Baseerat Online News Portal

متھرا شاہی عیدگاہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا!، عیدگاہ کی املاک سونپنے کے ۵۳؍سال پرانے فیصلے کی ایس آئی ٹی جانچ کی درخواست

نئی دہلی۔۱۹؍اپریل: متھرا شاہی عیدگاہ معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں معاہدے کے ذریعہ مسلمانوں کو عیدہ گاہ والی زمین دینے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہندوؤں کو دھوکہ دے کر ، کرشنا جنم بھومی ٹرسٹ کی جائیداد پر بلاجواز سمجھوتہ کیا گیا اور شاہی عیدگاہ کو دے دیاگیا جوغلط ہے۔درخواست گزار ایڈوکیٹ منوہر لال شرما نے کہا ہے کہ عدالت بتائے کہ سری کرشنا جنم سیوا ادارہ نے شاہی عیدگاہ کے ساتھ ۱۲؍اگست ۱۹۶۸کو جس معاہدے پردستخط کیا وہ بغیر کسی دائرئہ اختیار کے ہوا تھا ، لہٰذا یہ کسی پر پابند نہیں ہے۔درخواست میں یہ بھی گزارش کی گئی ہے کہ ایس آئی ٹی کاقیام سری کرشنا سنستھان کے ذریعہ کرشن جنم بھومی کی دولت ہندوؤں کو دھوکہ دے کر دی گئی ہے اور سنستھان کے ممبروں کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ تفصیلی اطلاعات کے مطابق متھرا کی شاہی عیدگاہ کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا ہے، سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں ۵۳ سال پرانے سمجھوتے کو ایس آئی ٹی جانچ کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اسی سمجھوتے کے خلاف پہلے سے ہی متھرا کی ضلع عدالت میں سماعت چل رہی ہے، اس لیے عرضی گزاروں کے وکیل ہری شنکر جین نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے اور وہ سپریم کورٹ میں داخل عرضی کے خلاف عملدرآمد عرضی دائر کرنے والے ہیں۔ ہری شنکر جین کا کہنا ہے کہ جب پہلے ہی متھرا کی ضلع عدالت میں سول سوٹ پر سماعت چل رہی ہےتو سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے ضلع عدالت پھر ہائی کورٹ کا اس پر فیصلہ آجائے تو یہ درست صحیح ہوگا۔ سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں شری کرشنا جنم بھومی کو سمجھوتے کے ذریعے دوسرے فریق کو دینے کو چیلنج کیاگیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہندوئوں کے ساتھ دھوکہ کرکے کرشن جنم بھومی ٹرسٹ کی جائیداد بنا کسی قانونی حق کے سمجھوتہ کرکے غیر قانونی طور سے شاہی عید گاہ کو دے دی گئی جو کہ غلط ہے۔ عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ عدالت اعلان کرے کہ شری کرشنا جنم استھان سیوا سنستھان کی جانب سے ۱۲ اگست ۱۹۶۸ کو شاہی عید گاہ کے ساتھ کیاگیا سمجھوتہ دائراختیار کے بنا کیاگیا تھا۔عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ اس سمجھوتے کو ایس آئی ٹی جانچ کی جائے اس کے ساتھ ہی شری کرشنا جنم استھان سیوا سنستھان کے عہدیداروں کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ چلایاجائے۔ واضح رہے کہ متھرا شاہی عید گاہ مسجد کرشنا جنم بھومی سے متصل ہے، ۱۹۳۵ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے و ارانسی کے ہندو راجہ کو اس زمین کے قانونی حقوق سونپ دئیے تھے، جس پر مسجد کھڑی تھی، ۷؍فروری ۱۹۹۴ کو جگل کشور برلا نے مدن موہن مالویہ کے کہنے پر کٹرا کیشو دیو کی زمین راجہ پٹنی مل کی نسلوں سے خرید لی تھی۔ ۱۹۵۳ میں یہ طے ہوا تھا کہ شری کرشنا جنم بھومی ٹرسٹ بناکر وہاں دوبارہ مندر تعمیر ہوگی اور ٹرسٹ اس کا انتظام کرے گا لیکن ٹرسٹ کے قیام سے پہلے ہی متھرا کے مسلم فریقوں کے کچھ لوگوں نے ۱۹۴۵ میں ایک رٹ دائر کردی تھی جس کافیصلہ سال ۱۹۵۳ میں آیا اور اس کے بعد ہی مندر کی تعمیر کا کام شروع ہوسکا جو فروری ۱۹۸۲ میںجاکر پورا ہوا۔ اسی دوران سال ۱۹۶۴ میں اس سنستھا نے پوری زمین پر قبضے کےلیے ایک سول کیس دائر کیا لیکن ۱۹۶۸ میں خود ہی م سلم فریق کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا ، اس سمجھوتے کے بعد مسلم فریق نے مندر کےلیے اپنے قبضے کی ہی کچھ جگہ چھوڑی اور اس کے بدلے میں مسلم فریق کو قریب کی جگہ دے دی گئی یہی وہ سمجھوتہ ہے جس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے اور اس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) سے جانچ کی درخواست کی گئی ہے۔

You might also like