Baseerat Online News Portal

شامی ہیومن رائٹس گروپ نے شام کے صدارتی انتخابات کومستردکرنے کی عالمی برادری سے کی اپیل

آن لائن نیوزڈیسک
شامی ہیومن رائٹس گروپ نے دنیا سے شامی صداتی انتخابات مسترد کرنے کا کہا ہے۔خانہ جنگی کے شکار اس ملک میں چھبیس مئی کو یہ انتخابات ہو رہے ہیں۔ موجودہ صدر بشارالاسد ایک مرتبہ پھر امیدوار ہیں۔
شام کے انتہائی فعال انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں برس مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو مسترد کر دے کیونکہ اس کے لیے ملکی حالات سازگار نہیں ہیں۔ اس الیکشن میں غیر ممالک سے ووٹ ڈالنے کی تاریخ بیس مئی ہے۔ بشار الاسد نے بھی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے اپنے کاغذات جمع کرا دیے ہیں۔
سیریئن نیٹ ورک برائے انسانی حقوق
فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں قائم انسانی حقوق کا یہ ادارہ شام کی صورت حال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ اس ادارے نے الیکشن کو فراڈ اور جھوٹ قرار دیا ہے۔ سیریئن نیٹ ورک برائے انسانی حقوق نے صدارتی الیکشن کو اقوام متحدہ کے طے کر دہ سیاسی چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ادارے کے بیان میں کہا گیا کہ سن 2015 میں خانہ جنگی کے خاتمے کی منظور ہونے والی قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ نئے صدارتی الیکشن نئے دستور کو تحریر اور منظور کیے جانے کے بعد ہی کرائے جائیں گے۔
اس ادارے کے ڈائریکٹر فضل عبدل غنی کا کہنا ہے کہ الیکشن کے اعلان کے بعد اسد حکومت نے سکیورٹی کونسل کی منظور شدہ قرارداد کو ایک طرح سے نظر انداز کر دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انتخابی عمل کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کرے۔

خانہ جنگی کے دوران دوسرا الیکشن
شام میں مارچ سن 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران یہ دوسرے انتخابات ہیں۔ سیریئن نیٹ ورک برائے انسانی حقوق نے واضح کیا ہے کہ اس وقت بھی شام میں انسان حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ امر اہم ہے کہ بین الاقوامی تفتیش کاروں نے بشار الاسد اور ان کی حکومت کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے رکھا ہے۔ ان جرائم میں شامی علاقوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہے۔ شامی حکومت اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی نگرانی کرنے والے ادارے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔

بشارالاسد پھر امیدوار
پچپن سالہ بشارالاسد چوتھے صدارتی الیکشن کا حصہ بن رہے ہیں۔ انہیں اقتدار سنبھالے اکیس برس ہو چکے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ بدھ اکیس اپریل کو بطور صدارتی امیدوار کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔ اس تناظر میں ملکی پارلیمنٹ کو اعلیٰ دستوری عدالت نے مطلع کیا ہے کہ اسد نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی باقاعدہ درخواست دی تھی۔
چھبیس مئی کے الیکشن میں بشارالاسد کو ممکنہ طور پر پانچ ایسے امیدواروں کا سامنا ہے جو پوری طرح غیر معروف ہیں۔ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے لیے شامی پارلیمنٹ کے کم از کم پینتیس امیدواروں کی حمایت لازمی ہے۔ سابقہ صدارتی الیکشن سن 2014 میں ہوئے تھے اور اس میں اسد کو اٹھاسی فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔

You might also like