Baseerat Online News Portal

عیدین میں چھ زائد تکبیریں احادیث کی روسنی میں

 

بقلم: مفتی محمد اشرف قاسمی

دارالافتاء:شہرمہدپور، اُجین(ایم پی)

السلام عليکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

1۔ حضرت!عيدين ميں زائد 6 تكبيريں ہيں؛ لیکن غير مقلد حضرات 12 تكبيريں زائد کہتے ہيں اس کا بھی ثبوت ہے کيا؟
اس مسئلے کو واضح كريں مہربانی ہوگی۔
محمد احمد
سنت كبير نگر (يوپى)

2۔ ہم انڈیا کے رہنے والے ہیں یہاں دبئی میں ملازمت کرتے ہیں۔ تقریبا آٹھ لوگ ہیں۔موجودہ لاک ڈاؤن میں مکان ہی میں عید کی نماز ادا کریں گے۔ ہمارے ساتھ ایک اہل حدیث دوست ہیں ان کا کہنا ہے کہ عید کی نماز میں بارہ تکبیرات اگر پڑھیں گے تو میں آپ کے ساتھ نمازِ عید ادا کروں گا؛ ورنہ نہیں۔ تو کیا ہم اس کی رعایت میں چھ کے بجائے بارہ زائد تکبیروں کے ساتھ عید کی نماز ادا کرسکتے ہیں؟

کفیل احمد
مقیم: دبئی (متحدہ عرب امارات)

 

الجواب حامدا ومصلیا ومسلما امابعد

1۔ عیدین کی نماز میں چھ زائد تکبریں ہیں نہ کہ بارہ۔
بارہ کی جوروایت ہے اس پر محدثین اورشراحِ حدیث نے سخت کلام کیا ہے۔(حاشیہ درس ترمذی اردو، مفتی تقی عثمانی، ص 313 جلد2۔ معارف السنن: ج 4؍ ص436۔ الجوہر النقی لابن الترکمانی فی ذیل السنن الکبری للبیھقی: ج3؍ص285)
اس لیے نمازعید میں چھ ہی تکبیریں کہیں،بارہ نہیں۔آپ بارہ کی روایت دیکھنے کے بجائے چھ تکبیرات کے سلسلے میں وارد ہونے والی احادیث پر نظر کریں اور جو بارہ کے داعی ہیں ان کو یہ روایتیں پیش کریں۔

2۔ بِلاضرورتِ شدیدہ دوسرے مسلک پرعمل کرنا جائزنہیں ہے۔(الحیلۃ الناجزہ: ص29، بحوالہ:عقودرسم المفتی)
اس لیے چھ کے بجائے بارہ تکبیرات والے مسلک پر عمل کرناجائزنہیں ہے۔
آپ کئی ایک ہیں آپ کو فکر ہے کہ ہمارے ایک دوست کی رعایت ہوجائے؛ لیکن آپ کے دوست آپ آٹھ لوگوں کی رعایت نہیں کرسکتے، خاص طور پر جب کہ وہ عمل بالحدیث کے مدعی ہیں اور آپ کے مسلک کے مطابق بے شمارصحیح احادیث موجود ہیں، پھر وہ کیسے دوست ہیں کہ آپ سب کی رعایت نہیں کر سکتے ہیں؟ اور وہ کیسے اہل حدیث ہیں کہ صحیح احادیث پر عمل کرنے کی وجہ سے آپ لوگوں سے اپنی مرافقت اور دوستی ختم کرنے پرآمادہ ہیں؟ یہ عمل بالحدیث کا عجیب دعوی ہے!!
اب ذیل میں عیدین کی نماز میں چھ زائد تکبیرات کی روایات مع ترجمہ نقل کی جارہی ہیں۔ آپ حضرات اپنے رفقاء کو یہ احادیث پیش کریں، وہ مان جائیں تو زہے نصیب؛ اور اگر نہ مانیں تو کم ازکم آپ کو اپنے مسلک پر استحکام و تصلب حاصل ہو گا۔ ان شاء اللہ

*نماز عید کی چھے زائد تکبیرات کی احادیث*

عید الفطر اورعید الاضحیٰ کی نماز دو رکعت ہے جو چھے زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔،پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قرأت سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تین زائد تکبیریں کہہ کر رکوع کی تکبیرکے بعد رکوع میں چلے جاتے ہیں۔

