Baseerat Online News Portal

وشو گرو : اُدھرسے  چین گیا  نہیں  کہ اِدھر سے امریکہ  آگیا

 

ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعظم نے جو خواب دیکھے اور دکھائے ان میں سے ایک ’ فائی ٹریلین اکونومی‘(پانچ ارب کی معیشت ) اور دوسرا ’وشوگرو‘( امام عالم ) کا سپنا تھا۔  پہلے خواب کو تو آسمانی  آفت کورونا نے چکنا چور کر دیا ۔ دوسرے سے بیدار کرنے کے لیے چین نے لداخ میں درا ندازی کردی ۔  اس بابت چین سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے لیکن درمیان میں کورونا کی دوسری نہایت تباہ کن لہر نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔   اس سے پہلے کہ  نئی تباہی سے نمٹنے کے لیے ویکسین کا جشن منایا جاتا  امریکہ نے جزائر لکش دیپ کے قریب ہندوستانی سمندر میں فوجی مشق کرکے   چین  کی مانند مودی جی کو بے چین کردیا۔ ویسے یہ ایک المیہ ہے کہ دیش بھکت پردھان سیوک   کے سامنے فی الحال امریکہ و چین   سے بڑا چیلنج  ممتا بنرجی کا ہے۔  اس لیے وہ نہ تو نکسلی حملے پر کچھ بولتے ہیں اور  نہ امریکی  خلاف ورزی پر منہ کھولتے ہیں۔

 وزیر اعظم کی خاموشی بھی عافیت ہے  ورنہ اگر وہ کہہ دیں گے کہ ’نہ کوئی بحری بیڑہ آیا نہ گیا‘ تو امریکہ کے لیے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کی مشکل کھڑی ہوجائے گی ۔ چین کا معاملہ تو یہ تھا کہ وہ سرحد پار  کرنے کا منکر تھا  اس لیے  وزیر اعظم نے  گویا  اس کی تائید کردی تھی  اس لیے تنازع ازخود مفاہمت میں بدل گیا لیکن یہاں تو امریکہ سینہ ٹھونک کر کہہ رہا ہے کہ ہم نے یہ کیا اور آئندہ بھی کریں گے۔  اس پر 56؍ انچی وزیر اعظم کی پراسرار خاموشی بھگتوں کے لیے  قابلِ تشویش ہےدیگر لوگوں کے لیے نہیں کیونکہ وہ  حقیقت سے واقف  ہیں۔ امریکہ کی جانب سے یہ حرکت کئی معنیٰ میں اہم ہے ۔ اول تو یہ ہے فی الحال ڈونلڈ ٹرمپ جیسا سرپھرا شخص امریکہ میں برسرِ اقتدار نہیں ہے۔ ٹرمپ کے زمانے میں اس طرح کی حرکت کو یہ کہہ کر نظر انداز کردیا جاتا تھا کہ یہ ان بلا سوچے سمجھے کیے جانے والی بے شمار کاموں  میں سے ایک ہے اس لیے توجہ نہ دی جائے لیکن جو بائیڈن  جیسے سلجھے ہوے  صدر نشین نے تو یقیناً  کچھ سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہوگا۔  یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ چین خلاف ہندوستان  کو امریکہ کا سب طاقتور حلیف سمجھا جاتا ہے ۔یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ چین کو کمزور کرنے کے لیے  مشکل وقت میں ہندوستان کا ساتھ دے گا لیکن اب اس کا امکان ختم نہیں تو کم ضرور  ہوگیا ہے۔

7؍ اپریل (2021) کو وقوع پذیر ہونے والے اس واقعہ پر چونکہ قومی ذرائع ابلاغ نے ہنگامہ نہیں کیا اس لیے یہ بات آئی گئی ہوگئی۔  ہوا یہ کہ  امریکی بحری جہاز جان پال جونز (ڈی ڈی جی 53) نے جزائر لکش دیپ کے مغرب میں تقریباً 130 ناٹیکل میل کے فاصلے پر فوجی مشقوں کی انجام دہی کا  ازخود دعویٰ کردیا۔ یہ علاقہ ہندوستان کا  خصوصی اقتصادی زون ہے۔ حکومتِ ہند کے مطابق بغیر  اجازت  ایسا کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔   افسوس کی بات یہ ہے امریکہ اس موقف کو تسلیم نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ اس  نے ساتویں امریکی  بیڑے کے ذریعہ فوجی مشقوں کی  نہ صرف  تصدیق کی بلکہ اسے درست  ٹھہرایا ۔ امریکہ  کا کہنا ہے کہ اسے اس کا حق اور آزادی دونوں حاصل ہے ۔ مغربی بحر الکاہل اور بحر ہندمیں یہ ساتواں بحری بیڑہ سرگرمِ عمل رہتا ہے لیکن  ان چند سالوں میں  جب سے مودی نے اقتدار سنبھالا ہے اس کی  ڈھٹائی حیرت انگیز اور  قابلِ مذمت ہے ۔ اس  میں خارجہ پالیسی کی ناکامی   توز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن  گودی میڈیا کا اس سے صرفِ نظر کردینا اس کی  معاشی  مجبوری ہے۔

