Baseerat Online News Portal

وہ کیا گئے کہ رونقِ گلشن چلی گئی

مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب
نائب امیر شریعت امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ و استاذ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند
اس کائنات کا ذرہ ذرہ خالق کائنات کے لفظ “کن” کی تعبیری اصطلاح پر گامزن ہے ، نظام حدوث وقدوم کا سارا دار ومدار اسی سے وابستہ ہے ، اسی کے پابند ہیں شمس و قمر کی ضیاباری ونور ریزی اور نجوم کی رونق افروزی بھی، گردش لیل ونہار کی پرکیف وپرکشش تسلسل بھی، بے آب و گیاہ ریگستان بھی، سرسبز و شاداب اور لہلہاتے ہوے چمنستان بھی، لالہ وگل سے پر وادیاں بھی، دل فریب اورجاذب قلب و نظر مناظر پیش کرنے والی گھاٹیاں بھی؛ یہ،سبھی کچھ اپنے مالک حقیقی کے تکوینی نظام کے تحت اپنی اپنی حیات مستعار کے لمحات گزار کر ملک عدم کے راہی اور اپنی دائمی آرام گاہوں میں خلوت گزیں ہو جاتے ہیں۔ اسی نظام سرمدی کے تحت ہم انسانوں کا وجود وفنا اور مرنا وجینا بھی منسلک ہے ؛ اس لیے کہ یہ کائنات زوال پذیر اور فانی ہے ، اس کائنات کا حصہ ہونے کے ناطے ہم بھی فنائیت میں ہی اپنے وجود کا دائرہ طے کرتے ہیں اور بے شمار خوشنماخواب بنتے اور لامتناہی تمناؤں، آرزؤں کا کہکشاں تیار کرتے ہیں۔ جس کو غالب نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے :
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارماں؛ لیکن پھر بھی کم نکلے
ایسی ہی کش مکش اور پیچ و خم سے لبریز کیفیت سے دوچار انسانی زندگی اپنی شاہ راہوں سے گذرتے ہوئے مرقد ومدفن کی نذر ہو جاتی ہے ؛ لیکن جن شخصیات کا ہدف و مقصد انسانیت کی خدمت، انسانی سماج کی فلاح و بہبود، انسانی برادری کی یکجہتی، انسانی معاشرے کی تشکیلِ نو اور نسل نو کے مستقبل کی تعمیر ہو؛ وہ انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں، تاریخ انسانی میں ان کا نام سنہرے حروف سے لکھاجاتا ہے ، ایسے ہی لوگ دھڑکنوں میں بستے اور دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں؛ کیوں کہ ان کے پردہ فرما جانے کے بعد بھی ان کے طور و طریق، ان کی رہ نمائیاں، ان کی خدمات کی ضوفشانیاں؛ انسانیت کے لیے مشعل راہ اور مشکل حالات میں حوصلہ افزا ثابت ہوتی ہیں۔ انہیں یگانۂ روزگار شخصیتوں میں ایک بڑا نام: مفکر اسلام، امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کا تھاجو 3/اپریل2021 بروز سنیچر مختصر علالت کے بعد ہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے گئے ۔

مخدوم گرامی مفکر اسلام امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد سے ذہن ودماغ اور فکر وخیال اس درجہ متأثر ہوئے کہ کچھ لکھنے کی ہمت وسکت نہ رہی، قلب حزیں کا حزن و ملال اس قدربڑھاکہ دست و قلم کو کئی بار حرکت دینے کی کوشش کی؛ لیکن ہر بار آنکھیں اشکبارہوگئیں اور آنسوؤں نے راستہ روک لیا اور قلم و قرطاس بے نیل و مرام رہ گئے ۔ اب کچھ ہمت جٹاکر راقم الحروف نے جذبات کو ضبط خودی میں رکھ کر کچھ سطور رقم کرنے کی سعی کی ہے ۔

