مضامین ومقالات

 یوم نسواں کے طبل چیوں سے چندسوالات

عبدالرافع رسول
انصاف ،انصاف پکارنے والے ان طبل چیوں کا عالمی میڈیاچینلز پرآکر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کرغرانا،مگرمچھ کی طرح ٹسوے بہانا، اور 8مارچ کو’’آزادی نسواں کی ڈگڈگی‘‘ کی یہ سالانہ تقریب مسلمان معاشروں کی خواتین کوبہکانے،پھسلانے ،انکی چادریں چھیننے کا عالمی ایجنڈا،اورمغرب کادیرینہ حربہ ہے ۔ یہ برچھیوں سے مسلم امہ کے وجودکوچھیدنے کا عالمی منصوبہ ہے۔المیہ یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں موجودلبرلز،آستین کے چھپے ناگ مغرب کے کام کوآسان بنانے کے لئے تن من دھن اطاعت شعارہیں۔اپناایجنڈاتکمیل کوپہنچانے کے لئے انہیں خطیررقوم ،فنڈز،پشت پناہی ،شاباشی کی تھپکیاںدی جارہی ہیں۔یہ کاذب بتیاں ، شاموں کوگپ اندھیروں میں تبدیل کرنے میں لمحات کی دیرنہیں لگارہی ہیں۔ہوناتو یہ چاہئے تھاکہ مظلوم قوموں ،مجبورخطوںجن میں ریاست جموں وکشمیرسرفہرست ہے جن کی خواتین کے ساتھ جنگی حربے کے طورپر قہرسامانیوںکاسامناہے ،انہیں ان قیامتوں سے نجات دلائی جاتی لیکن یوم نسواں انکی فریادسننے کے لئے نہیں بلکہ مسلم معاشروں کے فانوس شرم وحیام کودھڑام زمین بوس کرنے کے لئے ہے اوربس۔۔۔۔۔۔۔
انسانیت کا سب سے مہلک روگ اور مرگ آفریںاحساس کمتری ہے ۔معلوم تاریخ کا ایک ایک حرف گواہی دیتا ہے کہ اس روگ اورعارضے نے انسانیت کوتباہ وبربادکرکے رکھ دیاہے ،اس روگ نے اخلاقی اعتبارسے قوموں کوجنگوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا اور چرکے لگائے ہیں۔یہ روگ ومرض خودبخود پیدا نہیں ہوتابلکہ اسے ایک قوم اورایک تہذیب دوسری قوم اوردوسری تہذیب میںبڑی منصوبہ بندی سے پیداکرتی ہے ۔ایک قوم دوسری قوم اورایک تہذیب دوسری تہذیب کویہ باوارکراتی ہے کہ اخلاقی اعتبارسے تم ہماری متعین کردہ راہ پرگامزن ہوجائوتوتمہیں چارچاندلگ جائیں گے۔بادی النظرمیںمختلف النوع دلنشین برانڈس کومتعارف کراکے اسے قبول ومقبول بنانے کے لئے نفسیاتی دبائوڈالاجاتاہے۔یہ آج کی بات نہیں یہ صدیوں پہلے سے پیداکردہ روگ ہے،جس کی ٹیسیںہردورمیں مختلف جہتوں سے اٹھتی رہیں۔ سرخ دہکتے ہوئے رخساروں والامکہ کا سردار ابولہب دینِ حق سے اس قدر کیوں برگشتہ تھا؟ محض اس وجہ سے کہ اس کے نزدیک محمد عربی نے کسی بھی طرح کی احساس کمتری کویکسرماننے سے نہ صرف صاف انکارکردیابلکہ اس کی ہر دیوار اور ہر خوفناک چٹان کو مسمار کر کے رکھ دیا تھا۔ محمد عربی جانتے تھے کہ احساس کمتری کا خاتمہ معاشرے کی سربلندی کا حتمی ضامن ہے۔ یہ اسی استقامت کا نتیجہ ہے کہ کمزور شہ زور ہو گئے، قطرے سمندرکے قالب میں ڈھل گئے، جھونکے بے قابو آندھیوں کی شکل اختیار کر گئے تو جبر، استحصال کرنے والوں کو دنیا کا کوئی مضبوط سے مضبوط آہنی قلعہ بھی پناہ نہ دے سکا۔لیکن افسوس آج کے مسلم معاشرے احساس کمتری کے شکارہیںیوں وہ جبرواستحصال کرنے والوںکے سامنے شرمندہ شرمندہ سے لگ رہے ہیں۔