 امریکی بیان میں صاف  کہا گیا ہے کہ ’فریڈم آف نیویگیشن آپریشن‘ کےتحت  بین الاقوامی قانون میں  آزادی اور سمندر کے استعمال کااسےحق  ہے ۔ ہندوستان  کے اعتراض  کو چیلنج کرتے ہوئے یہ  دعویٰ بھی کیا  گیا کہ جہاں بھی بین الاقوامی قانون کے تحت اجازت ہو گی وہاں امریکی اوربحری جہاز جا کر کارروائی کریں گے۔اس بیان میں یہ وضاحت موجود ہے کہ  ایسا پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا ۔ نیویگیشن کی آزادی  کسی خاص ملک اور وہاں دیئے جانے والے سیاسی بیانات سے بے نیاز ہے۔ اس میں شک نہیں کہ امریکہ بہادر اس طرح کی داداگیری پہلے بھی کرتا رہا ہوگا لیکن اس کا ازخود اعلان کرنا شاید پہلے نہیں ہوا ۔ اس لیے ماضی کی طرح  اس کی جانب سے چشم پوشی  ممکن نہیں تھی۔  اس بار ان لوگوں نے اعلان کرکے مودی سرکار کو دھرم سنکٹ  میں ڈال دیا۔  حکومت ہند کے ڈھیلے ڈھالے بیان سے میڈیا کے ذریعہ تشکیل کردہ  وزیر اعظم کی عالمی رہنما والی  جعلی شبیہ  بحیرہ ہند میں غرقاب ہوگئی۔  ان  سانحات  کے بعداگر ’وشوگرو‘  بن جانے کا دعویٰ کیا جائے گا تو لوگ کہیں گے ’گپو جی یہ  کم از کم تم سے تو نہیں ہوگا‘ ۔

امسال فروری کے اندر شمالی پہاڑیوں  پر تو یہ سب ہوا مگر اپریل میں جنوبی سمندر کے اندر ایک غیر معمولی مہم  وقوع پذیر ہوئی۔ اس کی ابتداء  5 سے 7 اپریل ، 2021 ء کے درمیان مشرقی بحیرۂ ہند کے خطے میں ایک مشترکہ  بحری مشق     کا انعقاد سے ہوئی   ۔ اس میں ہندوستانی  بحریہ کے  سمندری جہاز اور طیاروں کے ساتھ   فرانسیسی بحریہ  ، آسٹریلیائی بحریہ ، جاپانی   بحریہ اور  امریکی بحریہ  کے جہازوں نے  تین  دن   تک مشترکہ فوجی  مشقیں کر کے چین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے آپ کو قابو میں رکھے ۔ فرانس کی قیادت میں کی جانے والی لاپیروس مشقوں میں  پیچیدہ اور  ایڈوانس بحری سرگرمیاں انجام دی گئیں ۔ ان میں  طیارہ شکن  جنگی  صلاحیت  ، ایئر ڈیفنس مشقیں  ، ہتھیاروں سے  فائرنگ کی مشق    ،  کراس ٹیک  فلائنگ آپریشن  ، جنگی حکمتِ عملی  کی تربیت     اور  دیگر بحری سرگرمیاں    شامل تھیں ۔ ا س کے ذریعہ   دوست ملکوں کی بحری افواج کے درمیان اعلیٰ سطحی تال میل  اور ایک دوسرے کے تعاون     سے جنگی کاررائیوں   کی مشق  کی  گئی ۔اس مہم  میں ہندوستان   کی شرکت سے    مشترکہ اقدار   کا اظہار کیا گیا  ۔

کون سوچ سکتا تھا کہ  اس یکجہتی کے محض دودن  کے اندر امریکہ دوستی کا خون کر  دے گا اورہندوستانی بحریہ اس کی دھاندلی کو دیکھتی رہ جائے گی ۔ اس مشکل کی گھڑی میں  کوئی دوست تعاون کے لیے آگے نہیں آئے گا لیکن چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھ لیا۔  اس  دھوکہ دھڑی کے بعد ہندوستان  اپنے خصوصی اقتصادی زون میں امریکی بحریہ کے داخل ہونے پر امریکہ بہادر کو  تشویش سے آگاہ کرنے پر مجبور ہوگیا ۔  حکومت ہند کی وزارتِ داخلہ نے امریکی سفارتی ذرائع کو بتایا  کہ اقوام متحدہ کے طے کردہ قوانین  کسی بھی دوسرے ملک کو ساحلی ریاست کی رضامندی کے بغیر خصوصی اقتصادی زون میں جہازرانی کا اجازت تک  نہیں دیتے اور اس سے آگے بڑھ کر فوجی مشق انجام دینا یا ہتھیار بند  فوجی نقل و حرکت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔  مودی سرکار نے جس قدر نرمی کے ساتھ  اپنا اعتراض درج کرایا اس سے زیادہ سختی کے ساتھ امریکہ کا جواب آیا۔ جس میں دوٹوک انداز میں  کہا گیا تھا  کہ خصوصی اقتصادی زون میں داخلے سے قبل اجازت طلب کرنے کا ہندوستانی  مطالبہ بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتا اور جہاں بھی بین الاقوامی قانون اجازت دیتا ہے، امریکہ  اس سمت سمندر میں بھی جائے گا، پرواز بھی کرے گا اور دیگر  کام یعنی فوجی مشق بھی کرے گا۔

امریکہ  نے جب یہ  کہہ دیا کہ  ساتویں بحری بیڑے کی یہ  فوجی مشق’فریڈم آف نیوی گیشن‘ کے مطابق  تھی تو  صورت حال کو سنبھالنے کے لیے نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئیں۔ امریکہ کی  حملے نما دھاندلی  پر ہندوستانی بحریہ نے نگاہ رکھنے  سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ امریکی بحریہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے ”ہم مستقل طورپر نیوی گیشن آپریشن کرتے ہیں، جیسا کہ ہم نے ماضی میں کیا ہے اور یہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ ” اس سے قبل چین کی بحریہ نے بھی  سن 2019 میں انڈومان نکوبار کے قریب اسی طرح کی مشق  کی تھی۔ اس وقت  بھی  بحریہ کے سربراہ نے صرف یہ  کہنے پرا کتفاء کیا تھا کہ ’’اگر آپ کو ایسا  کام کرنے سے قبل  آپ کو اس کے بارے میں ہمیں بتانے اور پیشگی اجازت لینے کی ضرورت ہے‘‘ لیکن  امریکہ ن کی طرح  چین نے بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں  کی تھی ۔ اس بابت  امریکہ اور ہندوستان کے درمیان بنیادی اختلاف  اس لیے ہے کہ  امریکہ نے اقوام متحدہ کےمذکورہ   کنونشن کی توثیق ہی  نہیں کی اس لیے وہ اپنے آپ کو اس کا پابند نہیں سمجھتا۔

موجودہ عالمی منظر نامہ میں ہندوستان   اور امریکہ قریبی اتحادی ہیں ۔ بحر ہند کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے سابق صدر ٹرمپ کے قائم کردہ  ہندوستان ، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان ایک  غیر رسمی گروپ  ”کواڈری لیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ”(کواڈ ) میں شامل ہیں  لیکن ایسا لگتا ہے کہ   صدرجو بائیڈن چین کے خلاف  ’کواڈ‘ کو مفید نہیں سمجھتے۔ 12؍مارچ کو ’کواڈ‘ کے پہلے ورچول اجلاس کے بعد امریکی قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) جیک سلیوان نے وہائٹ ہاؤس میں واضح کیا تھا کہ “کواڈ فوجی اتحاد نہیں ہے اور نہ ہی ناٹو ہے۔ یہ اقتصادیات، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تبدیلی اور سکیورٹی جیسے بنیادی مسائل پرکام کرنے والے چار جمہوری ممالک کا ایک وفاق ہے۔   امریکی محکمہ دفاع نے یہ اعتراف قابلِ تشویش ہے کہ  اس کے بحریہ نے بحر ہند کے خطے میں یکم  اکتوبر 2018 سے 30 ستمبر 2019 کے دوران “سمندر اور فضائی حدود کے حقوق، آزادیوں اور استعمال کے تحفظ کے لئے” آپریشن انجام دیئے تھے۔ایسے میں   چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت کا     یہ  اندیشہ کہ  کہیں ہندوستان  اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات ڈگمگاتے ہوئے نظر آرہے ہیں بہت اہم ہوجاتا ہے۔  یہ واقعہ موجودہ سرکار  کی خارجہ پالیسی کے    بحران کا غماز  ہے   ۔  

You might also like