Baseerat Online News Portal

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی

 

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

محمد عزیزالرحمان قاسمی

مقیم حال/ سلطنۃ  عمان

0096894263966

آہ   میرے مشفق میرے راہبر میرے آیڈیل “تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں كوئی” اور”بچھڑے کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی ” ڈاكٹر مفتی اعجاز  ارشد قاسمی صاحب مرحوم كےوصال سے یقینا پوری ملت اسلامیہ ہندیہ   افسردہ  او رغمگین ہے ، لیكن میرے لئے  ذاتی طور  پر ایك عظیم خسارہ اس لئے بھی ہے كہ وہ میرے چچا زاد بھائی بھی تھے،  مچھے اچھی طرح یاد ہے كہ جب میں  2004 میں دارالعلوم دیوبندمیں  داخلہ  كے لئے گیا تو اس وقت مفتی صاحب  دار العلوم  كے میڈیا انچارج اور انٹرنیٹ شعبہ كے ذمہ دار تھے ، اس وقت مفتی صاحب كا قیام احاطہ دارجدید میں  مطبخ كے پاس بالائی منزل پر بالكل سیڑھی كے سامنے    تھا،  مفتی صاحب نے میرے رہنے كےلئے  اپنے روم میں ہی جگہ دی، اور میں وہیں امتحان كی تیاری كرتا رہا،  الحمدللہ امدادی داخلہ ہوگیا ، لیكن   خصوصی رہائش كے لئے مطلوبہ نمبر حاصل نہیں كرسكا ، مجھے یاد آرہا ہے كہ جب میں نے مفتی صاحب ؒ سے خصوصی رہائش كے لئے سفارش كی درخواست كی تو انہوں نے یہ كہہ كر سفارش كرنے سےانكار كردیا  كہ آپ كو جہاں جگہ مل رہی ہے وہیں  ششماہی تك قیام كریں ، اور اچھے نمبرات حاصل كرنے كی كوشس كریں ، چنانچہ ایساہی ہوا ،  ششماہی امتحان میں محنت كركے خصوصی رہائش كے لئے مطلوبہ نمبرات حاصل كیا اور پھر رواق خالد میں جگہ ملی ، یہ تھا مفتی صاحب كا  تربیتی انداز۔

مفتی صاحب ہر سال عید الفطر اور عید الاضحیٰ  كے موقع پر آبائی وطن چندرسین پور تشریف لاتے ، اور اپنے تمام رشتہ داروں كے ساتھ خوشیوں میں شریك ہوتے ، عید كی نماز كے بعد اپنےتمام رشتہ داروں كے گھر تشریف لے جاتے اور جو میسر ہوتا نوش فرماتے ، خاندان كے تمام افراد خواہ  وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ہر ایك سے خند ہ پیشانی سے ملتے ، آج تك خاندان والوں نے  كبھی   كسی خاندان  كے فرد سے الجھتے  تو دركنار كسی سےبآواز بلند بات كرتے نہیں دیكھا، ہر ایك  كے محبوب اور منظور نظر تھے ، بہت كم لوگوں كو یہ مقام حاصل ہوتا ہےكسی نے سچ كہا ہے

ایسا بھی کو ئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے”

آپ كی زندگی  مشہور حدیث ( خيركم خيركم لأهله)  كی كھلی  تفسیر تھی۔

اللہ تعالے نے  مفتی صاحب ؒ  كو ملت  كے لئے كام كرنے ،اس كے لئے ہر طرح كی قربانی دینے كا جذبہ خصوصی طور پر ودیعت كیا تھا  جو  بچپن سے  لے كر زندگی كی آخر ی سانس تك نمایا نظر آتا ہے۔ ان كی یہ خوبی ان كے ساتھ كام كرنے والے مفتی مجتبیٰ  صاحب استاذ حدیث ماٹلی والابھروچ اور غفران ساجد قاسمی صاحب چیف ایڈیٹر بصیرت آنلائن  اور دیگر حضرات اچھی  طرح جانتے ہیں۔ مچھے اچھی  طرح یاد ہے كہ  جب مفتی صاحب مدرسہ بشارت العلوم میں زیر تعلیم تھے،   عنفوان شباب كا زمانہ تھا اس زمانہ میں  بھی  جب رمضان كی چھٹی ہوتی تو جہاں دوسرے طلباء اپنے اوقات دوستوں كے ساتھ اور گھر والوں كے ساتھ گذارنا پسند كرتے وہیں مفتی صاحب محلے كے بچوں كی تعلیم كے لئے  فكرمند ہوتے اور ان كو  دروازہ پر تعلیم كے لئے جمع كرتے،  یقینا  ایسا ملی جذبہ ہر كسی كو حاصل نہیں ہوتا ۔

غالبؔ  كا یہ مصرع آج بار بار دل پردستك دے رہا  : 

“ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے”

یہ ایك سچی حقیقت ہے كہ مفتی صاحب ؒ ہمہ جہت شخصیت  كے مالك تھے ، بہت كم وقت میں اپنی شخصیت كو متعارف كرانے میں كامیاب ہوئے۔ شعبہائے زندگی    كے مختلف میدانوں میں انہوں نے جو كام كیا ہے ان كاموں  كو اور ان كی گوناگوں خوبیوں كو كسی ایك مضمون میں شمار كرنا بہت مشكل ہے۔

