Baseerat Online News Portal

غاصب اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کا مرتکب

از: خورشید عالم داؤد قاسمی
Email: [email protected]

غاصب ریاست اسرائیل،اس کی قابض فوجیں اور اس کے غیر مہذب، شدت پسند صہیونی شہری ہر وقت کسی نہ کسی حیلہ اور بہانہ کی تلاش وجستجو میں لگے رہتے کہ کوئی موقع ہاتھ لگے اور بچے کھچے فلسطین پر بمباری شروع کردیں، فلسطین کے معصوم شہریوں پر راکٹ داغ سکیں، فلسطینیوں کے خلاف بے دریغ اپنے اسلحہ کا استعمال کرسکیں، ان کے خون سے اپنی پیاس بجھا سکیں، ان کی سر سبز وشاداب کھیتی اور ہرے بھرے باغات کو نذر آتش کرکے اپنی درندگی کو سکون پہنچا سکیں۔ ابھی اوائل رمضان (1442ھ)میں یہ خبر آئی تھی کہ اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے وسطی غزہ میں، البریج مہاجر کیمپ کے قریب اور خان یونس کے مقام پر متعدد بار بمباری کی۔ انھوں نے جنوبی غزہ میں رفح کے مقام پر میزائل داغا۔ ہر مہینے، دو مہینے میں ایک دو بار اس طرح کی بمباری کرنا اور میزائل داغنا غاصب ریاست کے معمول کا حصہ ہے۔ جہاں تک قابض اسرائیلی فوجیوں کی بات ہے، تو اس کا کسی نہ کسی شکل میں فلسطینیوں پر ظلم وجور کرنا، ان کو تکلیف واذیت دینا اور خطرناک اسلحہ سے لیس ہوکر، ان کو خوف زدہ اور دہشت زدہ کرنا، تو بغیر کسی استثناء کے شب وروز کا مشغلہ ہے۔

غاصب ریاست اسرائیل کی طرف سے فلسطین کے خلاف اس طرح کی منظم تباہی وبربادی اور معصوم انسانی جانوں کی ہلاکت پر کسی عالمی طاقت نے نوٹس لےکر، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے یا پھر کسی دوسری یونین اور تنظیم کے پلیٹ فارم سے اسرائیل کے خلاف کاروائی کا پرزور مطالبہ نہیں کیا۔ جب بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا اس کے ذیلی ادارے میں اس طرح کی بات آتی ہے؛ تو محض رسمی طور پر مذمتی قرار داد پاس کرکے، سب کے سب خاموش ہوجاتے ہیں اور اسرائیلی حکومت اپنے طور پر اس قرارداد کو مسترد کرکے، سکون کی سانس لینا شروع کردیتی ہے۔ اگر اقوام متحدہ میں اس سے زیادہ کچھ کرنے کی کوشش کی جائے گی؛ تو امریکہ بہادر اسے ویٹو کرنے کے لیے تیار بیٹھا رہتا ہے۔

ابھی ماہ رواں یعنی بہ روز منگل، 27/ اپریل 2021 کو “ہیومن رائٹس واچ” نے 213صفحات مشتمل اپنی تفصیلی اور جامع رپورٹ پیش کی ہے۔ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں اور اپنے عرب شہریوں (وہ فلسطینی جنھوں نے اسرائیلی شہریت اختیار کرلی ہے۔) کے خلاف “اپارتھائیڈ” (Apartheid) اور ریاستی جبر واستبداد، ظلم وستم کے جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی حکمت عملی یہ ہے کہ اپنے عرب شہریوں سمیت مقبوضہ علاقوں کے فلسطینیوں پر یہودی اسرائیلیوں کے تسلط کو قائم رکھا جائے۔ “ہیومن رائٹس واچ” نے اپنی اس رپورٹ میں “بین الاقوامی عدالت” سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف برتی جانے والی نسلی امتیاز کے حوالے سے جانچ کرے اور اس جرم میں ملوث پائے جانے والے لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کرے۔ اپارتھائیڈ (Apartheid) انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا معنی ہے: “ایک ایسا سیاسی نظام جہاں ، لوگ واضح طور پر رنگ، نسل، جنس وغیرہ کی بنیاد پر آپس میں منقسم ہوں۔” یہاں اس رپورٹ میں اس لفظ کا مطلب فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کی ایسی پالیسی ہے جسے غاصب اسرائیل ریاست انجام دے رہی ہے۔ یہ عالمی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرمسٹر کینتھ روتھ نے صاف صاف یہ بیان دیا ہے کہ اسرائیل چالس سالوں سے فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ مسٹر کینتھ روتھ نے کھلے لفظوں میں یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت پر فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ جرائم کے ارتکاب کے ثبوت موجود ہیں۔ واضح رہے کہ ہیومن رائٹس واچ حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم جو عالمی سطح پر حقوق انسانی کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کی ہیڈ آفس امریکہ کے نیویارک شہر میں قائم ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالتے ہی، اقوام متحدہ میں قائم امریکی سفیر رچرڈ ملز نے 26/جنوری 2021 کو کہا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن فلسطینیوں کی مدد بحال کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں بند کیے گئے فلسطینی سفارتی مشن کو جلد کھولنا چاہتے ہیں۔ اس سفیر نے مزید کہا تھا کہ بائیڈن کی پالیسی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت پرمبنی ہے۔ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں کے قیام کے حامی ہیں، جہاں اسرائیل کے ساتھ فلسطینی بھی اپنی ایک آزاد ریاست میں جی سکیں۔ اس خبر کے بعد، انسانیت پسند لوگوں کو ایک امید جگی تھی کہ امریکہ کی موجودہ انتظامیہ اپنے پیشرو کے غلط فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کے لیے کچھ مثبت فیصلے لے گی؛ مگر “ہیومن رائٹس واچ” کی اس رپورٹ کے آتے ہی بائیڈن انتظامیہ نے بھی امید کے برخلاف اس رپورٹ کو مسترد کردیا اور اسرائیل کو بچانے کے لیے میدان میں آگئی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین بسا کنی نے یہ بیان دیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جو رپورٹ آئی ہے اور جس میں اسرائیل پر نسل پرستی کا الزام لگایا گیا ہے، وہ ہمارے موقف کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ہر سال انسانی حقوق کی تحقیقات کرتا ہے اور اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کرتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل کے حوالے سے کبھی بھی ایسی اصطلاح استعمال نہیں کی۔

