Baseerat Online News Portal

سعودی عرب: آثارقدیمہ کی دریافت میں مصری اہرام سے بھی قدیم مستطیلوں کاانکشاف

آن لائن نیوزڈیسک
سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات جنہیں ’مستطیل‘ کہا جاتا ہے ان کے بارے میں ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ قدیم ہیں جتنا کہ پہلے مانا جاتا رہا ہے۔
تعمیرات پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ’ یہ مصر کے اہرام سے بھی پہلے کی ہیں’۔
سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پتھر کے زمانے کے آخری دور میں ہوئی یہ دیوقامت تعمیرات سات ہزار سال سے زیادہ پرانی ہیں۔‘
عرب نیوز کے مطابق’ آثار قدیمہ کی اس دریافت سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ مستطیلیں دنیا کے قدیم ترین آثار میں شامل ہیں‘۔
تاریخ اور آثار قدیمہ کے اعتبار سے تحقیق و تعلیم کے میدان میں کام کرنے والوں کےلیے جزیرہ العرب کی اہمیت میں کبھی اختلاف رائے نہیں پایا گیا۔ ہرمکتبہ فکر خطہ عربیہ کی تاریخی اہمیت سے متفق رہا ہے۔
جزیرۃ العرب کا جغرافیائی محل وقوع دو براعظموں ’مشرق وسطی اور افریقہ ‘کے درمیان جہاں عصر قدیم کی دوعظیم سلطنتوں کی حکومت رہی تھی۔ ان کی تاریخْی اہمیت کے لحاظ سے انہیں نظرانداز کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن امر ہے۔
تاہم یہاں مسئلہ اس امر کو ثابت کرنا تھا کہ اس خطے میں جگہ جگہ تاریخ بکھری پڑی ہے۔
خطے کا سب سے بڑا علاقہ جو سعودی عرب کے پاس ہے اور وہ اس علاقے کی نمائندگی کرتا ہے وہاں وہ تحقیقی کوششیں نہیں ہوئی جو اس کا حق تھا، تاہم ماضی قریب میں اس جانب توجہ دی گئی اور خطے کے تاریخی مقامات کو کھوجا گیا ہے۔
آخری تین دہائیوں میں جزیرہ العربیہ کے شمال مغربی علاقوں کے حوالےسے آثار قدیمہ کے مناظر اور ان کے بارے میں تصورات و خیالات میں ڈرامائی تبدیلیاں واقع ہوئی۔
ماضی میں جو اس خطے کے بارے میں خیال تھا کہ یہ علاقہ اور خطہ لوہے کے زمانے سے(آئرن ایج) دور رہا ہوگا یعنی یہ تصورکیاجاتا تھا کہ اس علاقہ میں پتھروں کے دور کے بعد آئرن ایج ( 12 ویں صدی سے لیکر15 ویں صدی قبل ازمیلاد) کی تہذیب نہیں آئی اور اس کے اثرات اس خطے پر نہیں پڑے وہ تمام تصورات و خیالات ماضی کا حصہ بن گئے۔
تاہم حالیہ برسوں میں گمشدہ تاریخ کو دریافت کرنے کے حوالے سے کافی کوششیں کی گئیں، اس بارے میں یونیورسٹی آف کیمبرج کی جانب سے شائع کردہ فیلڈ تحقیقی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ ’مملکت کے شمال مغربی علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں پتھریلے ڈھانچوں کا انکشاف ہوا ہے جن کا دور قبل از تاریخ کا ہوسکتا ہے‘۔
رائل کمیشن فار العلا (آر سی یو) نے اس دریافت کو ‘مستطیل’ کا نام دیا ہے۔ اگرچہ ان مستطیلوں کے وجود کے بارے میں سب کو پہلے سے علم ہے تاہم نئی تحقیق کے دوران ان کی پہلے سے دگنی تعداد میں دریافت ہوئی ہے۔ یہ تقریباً ایک ہزار کے قریب ہیں۔
ہر مستطیل کے آخر میں ایک دیوار ہے جو دیگر طویل دیواروں سے جڑی ہوئی ہے۔ اس سے ان دیوقامت مستطیلوں کے صحنوں کے سلسلے وجود میں آ جاتے ہیں جن کی لمبائی 20 میٹر سے لے چھ سو میٹر تک ہے۔
ہر مستطیل کے مرکزی داخلی راستے کے باہراس کی بنیاد میں گول یا نیم گول سیل بنائے گئے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان مستطیلوں نے تقریباً دو لاکھ مربع کلومیٹر کا علاقہ گھیر رکھا ہے۔ یہ مستطیلیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تعلق ایک ہی زمانے سے ہے۔
اس دریافت پر ہونے والی تحقیق یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے اس پراجیکٹ کا حصہ ہے جو وہ العلا اور خیبر کے صوبوں میں کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ آر سی یو کے آثار قدیم پروگرام میں شامل ہے۔
پرتھ میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ماہر آثار قدیمہ اور تحقیق کی شریک مصنفہ میلیسا کینیڈی نے این بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ ‘ہم انہیں یاد گاری لینڈ سکیپ خیال کرتے ہیں۔
یہ تقریباً دو لاکھ مربع کلو میٹر سے زیادہ بڑے علاقے میں پائی گئی ہیں اور یہ شکل میں بالکل ایک جیسی ہیں۔ اس لیے شاید ان کے حوالے سے عقیدہ یا فہم بھی ایک جیسے ہیں۔ یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ آثار ایک ہی دور کے ہوسکتے ہیں‘۔
وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ فرحان کا کہنا ہے کہ ’مملکت کے شمال مغربی علاقے میں جن چٹانی ڈھانچوں کی دریافت ہوئی ہے وہ ’صحرائی مستطیل‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں ۔ ان ڈھانچوں کی عمر 7 ہزار برس کے قریب ہے‘۔
وزیر ثقافت نے العلا رائل کمشنری کے تعاون سے برطانیہ کی کمیرج یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’دریافت ہونے والے مستطیل مصر میں پائے جانے والے اہرامات اور برطانوی پتھری دائرے سے بھی قدیم ہیں جو اب تک دریافت ہونے والی قدیم تہذیبوں میں سب سے نمایاں ہیں‘۔
تحقیقی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جزیرہ العرب میں دریافت ہونے والے آثار قدیمہ نے منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ مملکت میں ہزاروں برس قدیم آثار موجود ہیں جو 2800 سے 6500 قبل مسیح کے ہیں‘۔
دریافت ہونے والے ’مستطیل‘ پہلی بار ستر کی دہائی میں رجسٹرہوئے تاہم ان پر پہلی بارباقاعدہ ریسرچ سال 2017 میں کی گئی جن میں بتایا گیا تھا کہ یہ مستطیل ’دروازوں‘ سے مشابہت رکھتے ہیں جو یورپی میدانی دروازے کی طرز پرہیں۔
ماہرآثار اور تحقیق کار مصنف ’ہیوتھامس‘ کا کہنا تھا کہ’ دریافتیں ان کاوشوں کی عکاس ہیں جن کے نتیجے میں خطے میں قدیم ترین تہذیب کے آثار سامنے آئے جن سے یہ علاقہ مالا مال ہے۔ دریافت ہونے والی یہ ان مستطیلوں کی طویل قطارافقی پتلی دیوار نما ہیں‘۔
جرمنی کے میکس بلانک انسٹی ٹیوٹ کے ماہر ہیوتھامس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہزاروں مستطیلیں ایک عظیم الشان قدرتی منظر پیش کرتی ہیں جن سے دنیا پر تاریخ انسانی کی مثالی اور عظیم الشان ثقافتی ترقی کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔‘
مستطیلوں کے بارے میں کینڈی تھامس کا کہنا تھا کہ ’ان مستطیلوں میں سے ایک کا جائزہ لینے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ایک مستطیل کی تعمیر میں 12 ہزار ٹن ’بیسالٹ پتھر‘ استعمال ہوئےجو یقینا انتہائی مشقت کا کام رہا ہوگا اور اس کی تعمیر میں دسیوں ماہ لگے ہوں گے‘۔
مستطیل کی تعمیر کے حوالے سے کینڈی نے کہا کہ’ ابھی تک ان کی تعمیر کا مقصد واضح نہیں ہوسکا۔ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض صرف ایک بار ہی استعمال ہوئی ہوں‘ ۔

You might also like