مفتی صاحب ؒ شكل و شباہت كے اعتبار سے نہایت حسین وجمیل، خوبرو   ،خوش مزاج  ،طبیعت كے اعتبار سے نفیس  جن كی نفاست ان كے لباس سے واضح جھلكتی تھی، چھوٹے بڑوں كے ساتھ گھلنے ملنے كا مزاج تھا،

مفتی صاحبؒ  کاآبائی وطن بہارکے مدھوبنی ضلع کی زرخیزبستی چندرسین پورتھا،ابتدائی تعلیم انہوں نے مدرسہ بشارت العلوم کھرایاں پتھرا سے حاصل کی اور پھر علیا كی تعلیم  كے لئےدارالعلوم میں  داخلہ لیاجہاں سے انہوں نے فضیلت کی سندحاصل کی ،افتاء بھی دارالعلوم دیوبندسے ہی کیا۔افتاء کے بعدایک سال انہوں نےدارالعلوم دیوبندکے شعبہ صحافت شیخ الہنداکیڈمی میں رہ کرصحافت کی تربیت حاصل کی ۔اس کے بعددارالعلوم دیوبندکے رکن شوریٰ مولانابدرالدین اجمل قاسمی صاحب کی ایماء پرتقریبا ایک سال ہندوستان کے مشہورزمانہ ہفت روزہ نئی دنیامیں عملی صحافت کی تربیت حاصل کی۔اس کے بعدسن ۲۰۰۱ میں باضابطہ دارالعلوم کے شعبہ انٹرنیٹ میں ویب ایڈیٹرکی حیثیت سے آپ کاتقررہوا۔آپ نے دارالعلوم دیوبندکےمیڈیاترجمان کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیں،آپ دارالعلوم دیوبندکے طلبہ کے لئے صحافت میں آئیڈیل تھے،آپ کودیکھ کرسینکڑوں طلبہ نے صحافت کی جانب رخ کیا۔دارالعلوم دیوبندکے زمانے میں جب آپ نے صحافت کے موضوع پرشاہکارکتاب ’’من شاہ جہانم‘‘ تصنیف کی تواس کتاب نے آپ کوراتوں رات صحافت کی دنیامیں مشہورکردیا۔من شاہ جہانم علماء برادری کی جانب سے صحافت کے موضوع پرباضابطہ پہلی تصنیف تھی ۔یہ کتاب آج بھی صحافت کے طلبہ کے لئے رہنماکی حیثیت رکھتی ہے۔آپ بہت ہی ذہین تھے غضب كی فطانت اللہ نے عطا كی تھی،اللہ نے آپ کوگوناگوں صلاحیتوں سے نوازاتھا،ملی وسماجی کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ كر حصہ لیا كرتے تھے۔

دارالعلوم دیوبندکے بعدآپ نے مستقل طورپردہلی میں سکونت اختیارکی اور پھر وہاں فتویٰ سنٹر ، اوراسلامک پیس فاؤنڈیشن آف انڈیاکے نام سے ایک تنظیم کی بنیادڈالی۔آپ نے دہلی میں قیام کے دوران جامعہ ملیہ سے گریجویشن کیا،دہلی یونیورسٹی سے ایم اے اورجواہرلعل نہرویونیورسٹی سے ایم فل اورپھر پی ایچ ڈی کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔آپ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

دارالعلوم دیوبندکے زمانے میں ہی مدھوبنی کے طلبہ کی ایک جماعت کولے کراسٹوڈنٹس اسلامک فیڈریشن آف مدھوبنی کے نام سے طلبہ کی ایک تنظیم بنائی جس کے آپ صدربنائے گئے اور مولاناغفران ساجدقاسمی کوجنرل سکریٹری بنایاگیا ۔اس تنظیم نے مدھوبنی میں تعلیمی بیداری کے لئے بڑاکام کیا، ۔آپ مثبت سوچتے تھے اورمثبت فکرکی دعوت دیتے تھے۔ مشہور ہے  كہ آپ کی ڈکشنری میں ’’نا‘‘لفظ کاوجودہی نہیں تھا۔آپ نے سیاسی میدان میں بھی بہت کام کیا۔۲۰۱۲میں آپ کوملک کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کارکن بنایاگیا،آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحت آپ نے ہمیشہ ملت کی خدمت انجام دی اوردہلی واطراف دہلی میں پرسنل لاء بورڈ کے لئے ہمیشہ سرگرم اورمتحرک رہتے تھے۔

گذشتہ کئی دنوں سے طبیعت خراب چل رہی تھی ، انہیں فریدآبادکے ایشین ہسپتال میں داخل کیاگیاتھا،حالت نازک ہونے پرفریدآبادکے ہی پون ہسپتال میں منتقل کیاگیاجہاں 17 تاریخ دوپہرکے تقریباڈھائی بجے اپنی آخری سانس لی۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے

 

You might also like