مضامین ومقالات

مجھے اپنی پہچان کی تلاش ہے …!

سیدھی بات:انصارعزیزندوی
ُPh:9620364858
ناظرین! آج میں نے جس موضوع کو چنا ہے اس موضوع کا اشتہار دیکھ کر آپ کو محسوس ہوا ہوگا کہ پتہ نہیں اس ہفتے میں کیا کہنے جارہاہوں، اور کس کی پہنچان ڈھونڈنے جارہاہوں، اور کس قسم کی پہنچان ڈھونڈنے جارہاہوں، اور اب جاکر پاگل عزیز کو کیا ضرورت پڑگئی کہ اپنے پہنچان ڈھونڈنے نکل گیا، کہیں وہ پگلا تو نہیں گیا۔جی ہاں! دوستو! میں میں خودکی، آپ کی، بلکہ پوری اُمت کی وہ پہنچان ڈھونڈنے نکلا ہوں ،جس کوبرسوں بیت گئے ہم سے یا تو چھین لی گئی ہے یا پھر ہم خود بھول بسر کر خود اپنی دنیا میں ایسے مگن ہوگئے ہیں کہ ہم سے اب کوئی ہمارا اتہ پتہ پوچھتاہے تو ہمیں یاد نہیں کہ کیا پہنچان بتائیں اپنی ؟ ناظرین حالات، واقعات اور گذرتے ایام کے ساتھ ملت کے بدلتے رنگ کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ بس اب عہد رفتہ کی یادیں رہ گئی ہیں، کردار گیا، وقار گیا، اعزاز گیا،افکار ، گفتار ، رفتار اور کردار پر کسی اور قوم کا قبضہ ہوگیا ہے ، ہم اپنی پہنچان اس قدر کھوگئے ہیں کہ پوری دنیا کو ہمیں اپنی پہچان نئے سرے سے بتانے کی ضرورت پڑگئی ہے ،۔ جس مسلمان کو روئے زمین پر آنے کے بعد یہ سوچنے کی ذمہد اری دی گئی کہ سوچو تو سہی میں کون ہوں، میری ابتداء کیا ہے، میری انتہا کیا ہے ، میری حقیقت کیا ہے ، میری پہنچان کیا ہے اورمیرا مقصد حیات کیا ہے ؟؟ یہ سب بھول بھال کر پتہ نہیں وہ کس جانب سرپٹ دوڑے جارہا ہے؟؟ ناظرین دراصل آج مجھے یہ موضوع چننے پر میرے وھاٹس اپ پر آئی کچھ ویڈیوز نے مجبور کیا۔ ایک ویڈیو میں نے دیکھا پڑوسی ملک کا شایدوہ چینل تھا ، اس کا صحافی ایک علاقے بلدیہ کے انتخابات کے بعد انتخابات میں جیتے والے لیڈران سے اور دیگر عوام سے سوال کررہاہے ، سوال کوئی مشکل نہیں بس سوال اتنا ہے کہ کیا آپ کو سوم کلمہ یاد ہے ؟ جتنے بھی احباب سے پوچھا گیا دیکھنے سے یہی محسوس ہوا کہ ان کی عمریں پینتیس سے چالیس سال کے اوپر ہے۔شاید ہی کوئی ہو جو سوم کلمہ سنایا ہو، ایک صاحب سے پوچھا گیا کہ دعائے قنوت کیا ہے تو انہوںنے سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کردیا، جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا یہ دعائے قنوت ہے تو ان کا جواب تھا جو بھی ہے اللہ کی تعریف ہی تو ہے۔ ایک اور ویڈیو میرے پاس آئی وہ بھی شاید پڑوسی ملک کا ہی ہے، اس میں ایک نوجوان جو پیروں سے معذوری کا بہانا بنا کر بھیگ مانگ رہا تھا، اس کے معذو ر نہ ہونے کی خبر ملی ، ٹی وی کا رپورٹر بار بار اُ س سے کہہ رہاہے کہ سیدھے چل تو و ہ پھر معذوری کا بہانا بناتا ہے بیساکھیوں کے سہارے ایسے معذوری کی ایکٹنگ کررہاہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں، پھر رپورٹر سخت ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب یہ ایسے ماننے والا نہیں عوام کے گھونسے پڑیں گے تو بات سمجھ میں آئے گی تب جاکر وہ پہلے پہل وہی ایکٹنگ کرتاہے اور جب لوگوں کو جمع ہوتے دیکھتا ہے تو رپورٹر آواز لگاتا ہے کہ بھاگ! تو وہ معذور نوجوان بھکاری بیساکھیوں کو سرپر رکھ کر سرپٹ دوڑنے لگتا ہے ۔ ایک اور ویڈیو تھی یہ ویڈیو حیدرآبا د شہر اور کرناٹک کے کسی شہر کی تھی،یک نوجوان ، راہ چلتے عوام سے گفتگوکررہاہے ، مسلم غیر مسلم تمام لوگوں سے وہ ایک ہی سوال کررہاہے کہ کیا آپ محمد ﷺ کو جانتے ہیں؟کوئی کہتا نہیں ،کوئی کہتا ہے کتابوں میں پڑھا تھا، کوئی جواب دیتا ہے وہ مسلمانوں کے نبی ہیں اور قرآن کو لکھا ہے ، کوئی یکسر نہ جاننے کی بات کرتا ہے ، عجیب و غریب جوابات، یہی نوجوان آپ ﷺ کے اقوال کو نقل کرکے عوام سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اقوالِ زریں کس کے ہیں، تو کوئی سوامی وویکانند کا نام لیتا ہے ،کوئی ڈاکٹر عبدالکلام آزادا کا نام لیتا ہے کوئی کسی اور کا وغیرہ وغیرہ….اس کے علاوہ ایک خبر مظفر نگر سے آئی کہ حالیہ مظفر نگر فسادات کی ایک متاثرہ خاندان قریبی کیمپ میں مقیم تھا اسی خاندان کی ایک چودہ سالہ لڑکی کھیت سے لوٹ رہی تھی تو اس کی جبرا! آبروریز ی کی گئی ، اور اس میں جن لڑکوں کے نام سامنے آئے ہیں، وہ سب کے سب ہمارے ہی سماج و طبقے سے تعلق رکھنے والے تھے، ایسی کئی خبریں روز موصول ہوتی ہیں، دراصل ان تمام چیزوں کا میں جائزہ لے رہاتھا اور پھر ایک ایک کرکے مجھے بات سمجھ میں آرہی تھی کہ جو قوم شناخت کے لئے پہنچان کے لئے بنائی گئی تھی وہ اپنی شناخت و پہنچان اس طرح کھوچکی ہے اس کے ضمیر کو اگر جھنجوڑا نہیں گیا، اس کو اس کی اوقات نہیںبتائی گئی تو پھر ایسی خبریں اور ویڈیوز جو ہمارا مجھ چڑاتی ہیں، آتی رہیں گی،،
دراصل مجھے یہ ویڈیوز دکھا کر لوگوں کی دل آزاری کرنا مقصد نہیں جو کلمہ نہیں جانتے واللہ ایسی کوئی نیت نہیں، اللہ مجھے معاف کرے، بلکہ مجھے خود کو آئینے میں دیکھنا ہے ، اُس چہرے کو دیکھنا ہے جس میں بظاہر جھریاں نہیں ہے مگر اندر سے بھری پڑی ہیں، مجھے آئینے میں خود کو اس انداز میں دیکھنا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ زندگی کا پچہتر فیصد حصہ گذار لیا اور ہمیں پتہ ہی نہیں کہ کلمہ ،نماز، دعائے قنوت اور فاتحہ کیا ہے؟ ہمارے غیر مسلم بھائی کیوں آخر آپ ﷺ کے سلسلہ میں نہیں جانتے ، ان تک ہم نے تعلیمات کیوں نہیں پہنچائی، مسلم نوجوان کیوں آخر ہوس کے پجاری بن کر ایسے گناہوں کا ارتکاب کررہے ہیںجس کا اسلام و شریعت اجازت نہیں دیتی ، کیوں ایک مسلمان بھکاری اللہ اور اس کے رسول کا حوالہ دے کر معذور بن کر عوا م کو دھوکہ دے رہاہے ۔کس نے مجبور کیا اسے، کون ہیں ہم، کیا ہوگیا ہے ہمیں ؟ کس کگار کی جانب بھاگے جارہے ہیں، دولت، عزت، شہرت، کے ہوس نے ہمیں اتنا کیوں ناکارہ بنا دیا ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود ہم آج دنیا میں گری ہوئی نظروں سے دیکھے جارہے ہین؟؟