Baseerat Online News Portal

مآب لنچنگ اور جئے شری رام کے نعرہ کے بہانے مسلم نوجوانوں کا قتل عام، جمہوری ملک کیلئے شرمناک: نظرعالم

سیکولر پارٹیوں کی خاموش حمایت سے ملک کے مسلمانوں کیخلاف آر ایس ایس، بھاجپا اور شدت پسند ہندو تنظیموں کا حوصلہ بلند: بیداری کارواں

 

 

دربھنگہ۔9 جون پریس ریلیز۔

ادھر کچھ دنوں سے پھر ملک کے کئی حصوں میں مآب لنچنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں جس میں اُترپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان وغیرہ سرفہرست ہیں۔ وقفے وقفے سے کبھی گائے کے نام پر تو کبھی جئے شری رام کا نعرہ لگانے تو کبھی دہشت گردی کے جھوٹے منگڑھت الزام کی بنیاد پر بھیڑ کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ مرکز اور ریاست کی بھاجپا حکومتوں مانو خود کو مسلم مخالف بن کر سازش کے تحت ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی مسلمانوں کو کمزور کرنے، دہشت زدہ کرنے، تعلیم اور روزگار سے مسلم نوجوانوں کو دور رکھنے اور دوسرے درجے کا شہری بناکر جینے کو مجبور کردینے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ حالاں کہ اگر بھاجپا، آر ایس ایس اور شدت پسند ہندو تنظیمیں ایسا کرتی ہیں تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں، کیوں کہ مسلمان انہیں کبھی سیکولر نہیں مانتے اور نہ ہی ووٹ دیتے ہیں۔ اس لئے ان کی مسلمانوں سے دشمنی اور نفرت کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے مگر خودکو سیکولر بتانے والی سیاسی پارٹیاں، جو ہمیشہ سے مسلمانوں کے ووٹوں سے سیاسی کرسیاں حاصل کرتی رہی ہیں آخر وہ کیوں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ کیا ان کی غیرت اور ضمیر مرچکی ہے۔ بھاجپا کی اس طرح کی حرکت سے نہ صرف مسلم سماج میں بےچینی ہے بلکہ جمہوری ملک کیلئے بھی بیحد شرمناک معاملہ ہے۔ اُترپردیش میں اسمبلی انتخاب کا جیسے جیسے وقت قریب آرہا ہے مسلمانوں کو ٹارگیٹ کر ووٹوں کی گندی سیاست شروع ہوچکی ہے۔ مذکورہ باتوں پر اظہارخیال کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدر نظرعالم نے کہا کہ ملک میں اب ایسا معلوم پڑتا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کا وجود ختم ہوتا جا رہا ہے۔ بھاجپا اپنی مرضی سے جو من میں آرہا کررہی ہے اسے اپوزیشن کی پارٹیاں روکنا تو دور اس کی مضبوطی سے مخالفت تک نہیں کرپارہی ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیاں جو خودکو سیکولر کہتی ہیں جان بوجھ کر سافٹ ہندوتوا کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں تاکہ مسلمانوں کے اندر بھاجپا، آر ایس ایس اور ہندو شدت پسند تنظیموں کا خوف اتنا بھردیا جائے کہ وہ ڈرکر انہیں ہی ووٹ دیتے رہیں۔ نظرعالم نے صاف لفظوں میں کہا کہ آزادی کے بعد سے ملک ہندوستان کے مسلمان سیکولر پارٹیوں کو ہی ہمیشہ ووٹ دیتے آرہے ہیں اس لئے نہیں کہ مسلمانوں کے لئے یہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں کچھ خاص کریں گی بلکہ اس لئے کہ جمہوریت کو بچائے رکھا جائے، ملک ذات مذہب کے نام پر کمزور نہ ہو، لیکن یہ نام نہاد پارٹیوں نے مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے خلاف ہمیشہ اپنی زبانیں بند رکھیں بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سبھی پارٹیاں خاموش حمایت دیکر ان شدت پسندوں کو مزید حوصلہ دینے کا کام کررہے ہیں۔ نظرعالم نے بتایا کہ اب ملک کے مسلمانوں کو کوئی بھی نام نہاد پارٹیاں سیکولرازم کے نام پر بے وقوف نہیں بنا سکتی بلکہ جو مسلمانوں آزادی کے بعد سے اب تک اپنے بارے میں نہیں سوچا، اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچا، سیاسی حصہ داری، روزگار، تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر ہورہے طرح طرح کے مظالم کے خلاف کبھی ٹھوس اقدامات نہیں کئے اب وہ ان سب چیزوں پر سوچنے اور غور کرنے لگے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری، تعلیم، روزگار اور تحفظ کے علاوہ سیاست میں برابری کی حصہ داری کی بات کو لیکر ٹھوس حکمت عملی اپنانے جارہے ہیں جس کا اثر جلد سرزمین بہار سے دکھائی دینے لگے گا۔ نظرعالم نے کہا کہ مسلمانوں کے جو بھی اہم مسائل ہیں بغیر اس پر ٹھوس معاہدے اور اقدامات کئے بغیر کسی بھی نام نہاد سیکولر سیاسی پارٹیوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور نہ ہی مسلمان کسی سیاسی پارٹیوں کی بھاجپا کے ڈر سے حمایت کرے گی۔ نظرعالم نے کہا کہ حال میں جس طرح سے ہورہے مآب لنچنگ اور جئے شری رام کے نعرہ کو بنیاد بناکر مسلم نوجوانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اگر اس پر سیکولر پارٹیوں خاص کر اپوزیشن کی ساری پارٹیوں نے روک نہیں لگایا اور مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے تو آگے کی لڑائی اپنے دم پر مسلم سماج لڑنے کو تیار ہے۔

You might also like