پہلی رکعت میں تین زائد تکبیرات چونکہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ثناء کے متصل بعد کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں یہ تکبیرات کہہ کر متصل رکوع کی تکبیر کہی جاتی ہے، اس لیے اس اتصال کی وجہ سے پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ مل کر یہ تکبیرات چار ہوتی ہیں اوردوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر سے مل کرچار۔،گویا ہر رکعت میں چار تکبیرات شمارہوں گی۔

بعض روایات میں پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ، تین زائد تکبیرات اور رکوع کی تکبیر کو ملا کر پانچ اور دوسری رکعت میں تین زائد تکبیرات اور رکوع کی تکبیر کو ملا کر چار بتایا گیا ہے۔ اور مجموعی طور پر نو تکبیرات شمار کی گئی ہیں۔ دونوں صورتوں میں زائد تکبیرات چھے (6) ہی بنتی ہیں۔

1۔ عَنِ الْقَاسِمِ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ حَدَّثَنِیْ بَعْضُ اَصْحَاب رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عِیْدٍ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا وَاَرْبَعًا ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ حِیْنَ انْصَرَفَ فَقَالَ لَاتَنْسَوْا کَتَکْبِیْرِ الْجَنَائِزِ وَاَشَارَ بِاَصَابِعِہٖ وَقَبَضَ اِبْھَامَہٗ۔
(شرح معانی الآثار: ج 2؍ ص 371، باب صلوۃ العیدین)

*ترجمہ: ابو عبدالرحمن قاسم فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی تو چار چار تکبیریں کہیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوکرفرمایا: بھول نہ جاناعید کی تکبیریں جنازہ کی طرح (چار) ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں کا اشارہ فرمایا اور انگوٹھا بند کر لیا۔*

2۔ عَنْ مَکْحُوْلٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ عَائِشَۃَ جَلِیْسٌ لِّاَبِیْ ہُرَیْرَۃَ: اَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاص رَضِیَ اللہ عَنْہُ سَأَلَ اَبَامُوْسٰی الْاَشْعَرِیَّ وَحُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکَبِّرُ فِی الْاَضْحٰی وَالْفِطْرِ فَقَالَ اَبُوْ مُوْسیٰ رَضِیَ اللہ عَنْہُ کَانَ یُکَبِّرُاَرْبَعًا تَکْبِیْرَۃً عَلَی الْجَنَائِزِ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللہ عَنْہُ صَدَقَ فَقَالَ اَبُوْمُوْسیٰ کَذٰلِکَ کُنْتُ اُکَبِّرُ فِی الْبَصْرَۃِ حَیْثُ کُنْتُ عَلَیْھِمْ۔(سنن ابی داؤد: ج1؍ص170، باب التکبیر فی العیدین، السنن الکبریٰ للبیہقی: ج3؍ص 289)

ترجمہ: *حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ہریرہ کے ہمنشین ابو عائشہ نے بتایاکہ حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر میں کتنی تکبیریں کہتے تھے؟ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیاچار،تکبیریں کہتے تھے،،جیسا کہ آپ جنازہ میں کہتے تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) سچ کہتے ہیں۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب میں بصرہ کا گورنر تھا تو وہاں بھی اسی طرح تکبیریں کہا کرتا تھا۔*

3: عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالْاَسَوَدِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَا کَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ جاَلِسًا وَعِنْدَہٗ حُذَیْفَۃُ وَاَبُوْمُوْسَیٰ رَضِیَ اللہ عَنْھُمَا فَسَألَھُمْ سَعِیْدُ بْنُ الْعَاص رَضِیَ اللہ عَنْہُ عَنِ التَّکْبِیْرِ فِی الصَّلٰوۃِ یَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأضْحٰی فَجَعَلَ ھٰذَا یَقُوْلُ: سَلْ ھٰذَا وَ ھٰذَا یَقُوْلُ:سَلْ ھٰذَا حَتّٰی قَالَ لَہٗ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللہ عَنْہُ سَلْ ھٰذَا لِعَبْدِاللہ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ فَسَألَہٗ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا ثُمَّ یَقْرَأ ثُمَّ یُکَبِّرُ فَیَرْکَعُ ثُمَّ یُکَبِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ فَیَقْرَأثُمَّ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا بَعْدَ الْقِرَائَۃِ۔(المعجم الکبیر للطبرانی: ج4؍ص593 رقم 9402، مصنف عبدالرزاق: ج3ص167،رقم 5704)

ترجمہ: *علقمہ اور اسود بن یزیدکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے پاس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ تو ان سے حضرت سعیدبن العاص رضی اللہ عنہ نے عید الفطر اورعید الاضحیٰ کی تکبیروں کے متعلق سوال کیا۔ حضرت حذیفہ نےکہا: ان(حضرت ابوموسیٰ) سے پوچھو،اورحضرت ابوموسیٰ نے کہا:ان (حضرت حذیفہ) سے پوچھو،پھرحضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مسئلہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھو۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نمازی چار تکبیریں (ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ)کہے، پھر قراءت کرے ،پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے دوسری رکعت میں تکبیر کہے، پھر قراء ت کرے ،پھر قرأت کے بعد چار تکبیریں کہے۔(تین تکبیرات زائدہ اور ایک تکبیر رکوع کے لیے)*

4: عَنْ کُرْدُوْسٍ قَالَ:اَرْسَلَ الْوَلِیْدُاِلٰی عَبْدِ اللہ بْنِ مَسْعُوْدٍ َو حُذَیْفَۃَ وَ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ وَ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ بَعْدَ الْعَتَمَۃِفَقَالَ: اِنَّ ہٰذَاعِیْدُالْمُسْلِمِیْنَ،فَکَیْفَ الصَّلٰوۃُ؟ فَقَالُوْا:سَلْ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فَسَاَلَہُ فَقَالَ:یَقُوْمُ فَیُکَبِّرُ اَرْبَعًا ثُمَّ یَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَ سُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ وَ یَرْکَعُ فَتِلْکَ خَمْسٌ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَقْرَئُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُوْرَۃٍ مِّنَ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا یَرْکَعُ فِیْ آخِرِہِنَّ فَتِلْکَ تِسْعٌ فِی الْعِیْدَیْنِ فَمَا اَنْکَرَہُ وَاحِدٌ مِّنْہُمْ۔(المعجم الکبیر للطبرانی:ج4 ص392)

ترجمہ: *حضرت کردوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نےحضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابو مسعود اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے پاس تہائی رات گزرنے کے بعد پیغام بھیجاکہ یہ مسلمانوں کی عید کا دن ہے، اس میں نماز کا کیا طریقہ ہے؟ ان سب نے کہا: ابو عبد الرحمٰن یعنی عبد اللہ بن مسعود سے پوچھو۔چنانچہ قاصد نے ان سے پوچھاتو آپ نے فرمایا: کھڑے ہو کرچار تکبیریں(ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ) کہے۔پھر سورۃ الفاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، یہ پانچ تکبیریں ہوئیں۔ پھر(دوسری رکعت میں) کھڑے ہو کر سورہ فاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر چار تکبیریں کہے جن میں سے آخری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، عید الفطر اور عید الاضحی میں یہ نو تکبیریں بنتی ہیں۔ان سب حضرات میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔،[جو کہ ان حضرات کی طرف سے زبردست تائید ہے کہ یہی طریقہ صحیح ہے]*

5: *حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تکبیراتِ جنازہ کے چارہونے پرتمام صحابہ اورکا اتفاق ہوا۔*

حدیث کے الفاظ ہیں:

فَاجْمَعُوْا اَمْرَھُمْ عَلٰی اَنْ یَجْعَلُوْاالتَّکْبِیْرَ عَلَی الْجَنَائِزِ مِثْلَ التَّکْبِیْرِ فِی الْاَضْحیٰ وَالْفِطْرِ اَرْبَعَ تَکْبِیْرَات۔(شرح معانی الآثار ج1ص319 باب التکبیر علی الجنائز کم ھو؟)

ترجمہ:
*توانہوں نے اس امرپر اتفاق کیا کہ نماز عیدالاضحیٰ اورعیدالفطر کی چارتکبیروں کی طرح جنازہ کی بھی چارتکبیریں ہیں۔*

6: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ:فِی الْاُوْلٰی خَمْسُ تَکْبِیْرَاتٍ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ وَ بِتَکْبِیْرَۃِ الْاِسْتِفْتَاحِ وَ فِی الرَّکْعَۃِ [الْاُخْرٰی] اَرْبَعَۃٌ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ(مصنف عبد الرزاق: ج3 ص166رقم الحدیث 5702باب التکبیر فی صلوۃ العید)