جی ہاں دوستو! یہی سوچنا ہے ہمیں ! ان ویڈیوز کو دیکھنے کے بعد میں سوچنے لگا، اوردنیا کی طرف نظر کیاتو پایا کہ ، مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے ، جس کو صرف اتنا پتہ ہے کہ وہ مسلمان ہے ،مگر آگے کچھ نہیں پتہ، ایک طبقہ وہ ہے جو تعلیمات نہ ہونے کی وجہ سے گناہوں کے دلدل میں پھنستا چلا جارہاہے ، چوری ،ڈاکہ زنی ، رشوت خوری، حرام کاری،سب میں ملوث ہے، ایک طبقہ ہے جو اتنا پڑھ لیا دین کے بارے میں کہ وہ اب خود کا علامہ سمجھنے لگا اور جانتے ہوکیا کررہاہے ، سوشیل میڈیاپر بحث کررہاہے اور بن سوچے سمجھے کسی بھی فیس بک اور ٹویٹر اکائونٹ کو فالو کررہا ہے ، قرآن وحدیث کے حوالے سے بھڑکے ہوئے بیانات دیکھ کر،مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کی ویڈیوز دکھا کر سمندر کے کسی پار اسلام دشمن عناصر نوجوان کے جذبات سے کھلواڑ کررہاہے اور کوئی قرآن و حدیث کا حوالہ دے کر جہاد کی بات کررہاہے تو یہ اسی کو صحیح سمجھ کر اسے ہی امیر سمجھ بیٹھا ہے ، آپ لوگوں نے دیکھا نا ابھی ہندوستان میں بیس نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ، ابھی دو دن پہلے دبئی سے دی پورٹ کئے گئے تین نوجوانوں کو ملالیں تو جملہ 23نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ الزام کیا ہے پتہ ہے ؟؟ الزام ہے کہ یہ لوگ ہندوستان کے کچھ مشہور علاقوں پر دہشت گردانہ حملہ کرنا چاہتے تھے، اور کیسے پتہ چلا کیوں کہ یہ لوگ فیس بک اور ٹویٹر اکائونٹ پر ایسے لوگوں کو فالو کررہے تھے جو داعش سے جڑے ہوئے ہیں۔ دیکھا آپ نے ، کتنی بار کہا جائے ہمارے نوجوانوں کو کہ اپنے علاقے کے علماء سے جڑے رہیں ، کیا صحیح ہے اور کیا غلط وہی بتاسکتے ہیں کیوں کہ وہ دوراندیشی کام لیتے ہیں، آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جاکر عمارت تعمیر کرنے کے بارے میں کہیں گے کیا؟ نہیں نا،َکسی انجینئر کے پاس جاکر یہ تھوڑی کہیں گے کہ کڈنی کا آپریشن کرو؟ تو جو جس کی جانکاری رکھتا ہے اسی کے پاس جاکر پوچھنا پڑے گا؟ آپ سمندر کے اُس پار ایک شخص خلافت خلافت کہہ کر چلا رہاہے اور آپ اسی کو سچ سمجھ بیٹھے ہیں ، جب کہ میں نے اس سے پہلی والی سیدھی باتوں میں بھی صاف کہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند سازشیں رچی جارہی ہیں،۔ کتنے ایسے یہودی علماء ہیں جو آپ کو ایک بیٹھک میں پوری صحیح بخاری سنادیں ،کئی علماء آپ کو قرآن ایسے سنائیں گے اور ایسے مخارج کے ساتھ کے آپ فرق کرنا بھول جائیں گے۔آپ ایسے لوگوں کے اکائونٹ کو درست سمجھ کر ان کو فالو کررہے ہیں، جن کا دین ودنیا سے کوئی واسطہ نہیں؟ تکلیف کس کو ہوگی؟ بہن کو ، ماں باپ کو، بھائی اور اولاد کو نا؟؟ اب خود کو بے قصور ثابت کرتے کرتے پتہ نہیں کتنے سال لگ جائیں۔ تواسی لئے دین کو سمجھنے کے لئے علماء سے رابطہ ضروری ہے ، اگر تھوڑا سا عربی پر عبور حاصل کرکے خود کو علامہ سمجھنے لگیں گے تو پھر غلط فیصلے صادرہوں گے۔ سوشیل میڈیا ایک تو آپسی رشتہ داروں کی روابط کے لئے اگر تعلیم ہے دینی تبلیغ کرنا ہے تو اسی کے لئے استعمال کریں، دیکھئے حیدرآباد کے اُس نوجوان کو جو راستوں میں گذررہاہے اور اُن سے پوچھ رہاہے کہ آپ محمد ﷺکو جانتے ہیں؟ کوئی کہتا ہے نہیں توکسی کو شرمندگی کا احساس ہورہاہے ، وہ گھر جائے گا، پوچھے گا؟ معلوم کرے گا، او ر اسلام او ر دین کے بارے میں سمجھنے کی کوشش کرے گا، کم سے کم یہ جو دنیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم ہے یا گرم کیا جارہاہے اور منصوبہ بنایاجارہاہے ان کی حقیقت تو سامنے آئے گی۔