جہاں ایک طرف “ہیومن رائٹس واچ” کی یہ تفصیلی رپورٹ 27/ اپریل 2021 کو آئی، وہیں دوسری طرف بیروت میں منعقد ہونے والی عرب پارلیمنٹ اجلاس کی طرف سے، اسی دن ایک بیان جاری کیا گیا۔ اس کا ایک حصہ یہاں پیش کیاجاتا ہے۔ اس کے بعد، ہم اس پر بھی غور کریں گے کہ یہ بیان کتنا موثر ثابت ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ انسانی حقوق کی تنظیموں، قومی پارلیمنٹس اور بین الاقوامی پارلیمانی یونینوں سے وابستہ بین الاقوامی تنظیموں سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے، قانونی احتساب کے اصول کو فعال کرنے اور اس قابض ریاست اور اس کے آباد کاروں کے خلاف کارروائی پر زور دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ بیان میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس کےہمارے فلسطینی بھائیوں کو جبروتشدد کے ذریعے اپنے گھر بار چھوڑنے پرمجبور کررہا ہے۔ اسرائیلی ریاست بیت المقدس کی آئینی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے یہودی آباد کاروں کا فلسطینی آبادی پر غلبہ اور تسلط قائم کرنا چاہتی ہے۔ عرب پارلیمانی یونین نے بین الاقوامی برادری ، سلامتی کونسل اور دنیا کے تمام آزاد ضمیر انسانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ و ہ قابض ریاست اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے آواز بلند کریں۔ واضح رہے کہ “عرب پارلیمنٹ” عرب لیگ کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو 27/ دسمبر 2002 کو قائم ہوا۔ عرب ممبر ممالک میں سے ہر ایک کی طرف سے تقریبا چار چار افراد اس پارلیامنٹ کے رکن ہیں۔

ایک طرف عرب پارلیمنٹ کا یہ بیان ہے؛ جب کہ دوسری طرف کچھ عرب ممالک کے عملی اقدامات ہیں۔ اب ان دونوں صورت حال کو پیش نظر رکھ کر، دوسرے بین الاقوامی برادری سے کچھ دیر کے لیے صرف نظر کرکے، صرف عرب اور مسلم ممالک پر توجہ دیجیے اور غور کیجیے؛ تو ایک اہم سوال آپ کے سامنے آئے گا کہ کیا ان ممالک پر عرب پارلیمنٹ کے اس مطالبہ کا کچھ اثر پڑے گا؟ جواب یقینا نفی میں ہوگا۔ اس کی وجہہ یہ ہے کہ ابھی چند مہینے پہلے کچھ عرب ممالک نے، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نگرانی میں، غاصب ریاست اسرائیل کی طرف خوشی خوشی دوستی کا ہاتھ بڑھا کر،اس سے سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ کسی شروط وقیود کے بغیر ان ممالک کا غاصب ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا، در حقیقت غاصب ریاست کے سنگین جرائم کو جواز فراہم کرنے جیسا ہے۔ پھر یہ ممالک قابض وغاصب ریاست اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے اپنی آواز کیسے بلند کرسکیں گے! غاصب ریاست اسرائیل کا فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز اور ریاستی جبر واستبداد کے جرائم کا مرتکب ہونے کے بعد بھی کچھ عرب ریاستوں کااسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے رہنا اور “عرب پارلیمنٹ” کے ذریعے عالمی برادری سے اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرنے کا مطالبہ زبانی جمع خرچ کرنے کے برابر ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ بعض عرب ممالک اپنی طرف سے جتنی بھی کوشش کرلیں، جس درجے کی بھی دوستی کرلیں، جس سطح کے بھی تعلقات قائم کرلیں، غاصب وقابض ریاست اسرائیل اور اس کا آقا امریکہ کبھی بھی ان ممالک کے حقیقی کے دوست نہیں ہوسکتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾. (سورہ مائدۃ: 51) ترجمہ: “اے ایمان والو! یہودیوں اور نصرانیوں کو یار ومددگار نہ بناؤ۔ یہ خود ہی ایک دوسرے کے یار ومددگار ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا؛ تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا۔” اللہ پاک ہم سب کو پیغامات قرآنی کو سمجھنے اور ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے!

 

You might also like