چاردانگ عالم8مارچ کوہرسال حقوق نسواں کاڈنڈھوراپیٹاجارہاہے ،آخر کیا ہے یہ ،یہ دراصل ایک تہذیب دوسری تہذیب کواحساس کمتری کاشکاربنانے کی کوشش کررہی ہے۔اگرایسانہ ہوتاتواس ڈگڈگی کے علیٰ الرغم 86سال قیدکی سزابھگتنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی
گذشتہ ایک دہائی سے امریکہ کے عقوبت خانے میںپابندسلاسل نہ ہوتی اورکشمیرسمیت دنیابھرکے مقبوضہ علاقوں میں صنف نسواںنتہائی بے چارگی کی تصویرنہ بنی ہوتی ،احساس کمتری کی اسی عالمی تحریک کانتیجہ ہے کہ آج صنف نسواںبزبان حال اپنی بپتاسنارہی ہیں،اسکی دلدزچیخوں سے زمین شق اورآسمان رونے پرمجبورہے ۔پوری دنیامیںاسکے ساتھ جس طرح کاسلوک روارکھاجارہاہے بخدااس کااحاطہ کرنے سے قلم بھی عاجزہے۔آخرکیوں؟ اس سوال کاجواب بجزاس کے کچھ بھی نہیںکہ آزادی نسواں کے نام پر پوری دنیامیں اس صنف کے ساتھ کھلا فراڈ کھیلاجارہاہے ۔آزادی نسواں کے نام پرایک دلکش برانڈکوسامنے لانے کااس کے سوااورکوئی مقصدنہیں کہ مسلمان معاشروںکومغرب کی طرح مادرپدرآزادبناکرفانو س شرم وحیاکودھڑام گراکراسے چکناچورکرکے رکھ دینا اوروقارو پندارنسوانیت کوخاک میں ملادیناہے ۔
دلائل وبراہین کے ساتھ یہ ثابت کیاجاسکتاہے کہ حقوق نسواں کے نام پر دنیابھرمیں فروخت کئے جانے والے اس برانڈسے کئی قسم کی برائیوں، فحاشی و عریانی اور بے حیائی نے جنم لیا اور یہ سب برائیاں بتدریج رواج پیدا کرتی چلی جارہی ہیں’’این جی اوز‘‘کے لبادھے میں حقوق نسواں کے نام پرایسادھنداکھیل کھیلاجارہاہے کہ انسانی آنکھیں رکھنے والے سب کے سب حیران و پریشان ہیں۔اگرچہ آج مشرقی ممالک بالخصوص مسلمان معاشروںکے سنجیدہ، مصلح،خردمند اور سینے میں دل و تڑپ رکھنے والے افراد جنم لینے والی اس بدترین صورتحال پر افسردہ ہیں لیکن حکومتوں اورحکمرانوںکی سرپرستی میں جاری اِس سیلاب بلاخیز کا راستہ روکنے سے وہ قاصر ہیں ۔صاف نظرآرہاہے کہ انہوں نے خواتین کی خدمت کرنے کے نام پر ان کی زندگی پر ایک بہت کاری ضرب لگائی ہوئی ہے،جس سے زندگیاں لرزہ براندام ہیں آخر کیوں؟ صرف اِس لئے کہ ان کے ممالک میں بھی انکے ہی دوراقتدارمیں یہ کارثواب انجام پائے کہ مرد و عورت کے درمیان تعلقات میں اس لا ابالی پن، برائیوں اور فحاشی و عریانی کو فروغ دینے اور ہر قسم کی قید وشرط سے دور مرد وخواتین کی آزادی اور طرز معاشرت قائم ہوجائے ۔اسی لئیعورت کی نسوانی حیا اور وقار کی توہین و تذلیل ،عزت نفس کی پامالی ،جگہ جگہ مختلف اشتہارات کے ذریعے عورت کی رسوائی ،لمحہ بھرکرسرپکڑتے ہوئے بندہ یہ سوچنے پر مجبورہے کہ کیا حقوق نسواںکے نام نہاد علمبردارعورت کے مقام اس کی عزت اوروقار تحفظ کے لئے کمربستہ ہیں یااس کی تذلیل ،تضحیک اورتمسخرکے لئے ۔اس پس منظرمیںیوم خواتین دراصل بے بس اورمظلوم خواتین کے حقوق کے لئے نہیں بلکہ تہذیب مغرب کا یہ فلسفہ کہ عورت کو گھر سے نکالو،آدھی آبادی گھر میں بیکار پڑی ہے یہ اہل مغرب کی شاطرانہ پالیسی کاباضابطہ حصہ ہے -وہ مغرب اوروہ امریکہ کیاخاک جان سکے کہ عورت کامقام کیاہے جس میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ عورت محض جنسی ہوس اوراس قسم کے خواہشات کوپوراکرنے کے لئے پیداہوئی ہے۔