حضرت امیر شریعت کی حیات مستعار مختلف جہات سے اپنے معاصرین پر ممتاز تھی، وہ جہاں ملت اسلامیہ کے بے باک قائد تھے ، وہیں مقام تصوف وسلوک کے بلند مرتبے پر فائز بھی؛ وہ جہاں علوم اسلامیہ کے رمز شناس تھے ، وہیں فنون عصریہ میں بھی کامل درک وشعور رکھتے تھے ؛ وہ جہاں بوریہ نشیں درویش اور خانقاہی صوفی تھے ، وہیں میدان سیاست و سیادت کے بے تاج بادشاہ اور حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق بات کہنے والے شہنشاہ بھی؛ وہ جہاں ملت اسلامیہ کے نجی اور پرسنل مسائل کے حل کے باب میں لاثانی تھے ، وہیں ملک کے اجتماعی مسائل اور حکومت کے ساری ایکٹیویٹیز پر دوررس نگاہ رکھنے والے جواں حوصلہ مرد مجاہد بھی؛ وہ جہاں ملکی لا اورقانون کی باریکیوں سے آگاہ تھے ، وہیں شرعی قوانین میں کامل دسترس رکھتے تھے اور بہ حیثیت ماہر تعلیم آپ نہایت ممتاز تھے ۔غرضیکہ وہ ہر میدان میں ایسا فضل وکمال رکھتے تھے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں؛ کیوں کہ آپ کے فکر وخیال کی پرواز اتنی اونچی ہوتی تھی کہ بڑے بڑے مفکرین و مدبرین کی سوچ کی پرواز بھی جواب دے جاتی،یہ ان کی شخصیت کا نمایاں وصف رہاہے،انہوں نے ہمیشہ حالات کو بخوبی سمجھنے اور بالکل غیر جانبدار اور ایمانداربن کر تجزیہ کرنا اپنا شیوہ بنا لیاتھا،اس لیے ان کی تحریر وتقریر میں احساس ذمہ داری پوری طرح نمایاں رہتا تھا۔

تصویر کا دوسرارخ یہ ہے کہ سیرت وکردار میں، اخلاق و اطوار میں، اعمال و افعال میں آپ کی شان بہت بلند تھی، منکسر المزاجی، نرم خوئی آپ کی فطرت ثانیہ تھی، آپ اخلاق حسنہ کے پیکر جمیل تھے ، قول و عمل میں کبھی تضاد نہیں ہوتا تھا، فنائیت کا یہ عالم تھا کہ کبھی بھی اپنے لیے یا اپنی اولاد کے لیے کوئی فکرمندی نہیں جتاتے ، ہمیشہ قوم وملت کی فلاح و بہبود کی فکر غالب رہتی، خلوت میں آہ و زاری، شب زندہ داری، رب کے حضور عاجزی، اور جلوت میں مختلف مسائل کے لیے فکر مندی، مرکزی وریاستی سرکاروں کے جملہ امور پر گہری نظر، کوئی متنازع بل پاس ہونے پر اس کی خامیوں اور نقائص سے آگاہی، مسلم پرسنل لاپر زد پڑے ، تو عجیب اضطراب اور ملت کے خیرخواہوں سے مضبوط پلاننگ اور لائحہ عمل کے ساتھ مخالفت کی تیاری؛ یہ سب آپ کی زندگی کے امتیازی اوصاف تھے ۔

حضرت مفکر اسلام کئی دماغوں کے انسان تھے ، وہ بہ یک وقت:
(1)آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کے جنرل سیکریٹری اور اس کی تحریک اصلاح معاشرہ کے کنوینر
(2)امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے امیر شریعت
(3)جامعہ رحمانی کے سرپرست
(4)خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں
(5)رحمانی فاؤنڈیشن کے بانی وچیئرمین
(6)رحمانی تھرٹی کے بانی
(7)آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر
(8)دارالعلوم ندوۃ العلماءلکھنؤ کے انتظامی رکن
(10)علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کورٹ کے ممبر
(11)گورنمینٹ آف انڈیاکی اسٹینڈنگ کمیٹی؛مونیریٹنگ کمیٹی اور سنٹرل وقف کائونسل کے ممبر
(12)مولانا آزاد فاؤنڈیشن کے وائس چیرمین

