Baseerat Online News Portal

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ کی وفات علمی وادبی دنیا کا بڑا نقصان:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

حیدرآباد:۴؍مئی(بی این ایس)
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ کی وفات علم وادب کی دنیا کا بڑا سانحہ ہے، وہ حضرت مولانا سید محمد میاں دہلویؒ کے خاص شاگرد اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے مقرب مستفیدین میں سے تھے، انھوں نے مولانا ندویؒ کی کئی اردو تالیفات کو عربی زبان کا قالب دیا، وہ عربی زبان کے مشہور استاذ اور افراد سازی کی ماہر شخصیت حضرت مولانا وحید الزماں کیرانویؒ کے چہیتے شاگرد اور معتمد تھے، عالم عرب میں بھی ان کی تحریریں محبت اور عقیدت کی نگاہوں سے پڑھی جاتی تھیں، وہ دارالعلوم دیوبند کے شعبہ ادب کے اس وقت ذمہ دار بنائے گئے، جب مولانا کیرانویؒ دارالعلوم سے الگ ہو گئے تھے ،دارالعلوم کی درو دیوار پر مولانا کیرانویؒ کا نام نقش تھا اور بظاہر ان کا متبادل نظر نہیں آتا تھا؛ لیکن مولانا امینیؒ نے نہ صرف اپنے استاذ کی اس میراث کو باقی رکھا؛ بلکہ اس کو مزید ترقی دی، اسی طرح ’’ الداعی‘‘ کی ادارت ان کے سپرد کی گئی، اور انھوں نے اس مجلہ کے ظاہری اور معنوی حسن میں ایسا اضافہ کیا کہ اہل علم کی نظر میں اس کی وقعت پہلے سے بڑھ گئی، وہ اردو اور عربی دونوں زبانوں کے قادر الکلام اور مقبول مصنف تھے، ان کی کتابیں جدید وقدیم دونوں حلقوں میں مقبول تھیں، خاص کر شخصیات پر ان کے مضامین اتنے خوبصورت اور جامع ہوتے تھے کہ صاحب تذکرہ کی پوری زندگی سامنے آجاتی تھی، یقیناََ ان کی وفات پوری علمی دنیا کے لئے عموماََ اور دارالعلوم دیوبند کے لئے خصوصاََ بڑا خسارہ ہے، ان کے سیکڑوں شاگرد پوری دنیا میں اور مدارس اسلامیہ کے ساتھ ساتھ عصری تعلیمی اداروں میں نمایاں خدمت انجام دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے، درجات کو بلند کرے اور ان کا بدل عطا فرمائے۔

You might also like