ڈائریکٹر مولانا ارشد فیضی قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہیں۔مولانا فیضی نے اپنے پیغام میں کہا کہ موت تو ایک ایسی سچائی ہے جس سے انکار کی گنجائش نہیں لیکن مولانا اعجاز ارشد قاسمی اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود جتنی خاموشی سے دنیا کو الوداع کہ گئے اس نے ہزاروں آنکھوں کو نم کرکے سسکیاں لینے پر مجبور کر دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کا غم ایک لمبے وقت تک علمی حلقے کو سوگوار رکھے گا،مولانا فیضی نے کہا کہ ارشد قاسمی میرے مربی بھی تھے اور میدان صحافت کے آئیڈیل بھی انہوں نے ایک بڑے بھائی اور مخلص مربی کی طرح جس انداز سے ہمیں سینچنا تھا اس کی یادیں برسوں تک ان کی غیر موجودگی کا احساس دلاتی رہیں گی،انہوں نے کہا کہ موصوف ایک بے باک صحافی وترجمان کی حیثیت سے ملت کے مسائل کو حکومت کے سامنے پیش کرنے اور بلا کسی ڈر وخوف کے اپنی بات رکھنے کا حوصلہ رکھتے تھے جس کے منظر کو اس ملک کی نگاہ نے بار بار دیکھا تھا،وہ ملک کے مسلمانوں کے شاندار مستقبل کے لئے بھی نہ صرف فکر مند تھے بلکہ اس سمت میں آگے بڑھنے کا ٹھوس منصوبہ رکھتے تھے جس کے سبب نئی نسل میں انہیں خاص احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور وہ کم وقت میں نوجوان طبقہ کے لئے ایسے آئیڈیل بن گئے تھے جن پر ہر کسی کو ناز تھا،مولانا فیضی نے کہا کہ مفتی ارشد قاسمی دارالعلوم دیوبند کے ان مایہ ناز فرزندوں میں تھے جن پر اس عظیم درسگاہ کو بجا طور سے فخر کا حق حاصل ہے،وہ سنجیدہ فکر رکھنے کے ساتھ سلجھی زبان اور قابل احترام قلمی صلاحیت کے بھی مالک تھے جس نے انہیں نہ صرف علمی وادبی حلقے کا جانا پہچانا نام بنا دیا تھا،بلکہ اپنی مایہ ناز تصنیف ” من شاہ جہانم” کی وجہ انہیں جو مقبولیت ملی تھی وہ مقبولیت میں نے اس عمر کے لوگوں کو پاتے نہیں دیکھا،انہوں نے کہا کہ مفتی ارشد قاسمی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بڑی صاف گوئی کے ساتھ اپنا موقف پیش کرتے اور نئی نسل کو بڑی جوابدہی کے ساتھ آگے بڑھنے کا سبق پڑھاتے تھے،مجھے یاد ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے زمانے میں بھی انہوں نے اپنی اسی خوبی کی وجہ سے طلبہ کے بیچ اپنی خاص پہچان بنائی تھی اور پھر اس کے بعد سے لے کر آج تک یہی خوبی ہم جیسے لوگوں کے بیچ ان کی خاص شناخت کا سبب رہی اس لئے ہم کہ سکتے ہیں کہ ان کے جانے سے صحافتی اور علمی حلقے میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو نوجوان نسل برسوں تک بھرتا دیکھنے میں کامیاب نہ ہوسکے گی،موصوف نہ صرف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے باوقار رکن تھے بلکہ ملک کے صحافتی منظر نامے میں بھی ان کا قد کافی اونچا تھا جس کی وجہ سے وہ بارہا ٹی وی چینلوں پر اینکروں کے تیکھے سوالوں کے سامنے ملت کے حقیقی مسائل کو پیش کرتے نظر آئے،میں ان کی مغفرت کے لئے بارگاہ الہی میں سجدہ ریز ہوں،ادھر جالے جامع مسجد کے امام وخطیب مولانا مظفر احسن رحمانی اور محب تعلیم مولانا مفتی عامر مظہری نے بھی اعجاز ارشد قاسمی کی رحلت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے نئی نسل کا بڑا خسارہ قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ مفتی اعجاز ارشد ان قد آور لوگوں کی صف میں تھے جن کے بڑھتے قدم سے نئی نسل کو حوصلہ ملتا تھا،انہوں نے کہا یکے بعد دیگرے نامور شخصیات کا ہم سے رخصت ہونا بڑی آزمائش کی طرح ہے اس لئے ہمیں اللہ کے سامنے اپنے اعمال سے توبہ کرتے ہوئے ملت کی بھلائی کے لئے دعا کرنا چاہئے،انہوں نے کہا کہ مولانا قاسمی قابل رشک سیاسی بصیرت کے مالک تھے اور سیاست کے اتار چڑھاو کو بھانپ کر قدم بڑھانے کا سلقہ اتنی اچھی طرح جانتے تھے کہ عام طور پر ہم جیسے لوگوں کو ان پر رشک آتا تھا۔

ادھر ان کے انتقال پر آل انڈیا بیداری کارواں کے صدر نظر عالم نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملت کا عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔اسی طرح سابق ضلع پارشد حبیب اللہ ہاشمی، مفتی سلیم ناصری اور مولانا عبدالرحمن قاسمی دوگھرا نے بھی مفتی اعجاز ارشد کے انتقال پر تعزیت کی ہے۔

 

 

You might also like