Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل ؟

فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
بانی وناظم المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد ۔جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

چاول سے صدقۃ الفطر
سوال:- اگر گیہوں کے بجائے چاول سے فطرہ ادا کرنا چاہیں تو ادا کر سکتے ہیں، اور کتنی مقدار ادا کرنا ہوگا؟ کیا گیہوں ہی کی مقدار میں ؟( مرغوب الرحمٰن، ورنگل)
جواب:- چاول سے بھی صدقۂ فطر ادا کیا جاسکتا ہے ، رسول اللہ انے صدقۃ الفطر میں کچھ خاص چیزوں کا ذکر فرمایا ہے، جن میں ایک گیہوں بھی ہے ،آپ انے جن چیزوں کا ذکر فرمایا ، وہی صدقۃ الفطر کے لئے معیار ہیں، لہذا فطرہ کے بقدر گیہوں میں جتنا چاول آسکتا ہے، اتنا چاول نکالنا واجب ہوگا ،فقہاء نے یہی لکھا ہے : وجواز ما لیس بمنصوص علیہ لا یکون إلا بالقیمۃ ‘‘ (بدائع الصنائع:۲؍۷۳) اس حقیر کی رائے میں فی زمانہ پیسے یا کسی اور چیز کے بجائے گیہوں ہی سے صدقہ ادا کرنا بہتر ہے؛ کیونکہ جن خوردنی اشیاء کو رسول اللہ ا نے صدقۃ الفطر کے لئے معیار بنایا ہے، ان کی قیمتوں میں فی زمانہ بہت تفاوت ہوگیا ہے ، چنانچہ جو رقم یا چاول گیہوں کے نصاب کے مطابق ہوگا، وہی کھجور اور کشمش کے نصاب کے مقابل کا فی کم ہوگا، اس طرح ایک نصاب کی رعایت ہوجائے گی، اور دوسرے نصاب کے لحاظ سے صدقۃ الفطر پورا ادا نہیں ہوپائے گا؛ لہذا بعینہ گیہوں دیدینا بہتر ہے ؛ تاکہ فطرہ کی ادائیگی میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔

ملازمین اور غیر مسلموں کو صدقۃ الفطر
سوال:- صدقۃ الفطر کن لوگوں کو دیا جاسکتا ہے ؟ کیا گھر میں کام کاج کرنے والے ملازمین کو بھی فطرہ دیا جاسکتا ہے ؟ جب کہ بعض اوقات غیر مسلم ملازمین بھی ہوتے ہیں۔ (محمد نافع، کریم نگر)
جواب:- جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ، ان کو صدقۃ الفطر بھی دیا جاسکتا ہے ، گھر میں کام کرنے والے خادم اور خادمائیں اگر اپنے فقر و احتیاج کے اعتبار سے مستحق ہوں تو ان کو بھی فطرہ دیا جاسکتا ہے، بلکہ ممکن ہے کہ اس میں زیادہ اجر ہو ، زکوۃ اور صدقۃ الفطر کے مصرف میں صرف یہ فرق ہے کہ زکوۃ مسلمانوں ہی کو دی جاسکتی ہے، غیر مسلم کو نہیں، اور صدقۃ الفطر غیر مسلم کو بھی دیا جاسکتا ہے۔ وصدقۃ الفطر کالزکوۃ في المصارف و في کل حال إلا في جواز الدفع إلی الذمی ‘‘ (درالمختار علی ہامش الرد: ۳؍۳۲۵)

نماز عید کی قضاء
سوال:- جس شخص کی نماز عید اتفاق سے چھوٹ جائے ، جیسے وہ سویا رہ گیا اور نماز ہوگئی ،تو اب اس کو کیا کرنا چاہئے، قضاء کرے یا کوئی کفارہ اداکرے؟ ( عبدالمقیت، ہمایوں نگر)
جواب:- اگر کسی کی نمازِ عید ایک مسجد میں چھوٹ جائے اور دوسری جگہ ملنے کا امکان ہو تو وہاں جاکر نماز ادا کرے، اگر اس کا امکان بھی نہیں ہے تو اب قضاء کی گنجائش نہیں ہے، اپنی کوتاہی پر اللہ تعالی سے استغفار کرے اور بس ، فتاوی عالمگیری میں ہے :والإمام لو صلاھا مع الجماعۃ وفاتت بعض الناس لایقضیھا من فاتتہ ، خرج الوقت أو لم یخرج (ہندیہ:۱؍۱۵۲)

عید میں شیر خرما
سوال:- عید الفطر کے دن شیر خرما بنانا ضروری ہے اور کیا دوسرا میٹھا بنانا خلاف سنت یا غیر درست ہے؟
( الطاف حسین، بی بی نگر)
جواب:- سیدنا حضرت انس ص سے مروی ہے کہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے چند کھجوریں تناول فرمایا کرتے تھے (ترمذی، حدیث نمبر: ۵۴۳) اس سے معلوم ہوا کہ عید کے دن صبح میں کھجور سے افطار کرنا مسنون ہے ، خرما خشک کھجور ہی کو کہتے ہیں اور ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ریگستان نہ ہونے کی وجہ سے کھجور کی پیداوار نہیں ہوتی ہے ، وہاں لوگوں کو یہی خشک کھجور میسر آیا کرتی تھی ، اسی لئے غالبًا ہندوستان میں اس موقع سے خرما کھانے کا رواج ہوا ہوگا اور کچھ لوگوں نے سہولت اور ذائقہ میں اضافہ کے لئے دودھ کو بھی خرما کے ساتھ شامل کردیا ہوگا ، شیر کے معنی دودھ کے ہیں ، اس طرح یہ ’’ شیر خرما ‘‘ ہوگیا ، بہ تدریج دودھ اور خرمے کی جگہ دودھ اور سِوَئی لے لی ، جس میں دو چار خرما بھی رکھ دیا جاتا ہے اور یہی’’ شیر خرما ‘‘ کا نام باقی رہا ، غالبًا یہی شیر خرما کی اصل ہے ، بہر حال عید کے دن صبح میں کھجور سے افطار کرنا مسنون اور کسی بھی میٹھی چیز کا استعمال یا کم سے کم کوئی بھی چیز نماز عید کو جانے سے پہلے کھالینا مستحب ہے ، یہ ضروری نہیں کہ ’’ شیر خرما ‘‘ کی جو مروجہ صورت ہے وہی اختیار کی جائے ۔