وہ مرد جو معاشرے میں آزادانہ طور پر اپنی شہوت کی تشنگی کو بجھا سکے اور وہ عورت جو سماج میں بغیر کسی مشکل اور اعتراض کے مردوں سے مختلف قسم کے روابط برقرار کرسکے، گھر کی چاردیواری میں یہ مرد نہ ایک اچھا شوہر ثابت ہوگا اور نہ ہی یہ عورت ایک اچھی اور بہترین و وفادار بیوی بن سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میںخاندانی نظام زمین بوس اور گھرانے کی بنیادیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں ہیں۔ اہل مغرب آج خاندان اور گھرانے کی بنیادوں کے تنزل پر کف افسوس مل رہے ہیں وہاں کے عائلی نظام نے وہ چیز جو مرد و خواتین بالخصوص خواتین کیلئے امن و سکون کا ماحول فراہم کرتی ہے، اپنے ہاتھوں سے کھو دی ہے ۔ اور’’اولڈ ہومز‘‘ان کے بوڑھوں سے بھرے پڑے ہیں ہائے اولاد کی نعمت عظمٰی انہیں نصیب کہاں ۔اب مشرق میں مغرب کی یہ غلاظت حقوق نسواں کے نام پرفروخت ہورہی ہے ،اگراس غلاظت کے گھاک مل گئے تواسکے بھی دروبام بھی لرزراٹھیں گے۔
مغرب جوسامنے لایا ہم اندھی تقلید کرکے اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ہم بطورمسلمان اپنے فرائض سے غافل سے غافل تربلکہ مجرم سے مجرم تربنتے چلے جارہے ہیںہمیں اپنے گھروں میں اپنی خواتین کے حوالے سے کوئی فکرمندی دامن گیر نہیں،جہاں ایک طر ف نام نہاد جدید تہذیب آندھی طوفان کی طرح عورت سے نسوانیت کا وقار،حیا کا چلن، ماں کی ممتا چھین رہی ہے، مغرب نے عورت کا استحصال کرتے ہوئے ،گھر کی چار دیواری سے محروم کرتے ہوئے ،مرد کا دل لبھانے کا ذریعہ بناتے ہوئے اس کی حیا کی چادر کو تار تار کر دیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت مادر پدر آزاد ہو جائیں، ان کے میل میلاپ میں کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ اس طرح کی آزادی اور حقوق عورت کو دیئے گئے تو آج اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔اسلام نے انسانی معاشرہ کی بنیاد خاندانی نظام پر رکھی ہے۔اس لئے نکاح اور رشتہ ازدواج انسانیت کا فطری تقاضا ٹھراہے۔ دور حاضر کے بہت سے لوگ ایسی ہی آزادی اور جنسی اباحیت کے حامی ہیں جس میں کوئی روک ٹوک اور پابندی نہ ہو جس کی وجہ سے یورپ وامریکا میں حیوانیت اور جنسی اباحیت کے ایسے مناظر دکھائی دیتے ہیں جن کو لکھتے ہوئے قلم بھی شرماتا ہے۔ ان لوگوں نے انسانی زندگی کی بنیاد حیوانی فطرت پر رکھی ہے اور وہ انسان کو بولنے والا ’’حیوان ناطق ‘‘جانور ہی سمجھتے ہیں۔