Baseerat Online News Portal

مولانا نور عالم باکمال ادیب ، معرکۃالاراء کتابوں کے مصنف تھے : پروفیسر شکیل قاسمی

 

پٹنہ:۴؍مئی(پریس ریلیز) صدارتی ایوارڈ یافتہ ،ہندوستان کے سرمایہ افتخار، الداعی کے ایڈیٹر، عالمی سطح پر تسلیم شدہ ادیب مولانا نور عالم خلیل امینی بھی عشرۂ مغفرت میں پروانۂ مغفرت کے حصول کے لئے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ مولانا وضع دار ، باذوق ، نظیف الطبع ، بافیض اور مقبول عالم و ادیب تھے ۔ وہ عربی ، اردو زبان میں درجن سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے جن میں کئی کتابیں معرکۃالاراء ہیں۔ دعوۃ الاسلامیہ بین الامس والیوم،مفتاح العربیہ، پسِ مرگ زندہ ، وہ کوہ کن کی بات ، حرف شیریں، موجودہ صلیبی و صہیونی جنگ، فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں،کے مطالعے سے ان کی کثرت معلومات اور وسعت مطالعہ کا اندازہ ہوتا ہے، ان کی نگاہ و نظر وسیع اور ہمہ جہت تھی ۔مذکورہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فاران انٹرنیشنل فائونڈیشن انڈیا کے چیرمین پروفیسر مولانا شکیل احمد قاسمی، صدر شعبۂ اردو ، اورینٹل کالج پٹنہ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ان کا سانحۂ ارتحال عظیم خسارہ ہے ۔
پروفیسر قاسمی نے ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں فروغ اردو کونسل دہلی کی میٹنگ میں شرکت کے بعد ایک پروگرام میں دیوبند گیا تھا ۔ کونسل کی میٹنگ میں میں نے یہ تجویز رکھی تھی کہ اہل مدارس اور علماء کی جو ادبی کتابیں ہیں ، کونسل انہیں حاصل کرکے عصری اداروں اور لائبریریوں میں بھیجنے کا کام کرے تاکہ مدارس اور علماء کی ادبی خدمات سے بھی لوگ واقف ہو سکیں ۔ اس کا تذکرہ میں نے دیوبند میں مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب سے کیا ، انہوں نے اس کی افادیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ا س عمل سے فاصلے کم ہوں گے اور اہل علم کا ایک دوسرے سے تعلق بھی قائم ہوگا ، انہوں نے مدارس کے حلقہ کی کئی ادبی تصنیفات کا ذکر کیا اور اردو کے فروغ کے لئے کئی عملی مشورے دیے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے اور پسماندگان کو صبر دے ۔

You might also like