عید کی نماز میں رکوع یا اس کے بعد شریک ہو
سوال:-اگر کوئی شخص عید کی نماز میں امام کے رکوع میں جانے کے بعد پہونچا ، یا دوسری رکعت میں آکر امام کے ساتھ ملا، تو اس کو کس طرح اپنی نماز ادا کرنی چاہئے ؟ ( امجد علی، کوٹلہ)
جواب:- امام رکوع میں جاچکا، اس کے بعد وہ نماز میں شریک ہوا ، تو اگر اتنا وقت ہو کہ تکبیر تحریمہ کے بعد تین تکبیرات زوائد کہہ کر رکوع میں چلاجائے، تو رکوع ہی کی حالت میں تین تکبیراتِ زوائد کہہ لے ؛ البتہ رکوع میں تکبیرات کہتے ہوئے ہاتھ اٹھانے کی ضرورت نہیں ، اگر کچھ ہی تکبیرات کہہ پایا تھا کہ امام نے سر اٹھا لیا ،توامام کی اتباع کرے ، جو تکبیرات باقی رہ گئی ہیں، وہ اس سے ساقط ہوجائیں گی ،اگر پہلی رکعت میں امام کے رکوع سے فارغ ہونے کے بعد ، یا دوسری رکعت میں امام کو پائے تو امام کے ساتھ اس کی اتباع کرتے ہوئے نماز پوری کرے، اور امام کے سلام پھیر نے کے بعد ایک رکعت مکمل کرلے، یہ اس کی پہلی رکعت ہوگی ؛لہذا جب وہ اپنی نماز پوری کرنے کے لئے کھڑا ہوگا تو پہلے تین تکبیرات ِ زوائد ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہے گا ۔ (ہندیہ: ۱؍۱۵۱)

نماز عید کے لئے جاتے ہوئے تکبیر تشریق زور سے کہی جائے یا آہستہ؟
سوال:- نماز عید کے لئے جاتے ہوئے تکبیر تشریق کہنا چاہئے ؛ لیکن ان کو زور سے کہنا مسنون ہے یا آہستہ ؟ (عبید اللہ قاسمی ، ٹولی چوکی)
جواب:- تکبیر تشریق یوں تو عید الفطر اور عید الاضحی دونوں میں نماز عید کو جاتے
ہوئے پڑھنا مسنون ہے ؛ لیکن عید الاضحی میں اس کی اہمیت زیادہ ہے ؛ کیوںکہ ایام قربانی ایام تشریق میں شامل ہے اور ایام تشریق میں زیادہ سے زیادہ تکبیر کہنا مستحب ہے ، اس بنیاد پر ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دیکھتے ہوئے فقہاء نے عیدین میں تھوڑا سا فرق کیا ہے کہ عید الاضحی میں عیدگاہ یا مسجد جاتے ہوئے کسی قدر بلند آواز میں تکبیر کہی جائے اور عیدگاہ پہونچ کر تکبیر بند کردی جائے ، جبکہ عید الفطر میں آہستہ زیر لب تکبیر کہنا مستحب ہے : ویکبر في الطریق في الأضحی جہرا ویقطعہ إذا انتہی إلی المصلی ، وہو المأخوذ بہ وفي الفطر المختار من مذہبہ أنہ لا یجہر وہو المأخوذ بہ ، کذا في الغیاثیۃ ، وأما سرا فمستحب کذا في الجوہرۃ النیرۃ ‘‘ (ہندیہ: ۱؍۱۵۰)

عیدگاہ میں صفوں میں فاصلہ کے ساتھ نماز کی ادائے گی
سوال:- اگر عید کی نماز عیدگاہ میں ہورہی ہو اورصفوں کے درمیان بیچ میں کئی صفوں کا فصل ہو ، تو کیا پیچھے کی صف میں کھڑے ہونے والوں کی نماز درست ہوجائے گی ؟ ( محمد منہاج، ملے پلی)
جواب:- جو جگہ نماز عیدین یا نماز جنازہ کے لئے مخصوص کردی گئی ہو ، وہ بھی مسجد ہی کے حکم میں ہے اور جیسے مسجدوں میں فصل کے باوجود اقتداء درست ہوجاتی ہے ، اسی طرح ان مقامات پر بھی صفوں کے فصل کے ساتھ نماز درست ہوجائے گی ، البتہ یہ جگہیں دوسرے احکام جیسے جنبی کے داخل ہونے کی ممانعت وغیرہ کے لحاظ سے مسجد کے حکم میں نہیں ہیں :وأما المتخذ لصلاۃ جنازۃ أو عید فہو مسجد فی حق جواز الإقتداء و إن انفصل الصفوف رفقا بالناس لا فی حق غیرہ(درمختار مع الرد:۲؍۴۳۰)؛اس لئے جو صورت آپ نے ذکر کی ہے ، اس میں نماز درست ہوجاتی ہے ۔

You might also like