اور انگنت دینی، تعلیمی، ملی، فلاحی اور رفاہی تنظیموں کے سربراہ وسرپرست تھے ۔

آپ کی زندگی کے مختلف گوشے ہیں اور ہر گوشہ نہایت ہی قابل قدرہے ، مگر اختصار کے ساتھ صرف چند اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ کیاجاتا ہے :
اگر آپ کی حیات مستعار کا بہ حیثیت سجادہ نشیں مطالعہ کیا جائے ، تو آپ’’خانقاہ رحمانی مونگیر‘‘کے چوتھے سجادہ نشیں تھے،آپ کےدادا قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ نے اس عظیم الشان سلسلے کا آغاز بڑے نازک حالات میں کیا تھا، جب مونگیر و اطراف میں قادیانیت کی وبا پھیلی ہوئی تھی تو خداوندتعالیٰ نے اس وبا کی سرکوبی کے لیے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ نے اپنی دینی حمیت و غیرت اور خداوند قدوس کی دی ہوئی بے پناہ صلاحیتوں وخوبیوں سے قوم وملت کی ناخدائی کا فریضہ بہ حسن و خوبی انجام دیا اور آپ کے حلقہ ارادت میں عوام وخواص کا تانتا بندھ گیا، جس کا سلسلہ دراز سے درازتر ہوتا چلا گیا اور آج تک وہ سلسلہ قائم ہے۔ پھر آپ کے والد بزرگ وار قطب زماں حضرت امیر شریعت رابع رحمہ اللہ نے اس کی شان ووقار کو چار چاند لگایا اور خانقاہ کے ساتھ ساتھ جامعہ رحمانی کے ڈھانچہ کو اس قدر مضبوط و مستحکم کیا کہ اس شجرہ طوبی کو حیات جاودانی نصیب ہوگئی۔ اور پھر جب آپ نے اس کے باگ ڈور سنبھالی، تو’’أصلھا ثابت وفرعھا فی السماء‘‘کا مصداق بنادیا، اور اس کی اثرانگیزی کا یہ عالم تھا کہ آپ کے حلقہ ارادت میں دس لاکھ سے زائد عوام وخواص کی جم غفیر شامل تھی۔

دنیا جانتی ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ؛ ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی باوقارتنظیم ہے ، جس میں تمام مسالک و مشارب کے چوٹی کے علماء مشائخ اور قائدین بہ حیثیت ارکان شامل ہیں، آپ نے اس میں بہ حیثیت سکریٹری اور بعد میں بہ حیثیت جنرل سکریٹری جو خدمات انجام دیں، وہ تاریخ میں آب زر سے لکھا جائے گا؛ کیوں کہ خواہ طلاق ثلاثہ کا بل ہویا حکومت ہند کی نئی تعلیمی پالیسی؛ بابری مسجد کا قضیہ ہو، یا دیگر مسلم مخالف بل؛ ہر موقع پر آپ نے مسلم پرسنل لا بورڈ کی ترجمانی کا حق ادا فرمایا اور اپنے عہدے اور منصب کی شان بلند فرمائی۔

حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بہ حیثیت امیر شریعت جو خدمات انجام دیں وہ بھی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ،آپ نے عہدۂ امارت سنبھالنے کے بعد مختصر ترین مدت میں اس کے ہر شعبہ میں چار چاند لگادیا،حضرت کی پوری نظر اس کے ہرشعبے پر ہوتی تھی چاہے وہ شعبۂ دارالقضاء ہو یا دارالافتاء ،شعبۂ تنظیم و تبلیغ ہو یا تحفظ مسلمین سب کو ترقی اور وسعت سے ہمکنار کیا،امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے آپ نے تینوں ریاستوں میں بچوں کی اسلامی اور دینی تربیت کے ماحول میں سی بی ایس سی طرز پر امارت پبلک اسکول اور امارت انٹر نیشنل اسکول کا قیام عمل میں لاکر ایک مثال قائم فرمائی ،آپ کی جرأت مندانہ اور حکیمانہ قیادت نے پوری ملت کا سر ہمیشہ اونچارکھا15/پریل 2018 کا وہ تاریخ ساز دن کون بھلا سکتا ہے جب آپ نے یہاں کی اقلیتوں پر ہونے والے ظلم وتشدد کے خلاف آواز لگائی اور ’’دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس‘‘ منعقد کرکے پورے ملک کو ایک نئی سمت دی،مسلمانوں کا حوصلہ بلند ہوا،اس کانفرنس نے ایسا ریکارڈ قائم کیا کہ پٹنہ کے گاندھی میدان میں اس سے قبل کبھی ایسی بھیڑ نہیں دیکھی گئی تھی۔ آپ کی آواز میں اس قدر تاثیر تھی کہ لاکھوں لاکھ عوام وخواص کا تانتا بندھ گیا تھا۔ اس کے علاوہ طلاق ثلاثہ بل کے خلاف دستخطی مہم کا ریکارڈ بھی آپ ہی کی شخصیت کے عزم واستقلال اور جرأت و بے باکی کا حصہ ہے ۔