ترجمہ: *حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز عید کی پہلی رکعت میں رکوع اور تحریمہ کی تکبیر کو ملا کرپانچ تکبیریں ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع والی تکبیر کو ملا کر چار تکبیریں بنتی ہیں[خلاصہ یہ کہ ہر رکعت میں زائد تکبیروں کی تعداد تین ہے۔]*

7: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ اَنَّہُ صَلّٰی خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِی الْعِیْدِ فَکَبَّرَ اَرْبَعًا ثُمَّ قَرَئَ ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ قَامَ فِی الثَّانِیَۃِ فَقَرَئَ ثُمَّ کَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ۔(سنن الطحاوی:ج2 ص372باب التکبیر علی الجنائز کم ھو؟)

ترجمہ: *حضرت عبد اللہ بن الحارث رحمہ ا للہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے عید کی نمازپڑھی۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے پہلے چار تکبیریں کہیں، پھر قراء ت کی، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا۔پھرجب آپ د وسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو پہلے قراء ت کی پھر تین تکبیریں کہیں، پھر (چوتھی) تکبیر کہہ کر رکوع کیا۔*

*نام نہاد اہل حدیث یاغیر مقلدین کا طرز عمل*
یہ صحیح ہے کہ نماز عید کی زائد تکبیروں میں اختلاف ہے۔ اس لئے لامذہب غیرمقلدین 6 تکبیروں کے خلاف والی روایت بیان کرتے ہیں، کیوں کہ حنفی مسلک کی مخالفت کرنا ہی ان کی پہچان ہے۔ ورنہ جس 6 تکبیروں والی روایت پر ہم عمل کرتے ہیں اس پر *صحابہ کااجماع ہے*
دیکھیے خوداور فیصلہ کیجیےکیا حنفی حدیث کے خلاف ہیں؟جیسا کہ یہ نام نہاداہل حدیث شور مچاتے ہیں۔
*والمختار فی المذھب عندنا مذھب ابن مسعود ؓ لاجتماع الصحابة علیہ فانہ روی ان الولید ابن عقبة اتاھم { ای الصحابة} فقال غدا العید فکیف تأمرونی ان افعل فقالوا لابن مسعود علّمہ فعلمہ ھذہ الصفة و وافقوہ علی ذالک۔ و قیل انہ مختار ابی بکر الصدیق ۔و المسٸلة مختلفة بین الصحابة روی عن عمر و عبد اللہ ابن مسعود و ابی مسعود الانصاری و ابی موسی اشعری وحذیفة ابن الیمان رضی اللہ عنھم انھم قالوا مثل قول اصحابنا*۔
(بداٸع صناٸع: ج اول، ص620، ذکر بعضا منھم۔ ابن ابی شیبة فی مصنفہ: ج 2؍ ص 172 تا 176۔ و فی اعلاءالسنن: ج8؍ ص101 تا112۔ و ذکر فی اعلاء السنن ج8؍ ص111۔ نقلا عن محمد فی مٶطاہ صفحہ: 138)

فقط واللہ اعلم بالصواب

کتبہ:
(مفتی)محمداشرف قاسمی،
خادم الافتاء:شہرمہدپور، ضلع:اُجین(ایم پی)

30 رمضان المبارک1441ھ
مطابق 24مئی 2020ء
E.mail:ashrafgondwi@gmail.com

تصدیق :
مفتی عبدالخالق صاحب قاسمی
(جامعہ اصحاب صفہ، مکسی ضلع شاجا پور، ایم پی۔ خلیفہ حضرت اقدس مولانا قمرالزماں صاحب الہ آبادی)

*اعلان*
مختلف موضوعات پر دینی رہنمائی حاصل کرنے کے لئے دارالافتاء مہدپور کے ٹیلی گرام سے جڑیں۔

*ٹیلی گرام چینل لنک:* https://t.me/joinchat/AAAAAFNnLglqVN-kH8EibQ

فرقہ ضالہ خصوصا فتنہ غیر مقلدیت کی تردید میں علمی دلائل کے لئے جناب مولوی محمد مدثر خان کے زیر انتظام ٹیلی گرام چینل سے جڑیں۔
https://t.me/Tahaffuz_E_Sunnat

You might also like