Baseerat Online News Portal

تحریک لبیک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ ، آپریشن جاری   فرانسیسی سفیر کی ملک سے بے دخلی تک جاں بحق ہونے کی تجہیز و تکفین نہیں: تحریک لبیک

 

لاہور ؍اسلام آباد۔۱۸؍اپریل/بی این ایس

حکومت پاکستان کی جانب سے حال ہی میں پرتشدد مظاہروں کے باعث کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک اور پولیس کے درمیان لاہور میں پھر جھڑپیں ہوئی ہیں، جسے قانون نافذکرنے والے اداروں کی طر ف سے آپریشن کا نام دیا گیا ہے ، اس میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔پنجاب پولیس کے ایک بیان کے مطابق اتوار کی صبح تنظیم کے کارکنوں نے لاہور کے نواں کوٹ تھانے پر حملہ کیا جہاں پولیس اور رینجرز کے اہل کار محصور ہو کر رہ گئے۔اس دوران ٹی ایل پی کے کارکن ڈی ایس پی نواں کوٹ کو اغوا کر کے انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔پولیس کے مطابق شرپسند 50 ہزار لیٹر کے ایک پیٹرول ٹینکر کو بھی اپنے ہمراہ چوک یتیم خانہ کے قریب واقع اپنے مرکز لے گئے۔پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح شرپسندوں نے اس دوران پولیس پر پیٹرول بم بھی برسائے ،جس کے جواب میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تھانے کا کنٹرول حاصل کیا۔ پولیس کے مطابق یہ ساری کارروائی اپنے دفاع میں کی گئی جب کہ پولیس نے کسی مدرسے یا مسجد کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔خیال رہے کہ کالعدم تحریکِ لبیک کا مرکزی دفتر لاہور کے علاقہ یتیم خانے کے قریب واقع ہے، اور گزشتہ ایک ہفتے سے وہاں کارکنوں کا احتجاجی دھرنا جاری تھا۔دوسری جانب تحریکِ لبیک کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اور فورسز نے اتوار کی صبح آٹھ بجے تحریک کے مرکز پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد کارکن ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔کالعدم ٹی ایل پی کی مرکزی شوریٰ کے رہنما علامہ شفیق امینی نے کہا کہ جب تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر نہیں کر دیا جاتا، اُس وقت تک وہ آج کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین نہیں کریں گے۔خیال رہے کہ تحریکِ لبیک پاکستان نے رواں ہفتے کے دوران ملک کے کئی شہروں میں احتجاج کر کے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا تھا۔ اس دوران پولیس اور تنظیم کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کے علاوہ متعدد کارکن اور پولیس اہل کار زخمی بھی ہوئے تھے۔لاہور پولیس چیف کے ترجمان انسپکٹر رانا عارف نے بتایا کہ پولیس اتوار کی صبح جب بند سڑک کو کھلوانے گئی تو ٹی ایل پی کے مشتعل کارکنوں نے پولیس سے مذاکرات کے بجائے اْن پر حملہ کر دیا۔اْن کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے کارکنوں نے ڈی ایس پی نواں کوٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا جب کہ چار دیگر پولیس اہل کاروں کو بھی اغوا کیا۔رانا عارف کے مطابق ٹی ایل پی کے کارکنوں سے علاقے کو خالی کرانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران پولیس اہل کاروں سمیت دیگر متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ اتوار کی دوپہر آپریشن ملتوی کر دیا گیا ہے۔پرتشدد مظاہروں کے باعث حکومتِ پاکستان نے تحریک لبیک کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم جماعت قرار دیا تھا۔

You might also like