Baseerat Online News Portal

دارالعلوم دیوبند کے بزرگ استاذ حدیث مولانا حبیب الرحمن اعظمی کا انتقال ،دارالعلوم دیوبندسمیت پوری اسلامی دنیا کا ماحول غمگین

دیوبند، 13/ مئی (سمیر چودھری؍بی این ایس)
عالمی شہرت یافتہ دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے بزرگ استاذ حدیث اور جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے رکن مولانا حبیب الرحمن اعظمی کا چند روز علیل رہنے کے بعد انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کی خبر سے دارالعلوم دیوبندسمیت پوری اسلامی دنیا کا ماحول غمگین ہوگیا۔ مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی، کارگزار مہتمم مولانا قاری عثمان منصور پوری،نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی، دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی، شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی اور ملک کے دیگر علماء نے شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے انتقال کو دارالعلوم دیوبند کے علاوہ پوری اسلامی دنیا کے لئے عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔ واضح ہو کہ مولانا حبیب الرحمن اعظمی گزشتہ چند دنوں سے بیمار تھے اور ان کا علاج اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے سرائے میر میں کیاجارہا تھا، جہاں جمعرات کے روز دوران علاج ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کی خبرسے دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس کا ماحول سوگوار ہوگیا۔ مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی عمر تقریباً 78سال تھی اور وہ تقریباً گزشتہ40سالوں سے دارالعلوم دیوبند میں استاذ حدیث کے طو رپر خدمات انجام دے رہے تھے۔ مولانا حبیب الرحمن اعظمی 30سالوں تک دارالعلوم دیوبند کی ماہانہ میگزین ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کے ایڈیٹر بھی رہے، ان کا شمار دارالعلوم دیوبند کے بڑے مصنفین میں ہوتا تھا۔ مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے انتقال پر ادارہ کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا حبیب الرحمن اعظمی کا سانحہ ارتحال نہ صرف دارالعلوم کے لئے بلکہ پوری علمی دنیا کے لئے ایک المناک حادثہ اور تکلیف دہ خبر ہے۔ مولانا مرحوم بڑی خوبیوں کے انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دنیا سے اچھے لوگ بہت تیزی کے ساتھ رخصت ہورہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے،درجات بلند کرے اور ادارہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ جمعیۃ کے قائد مولانا سید ارشد مدنی نے مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی رحلت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے تحقیق حدیث کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ مولانا حبیب الرحمن کی رحلت ذاتی طور پر میرے لئے اور مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے لئے نیز علم ودوست طبقہ کے لئے بہت بڑا حادثہ ہے۔ مولانا حبیب الرحمن صاف دل کے مالک،ممتاز اور قابل قدر محدث تھے، ان کا درس انوکھا اور فن اسماء الرجال کی چاشنی سے بھرا ہوتا تھا اور وہ طلبہ میں ابن حجر ثانی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ دارالعلوم دیوبند کو ان کا بدل عطا فرمائے۔ دارالعلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی رحلت کو دارالعلوم دیوبند کا ناقابل تلافی نقصان بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی رحلت سے اور دارالعلوم دیوبند اور علمی دنیا نے ائمہ جرح وتعدیل حضرت علی ابن المدینی اور یحیٰ بن سعید القطان جیسے مشاہیر کا راست ترجمان کھودیا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ دارالحدیث دارالعلوم دیوبند کی شان بان اور آن کو مستحکم رکھنے والی ایک البیلی آواز صدا کے لئے خاموش ہوگئی ہے۔ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی نے مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے انتقال پر اظہار رنج وغم کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم انتہائی وسیع النظر اور ممتاز محدثین کے عاشق زار تھے۔ حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی اور ان کے پورے خانوادے سے بڑی محبت رکھتے تھے اور جمعیۃ علماء ہند کی ہر تحریک میں شانہ بشانہ شامل رہے تھے۔ رمضان المبارک کی آخری ساعتوں میں ان کا انتقال ان کی عنداللہ مقبول کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کی خدمات جلیلہ کا بہترین اجرعطا فرمائے آمین۔دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے مولانا حبیب الرحمن اعظمی کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے علمی دنیا کا بڑا حادثہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے درمیان مقبول ترین اساتذہ میں سے ایک تھے۔ مولانا مرحوم کی تاریخ پر بہت گہری نظر تھی اور تاریخ کے موضوعات پر ان کی کئی کتابیں عوام وخواص میں بے حد مقبول ہیں۔ مولانا محمد سفیان قاسمی نے مولانا کے سانحہ ارتحال کو علمی دنیا اور دارالعلوم دیوبند کا بڑا علمی خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اوردارالعلوم دیوبند کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ دارالعلوم وقف کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا حبیب الرحمن کے انتقال سے دارالعلوم دیوبند کا ہی نہیں بلکہ پوری علمی دنیا کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ دارالعلوم میں آپ نے علیا کی کئی کتابیں پڑھائیں، خاص طور پردورہئ حدیث شریف میں آپ کا ابوداؤد شریف کا درس طلبہ میں بہت مقبول تھا۔ انہو ں نے کہا کہ حدیث شریف کو منفرداندا ز میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ فن حدیث کے علاوہ اردو ادب پر بھی آپ کی اچھی گرفت تھی، اس کے علاوہ آپ ایک ماہر انشاء پرداز اور صاحب طرز ادیب بھی تھے۔ ان کے سانحہ سے علمی دنیا کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کی علمی کاوشوں اور خدمات کو قبول فرمائے اوراعلیٰ علیین میں اعلیٰ مقام عطافرمائے، ان کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے دیگر اساتذہ اور دیوبند کے دیگر مدارس کے ذمہ داران اوراساتذہ نے بھی مولانا مرحوم کے سانحہ ارتحال پر اظہار افسوس اور تعزیت مسنونہ پیش کی۔

You might also like