لیکن صدیاں گزرجانے کے بعد آج مغربی مفکر اس رحجان سے پریشان ہیں اور ان موضوعات پر کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔عورت کے لئے’’بیک ٹو ہوم‘‘کا نعرہ لگایا جا رہا ہے مغرب نے عورت کو چند حقوق تو دیئے لیکن بدلے میں عورت نے اپنا سکون ، شرم و حیا اور گھر جیسے پرسکون ادارے کو خیرباد کہہ دیا۔ اتنا کچھ گنوا نے کو ہی اگر آزادی کہا جائے تو۔۔۔۔کیا ہم مسلمان بھی یہی چاہتے ہیں کہ اتنا بہترین نظامِ زندگی جو اسلام نے دیا ہے ، اسے چھوڑ کر غیروں سے راہنمائی حاصل کریں ؟
آج مغربی دنیا میں اسلام تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اس میں اکثریت تعلیم یافتہ خواتین کی ہے اور خواتین یہی کہتی ہیں کہ جو حقوق اور تحفظ اسلام میں ہے ، وہ کہیں اورمیسر نہیں۔مسلمان عورت کا دائرہ کار متعین کیا گیا اور اسے گھر پر توجہ دینے پر ابھارا گیا۔مغربی معاشرہ یا اس سے مرعوب مسلمان یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خواتین کو حقوق دیئے جائیں۔ لیکن خود اس معاشرے نے خواتین کو کیا دیا؟آرٹ اور کلچر کے خوبصورت پردوں کے پیچھے عورت کا اس قدر استحصال کیا گیا کہ وہ مردوں کے ہاتھوں محض ایک کھلونا بن کر رہ گئی۔اسلام ، عورت کو عورت ہی رہنے دیتے ہوئے ، ان تمام جائز امور کی اجازت دیتا ہے جس میں اس کی ناموس شرم وحیاموجود اورعفت وعصمت محفوظ ہو اور خواتین ان حدودکی پاسدارہوں جودین اسلام نے اس کے لئے مقرر کئے ہیں تووہ جس مقام پر فائز کر دیں گیئںجو ان سے وہ مقام چھیننے کی کوشش کرے اسں کے مقابلے میں اسلام میدان میں سربکف نکل آتا ہے۔
یہ مبرہن حقیقت ہے کہ مرد کے بغیر عورت اور عورت کے بغیر مرد کی بقا کا تصور ہی نہیں ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ مرد کو قدرت نے کچھ معاملات میں فوقیت بخشی ہے جو فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ دوسری جانب وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ کی بات بھی عورت کی اہمیت کا اظہار کرتی ہے ۔ بہرحال ہر دو کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے اور بقائے باہمی، شرعی حدود میں رہنا اور احکامات الہی کی پابندی کرنے میں ہی مضمر ہے ۔ آزادی کے نام پر خلاف فطرت زندگی گزارنے کی کوشش ہی ساری تباہیوں کا باعث بنی ہے ۔ آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو تاخیر سے ہی سہی یہ احساس ہونے لگا ہے کہ انہوں نے محض اسلام دشمنی کے جنون میں جو کچھ کیا وہ آج انہی کے گلے کا پھندہ بن گیا ۔ شیطانی پیروی کے شکار افراد میں تاخیر سے سہی غلطی کا احساس ہوا یہ ایک خوش آیند بات ہے۔اس مختصرگفتگوکاماحصل یہ ہے کہ نام نہادحقوق نسوان کی ڈگڈگی کے بجائے نسوان کوبیک ٹوہوم کی تحریک کی ضرورت ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker