Baseerat Online News Portal

ایک پرعزم اور ثابت قدم لیڈر شپ سے فسطائیت کو شکست دینا آسان ہے: ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی:۴؍مئی(پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں فسطائی بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرلا میں اقتدار میں منتخب نہ کرنے پر ان ریاستوں کے رائے دہندگان کو مبارکباد پیش کیا ہے۔ فیضی نے کہا ہے کہ ان ریاستوں کے نتائج سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رائے دہندگان کا مجموعی فیصلہ یہ تھا کہ فسطائی طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔ کیرلا میں پچھلے اسمبلی میں بی جے پی کی ایک نشست تھی لیکن اس بار رائے دہندگان نے بی جے پی کو ایک سیٹ بھی نہیں دی۔ تمل ناڈو میں بھی اے آئی اے ڈی ایم کے۔ بی جے پی اتحاد کے خلاف اکثریتی رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔ سب سے زیادہ خوش کن نتائج بنگال میں آئے ہیں۔ بی جے پی نے مغربی بنگال میں اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے مرکز میں اپنی پور ی سیاسی طاقت اوراپنی پوری پارٹی مشینری کا استعمال کیا تھا۔ مغربی بنگال میں اپنی فتح کو یقینی بنانے کیلئے بی جے پی نے8مرحلوں میں انتخابات کروائے۔ نریندر مودی کی سربراہی میں پارٹی کے سبھی اعلی سطحی لیڈران مغربی بنگال کے ہر مرحلہ کے انتخابات میں انتخابی مہم چلاتے رہے تھے۔ ان تمام کے باوجود ممتا بنرجی کی سربراہی میں آل انڈیا ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں 200سے زیادہ سیٹوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور بی جے پی کو 100سے بھی کم سیٹوں میں سمٹ دیا ہے۔ ممتا نے اکیلے طور پر اس تاریخی فتح کو نہ صرف فسطائی بی جے پی بلکہ نام نہاد سیکولر انڈین نیشنل کانگریس ور سی پی ایم سے بھی لڑتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان پارٹیوں نے ممتا کو شکست دینے کیلئے متحد طور پر مقابلہ کیا تھا۔ بی جے پی مغربی بنگال میں اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے سے فائدہ اٹھانے میں افسوس ناک طور پر ناکام رہی ہے۔ جبکہ ریاست آسام جو پہلے ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر سنگھ پریوار کے ذریعہ تقسیم ہوچکی ہے اور پدوچیر ی نے فسطائیوں کا ساتھ دیا ہے۔ مغربی بنگال کے عوام نے فر قہ ورانہ پولرائزیشن اور منافرت کے فسطائی ایجنڈے کو بلاجواز مسترد کردیااور ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ مغربی بنگال کے ووٹرز فسطائیت کے خلاف اپنے مثبت موقف کیلئے تعریف کے قابل ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال کے انتخابی نتائج نے ہندوستانی جمہوریت کو جو سبق دیا ہے وہ یہ ہے کہ فسطائی طاقت ایک پر عزم اور ثابت قدم لیڈرشپ کے سامنے ناکام ہوجائیں گے۔ ایم کے فیضی نے تمام سیکولر سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی بنگال سے اس سبق کو سیکھیں اور ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی فاشسٹ حکومت کے خلاف لڑنے اور شکست دینے کیلئے متحد ہوجائیں۔

 

You might also like