حضرت مفکر اسلام کو ہمت و جرأت، شجاعت و بہادری، بلند فکری اورعزیمت خاندانی ورثہ میں ملی تھی۔ فنائیت و بے نفسی، کردار و گفتار کی دل نوازی، اعلیٰ اخلاقی اقدار وروایات کی پاسداری، فکر امت میں سرشاری؛ یہ آپ کے عظیم خانوادے کی امتیازی خصوصیات میں ہیں؛ اسی لیے اس خانوادے نے کسی ایک علاقے اور خطے کو اپنا دائمی مسکن نہیں بنایا؛ بلکہ جب جہاں دین کی خدمت کی اشد ضرورت ہوتی، اس خانوادے کا کوئی فرد وہاں پہونچ جایا کرتا۔ آپ کا سلسلۂ نسب سیدناشیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ تک پہنچتا ہے ،دین اسلام کی خاطر مرمٹنے کا جذبہ موروثی تھا؛ اس کی ایک کرن بغداد سے ہوتی ہوئی ملتان آپہنچی، پھر شہر ملتان سے چل کر خواجہ ابوبکر چرم پوش رحمہ اللہ نے ضلع مظفر نگر کے قصبہ’’کھتولی‘‘ میں بود و باش اختیار فرمائی، پھر اسی خاندان کے ایک فرد سید غوث علی ’’کھتولی‘‘ سے ہجرت کرکے ’’کانپور‘‘ چلے گئے اور پھر حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ نے تقریباً 1901 میں مونگیر پہنچ کرخانقاہ رحمانی کی بنیاد رکھی اور تاحال مونگیر سے ہی اس خانوادے کے فیضان کے سوتے پھوٹ رہے ہیں اور ہندی مسلمانوں کی مسیحائی کا فریضہ انجام پا رہا ہے ۔ اسی جذبہ موروثی کا اثر تھاکہ حضرت مفکر اسلام نے بھی کبھی اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کیا؛ بل کہ ہمیشہ امت کی فکر دامن گیر رہتی ۔ اخفائے حال کا تو یہ عالم تھا کہ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ والا معاملہ تھا، واہ واہی، نام و نمود، ریاکاری، دکھاوا اور سستی شہرت کے کبھی بھی متمنی نہیں رہے ، کتنے ذروں کو آفتاب و ماہتاب بنادیا؛ لیکن کبھی خود کو کہیں پیش نہیں کیا؛ حالانکہ چاہتے تو بڑے بڑے عہدے و مناصب آپ کی جوتیاں چومتیں؛ لیکن آپ نے ملت اسلامیہ کی خدمت ہی کو ترجیح دی اور بہ ظاہر موت کی چادر اوڑھ کر بہ باطن ہمیشہ ہمیش کے لیے حیات جاودانی کے مستحق ہوگئے ۔
سردئی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیں
خاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیں
حضرت مفکر اسلام علیہ الرحمہ سے راقم کے روابط بڑے گہرے اور پرانے تھے ؛ بلکہ یوں کہاجائے کہ میرے آباء کا رحمانی خانوادے سے اصلاحی،جذباتی،وقلبی تعلق تین نسلوں پراناہے،میرے جد امجد شیخ صدیق مرحوم حضرت مونگیری کے مرید تھے،والد محترم عارف باللہ الحاج محمد عیسیٰ رحما نی رحمۃ اللہ علیہ حضرت امیر شریعت رابع اور پھر مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ کے مرید خاص ،معتمد اور عاشق زار تھے،شعور کی پہلی منزل میں ہی خانقاہ رحمانی اور اس کے بافیض سجادہ نشیں کی عظمت ومحبت قلب وجگر میں پیوست ہوگئی تھی ؛اسی تعلق کا ثمرہ تھا کہ راقم السطور 1996 میں جامعہ رحمانی مونگیر میں اپنی علمی تشنگی بجھانے کے لیے داخل ہو گیا اور پھر وہیں سے حضرت مفکر اسلام سے قلبی وابستگی مزید پروان چڑھتی چلی گئی۔ وقت گزرتا چلا گیا اور فراغت کے بعد دارالعلوم وقف دیوبند سے وابستگی ہوگئی؛ ان کی رہنمائی، خردنوازی سے ہمیشہ مستفیدہوتا رہا؛ کیوں کہ آپ کی یہ خوبی تھی کہ ذرہ بے نشاں کو کندن بنا کر آفتاب و ماہتاب بنا دیتے تھے ، جوہر شناسی، مردم گری اور شخصیت سازی میں آپ بے مثال تھے ۔ اپنے اہم پروگراموں میں مجھ حقیر کو ساتھ رکھتے تھے ۔ خصوصاً امارت شرعیہ کے جب ضلعی سطح پر نقبائ وممبران کی تربیت کے لیے یکے بعد دیگرے تسلسل کے ساتھ مختلف اضلاع میں امارت شرعیہ کے اجلاس منعقد ہوئے تو راقم الحروف کو پیش پیش رکھااور خدمت کا موقع دیا؛ اسی لیے یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ امارت شرعیہ کی ساخت و کاز کو حضرت والا نے جو مضبوطی عطا کی ہے ، وہ امارت شرعیہ کی تاریخ کا سنہرا باب ہے ۔ بہ حیثیت امیر شریعت آپ کی زندگی نہایت ہی تابناک اور عبقری ہے ؛ کیوں کہ بہت کم وقت میں آپ نے وہ کارنامے انجام دیئے ہیں جن کا اس مختصر عرصے میں تصور بھی محال سا لگتا تھا؛ لیکن حضرت والا نے یہ ثابت کر دکھایا کہ:
گر حوصلہ بلند ہو، کامل ہو شوق بھی
وہ کون سا کام ہے ، جو انساں نہ کر سکے
اگرحضرت مفکر اسلام ؒ کی زندگی کا سرسری بھی مطالعہ کیا جائے ، تو بھی اوراق کثیرہ درکار ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ان چند سطور میں ان کی حیات وخدمات، افکار و نظریات اور مآثر ونقوش کو سمیٹا جاسکے ، یہ تو بس چند بکھرے ہوئے خیالات اور منتشر یادوں کی ادنی سی جھلک ہے ، جو بے اختیار قلم و قرطاس کی مدد سے صفحات پر نقش ہو گئے ہیں؛ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی یادوں کا بحر ذخار اس قدر موجزن ہے کہ ایک مستقل کتاب تیار ہو جائے ۔ اعصاب پر کنٹرول کرکے یہ چندسطریں لکھنے کی کوشش کی ہے ان شاءاللہ بعد میں تفصیلی مضمون قسط وار آپ کے سامنے پیش ہوگا۔ خداوند قدوس سے دعاء فرمایئے کہ وہ آپ کی مغفرت فرمائے ، درجات کو بلند فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثلِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نُور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

You might also like