اچھا ایک طبقہ وہ ہے جس کو اسلامی تعلیمات سے یکسر لاعلمی ہے ، جیسے اُس ویڈیو کو دیکھ لیں چالیس سال کے شیخ کو سوم کلمہ یاد نہیں ، یہ تو بس ایک ویڈیوکی بات ہے ، ہم خود اپنے خاندان میں ، اپنے علاقے میں ، اپنی کالونی میں ، اپنی بستی اور شہرمیں اپنے تعلقہ اور ضلع ، ریاست اور ملک میں بلک پوری دنیاکے مسلمانوں کے بارے میں سوچیں کہ کتنی تعداد میں ہوں گے ایسے لوگ، اب ان تک دین کا پیغام کون پہنچائے گا؟؟کیا یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد ہمارے اندر احساس پیدا ہونا ہے یا نہیں ؟؟ایک مسلما ن ہونے کی ذمہ داری ادا کرنا ہے یا نہیں ؟ یا پھر بس ایسے ہی تماشائی بن کر نکل جانا ہے اس دنیا سے ؟؟
ویڈیو میں وہ نوجوان جن لوگوںسے سوال کررہا تھا اُس میں سے اکثریت ہمارے ہندو بھائیوں یا پھر دوسرے دھرم سے تعلق رکھنے والوں کی تھی ،دراصل ہم نے دنیا کے سامنے اسلام کو پیش ہی نہیں کیا اگر ان کو آپ ﷺ کے بارے میں نہیں معلوم تو غلطی اُن کی تھوڑی نا ہے ، ہم نے اُن کو بتایا ہی نہیں؟ اور جاگے بھی تو بہت دیر سے کچھ تنظیمیں اس لائن سے بھی کام کررہی ہیں ،۔ ہم نے ہمارے ہندو بھائی اور دوسرے دھرم کے لوگوں کو نہیں بتایا تو اس کا خمیازہ ہمیں آج ایسے بھگتنا پڑرہاہے کہ کچھ تعصب رکھنے والے میڈیا چینلس مسلمانوں کے خلاف ان کی تعلیما ت کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں ، غلط سلط مطلب سمجھا رہے ہیں اورعام عوام اسی کو سچ سمجھ رہی ہے ۔ وہ لوگ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ایک ایک کرکے اسلام اور مسلمان کو بدنام کررہے ہیں اور عام عوام جو انسان دوست ہے ، وہ بھی ان کی جھوٹی کہانیاں اور من گھڑت قصے سن سن کر مسلمانوں سے نفرت کررہی ہے ۔ اور تعلیمات نہ ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان جو دولت کے کے لئے معذوری کا ناٹک کرتے ہیں،بھیگ مانگتے ہیں کیمرے میں پکڑے جاتے ہیں، تو اللہ اور اس کے رسول کا حوالہ دیتے ہیں غربت کا حوالہ دیتے ہیں۔اسلام اور دین سے اتنی دوری کہ زنا بالجبر اور دیگر گناہوں میں ملوث ہورہے ہیں اور میڈیا اس کو دکھاتا ہے تو لوگ سوچتے ہیں کہ مسلمان قوم ہی ایسی ہے ۔ ناظرین آج پوری دنیا میں نظر کرلیں، یہودیوںنے ایک سو سال پہلے مسلمانوںکو مختلف راستوں سے گھیرنے کی منصوبہ بند سازش رچی تھی وہ اُس میں کامیاب ہورہے ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں بند کرکے ان کو اذیتیں پہنچانا آج ملک کے کونسے خطے میںنہیں ہے ، فلسطین سے لے کر کئی مسلم ممالک اور ہندوستان میں بھی جیلوں میں سماج و طبقے کے حساب سے فیصد نکال لیں آپ کو یہی قوم ملے گی، میں سیدھی بات کے ذریعہ ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں اپیل کرتا ہوں اپنے نوجوانوں سے کہ سوشیل میڈیا کو اپنی بربادی کا سامان نہ بنائیں، دین سیکھنا ہے سکھانا ہے کوئی حوالہ پوچھنا ہے تواپنے مقامی علماء سے رجوع کریں ، ہرے جھنڈے، کالے جھنڈے اور اس پر لکھے گئے عربی تحاریر پر ایمان نہ لائیں، پتہ نہیں اس کو بنانے والا کون ہے اس کو ڈیژائن کرنے والا کون ہے ، اس کا عقیدہ کیاہے ، وہ پھنسانا چاہتا یا پھر کیا چاہتا ہے کچھ بھی علم نہیں۔ یا پھر اپنا اکائونٹ ہی کلوز کردیں۔ خطرناک سازشیں چل رہی ہیں۔بقدر ضرورت استعمال کریں ، کسی بھی ایسے پیچ میں جہاں ماردھاڑ کی باتیں ہوتی ہو، ایسے ویڈیوز اپلوڈ ہوتی ہوں، اس کو بلاک کردیں ،اجنبی کوئی پیغام بھیجتا ہے ،بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں، ممکن ہے آپ کو پھنسانے کے لئے وہ مسیج کررہاہو، خود کو زیادہ اسمارٹ نہ سمجھیں، تمہاری بربادی کا سامان لے کر دشمن ڈگر ڈگر گھوم رہے ہیں کہ آپ کوئی غلطی کرو اور آپ کو اُٹھا کر اندر کردیں۔ کچھ ویڈیوز احساس جگانے کے لئے آگے ہیں،ا یمان کی بیداری پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں، ہماری پہنچان کراونے کے لئے آتے ہیں، ہمیں ہمار ا اتہ پتہ بتانے کے لئے آتے ہیں، ہمیں سمجھانے کے لئے آتے ہیں کہ تم اُمتی ہو تمہار ا کام ادھر اُدھر بھٹکنا نہیں بلکہ راہ بھٹکی انسانیت کو راہِ راست پر لانے کے لئے ہے، تم خود بھٹک جائوگے تو تمہاری پہنچان کہاں رہے گی؟ جب تمہار ی خود کی پہنچان نہیں رہے گی تو تم دوسروںکو اپنا پتہ کہاں سے دوگے ، اپنے گھر آنے کی دعوت کہاں سے دوگے ، راہ بھٹکے کو راستہ کہاں سے دکھائوگے، پہنچان کرلو بھائی پہچان کرلو، ورنہ بہت دیر ہوجائے گی…خرافات میں کھوئی اس قوم کو حقیقت میں لانا ہے ۔گمنام زندگی بھی کوئی زندگی ہے ، پوری دنیا دھتکارنا چاہتی ہیاور کوشش کررہی ہے اور تم ہو کے اپنی پہچان ہی بھول گئے۔محرومیت کی شکایت کس سے کروگے؟ کوئی سننے والا نہیں کیوںکہ تم اپنی پہنچان ہی کھوچکے ہو۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم گناہوں پر نادم ہونے کے بجائے ،اپنی کمتری اور بے پرواہی پر نادم ہونے کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں، اور خود کو دانشور بھی سمجھتے ہیں ۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کی کیا خوب تشریح فرمائی ہے دیکھیں! اے انسان تجھ سے قریب ترین کوئی چیزہے تو تیری اپنی ذات ہے ،اس لئے اگر تو اپنے آپ کو نہیں پہنچانتا تو کسی دوسرے کو کیوں کر پہچان سکے گا؟ فقط یہ جان لیناکہ یہ میرے ہاتھ ہیں، یہ میرے پائوں ہیں، یہ میری ہڈیاں ہیں، اور یہ میراجسم ہے ، اتنی شناخت تو اپنے لئے دیگر جانور بھی رکھتے ہیں، یا فقط یہ جان لینا کہ بھوک لگے تو کچھ کھالینا چاہئے، غصہ آجائے تو جھگڑا کرلینا چاہئے شہوت کا غلبہ ہوجائے تو جماع کرلینا چاہئے یہ تمام باتیں تو جانوروں میں بھی تیرے برابر ہیں، پھر تو ان سے اشرف اور افضل کیوں کر ہوا؟ تیری اپنی ذات کی معرفت و پہنچان کا تقاضہ یہ ہے کہ توجانے کہ تو خود کیا ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ اور کہاں جائے گا؟ قارئینِ کرام ! امام غزالی ؒ کی تشریح بہت لمبی ہے ، مگر میرا موضو ع اسی میں سمٹ کر رہ گیا ہے ، اُمید کہ سمجھ گئے ہوں گے، وقت ہوچلاہے اگلے ہفتے پھر کسی عنوان کے ساتھ ضرور ملاقات ہوگی۔
*مضمون نگارمشہورصحافی اورفکروخبرنیوزپورٹل کے ایڈیٹرہیں۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker