Baseerat Online News Portal

77 سیٹوں کے باوجود بی جے پی کو راجیہ سبھا میں صرف ایک سیٹ کافائدہ

نئی دہلی4مئی(بی این ایس )
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں اچھی کارکردگی کے باوجود مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کو راجیہ سبھا میں فی الحال کوئی خاص فائدہ نہیں ملے گا۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیاگیاہے کہ اگلے سال تک ایوان بالا میں بی جے پی کی طاقت ایک نشست کے ساتھ بڑھ جائے گی اور اس کی مجموعی طاقت 96 ہو جائے گی۔ بی جے پی کے پاس اس وقت راجیہ سبھا میں 95 ارکان ہیں۔راجیہ سبھا ویب سائٹ کےمطابق ایوان بالا میں اس وقت 240 ممبر ہیں۔ 2022 میں 78 ممبروں کی مدت پوری ہوگی۔سال 2022 میں کم از کم 78 ممبروں کی مدت پوری ہوگی۔ ان میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن ، وزیر ریلوے پیوش گوئل،اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی ، کانگریس کے سینئر قائدین پی چدمبرم ، آنند شرما اور کپل سبل شامل ہیں۔بروکرج کوٹک انسٹی ٹیوشنل ایکوئٹی نے ایک رپورٹ میں کہاہے کہ ہمارے جائزے سے انکشاف ہوا ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات (2022) کے اگلے مرحلے میں بی جے پی کو زیادہ فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ آندھرا پردیش اور راجستھان سے سیٹیں کھو بیٹھے گی۔ اترپردیش میں فوائد کے باوجودمغربی بنگال سے اس کی نشست میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔اتوار کو چار ریاستوں کے نتائج میں سے صرف تین ریاستوں میں حکمراں جماعت اقتدار میں واپس آئی ہے۔ مغربی بنگال میں 292 نشستوں پرہوئے انتخابات میں ترنمول کانگریس نے 213 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی اسمبلی میں اپنی طاقت کو تین سے 77 نشستوں تک بڑھانے میں کامیاب رہی ہے۔تمل ناڈو میں ، دراویڈا منیترا کاھاگام (ڈی ایم کے) اور کانگریس سمیت پارٹیوں کے اتحاد نے 234 میں سے 155 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے آل انڈیا انا دراویڈا منیترا کھاگام (اے آئی اے ڈی ایم کے) کو بے دخل کردیا۔ بائیں جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) کیرالہ میں اقتدار میں واپس آیا۔ اس نے ریاست کی 140 میں سے 97 نشستوں پرکامیابی حاصل کی ہے۔

You might also like